گورنر سندھ کے تبادلہ کی وجہ کیا بنی ؟
آج کا اداریہ
صدر مملکت آصف زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سفارش پر نہال ہاشمی کی بطور سندھ کے گورنر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔
قبل ازیں وزیرِ اعظم ہاؤس نے جمعرات کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ شہباز شریف نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک سمری منظوری کے لیے صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی گئی ہے۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے نہال ہاشمی سے ملاقات کی اور انھیں ’گورنر سندھ کی تعیناتی پر مبارکباد‘ دی۔
مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی پہچان متوسط طبقے سے تعلق اور نواز شریف کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے۔
وہ اُس وقت بھی مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے جب سنہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد پرویز مشرف اقتدار میں آ چکے تھے اور سندھ، بالخصوص کراچی میں نواز شریف کی جماعت کے نام لیوا بہت کم تھے اور جو تھے وہ یا تو جیل میں تھے یا جیل جانے سے بچنے کے لیے چھپتے پھرتے تھے۔
ایسے وقت میں نہال ہاشمی، جو کراچی کی ذیلی عدالتوں میں وکالت کرتے تھے، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں نواز شریف کی عدالت حاضری کے وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے
نہال ہاشمی نواز شریف کے قریب تو بہت تھے لیکن کبھی بھی ان کے سنجیدہ مشاورتی حلقے میں شامل نہیں رہے۔ اس کی وجہ ان کے مزاج کا جذباتی پن بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی میٹنگز میں بھی بعض اوقات ایسی بات کر جاتے جس پر ان کے علاوہ شرکا کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔
یہی جذباتی پن بالآخر ان کے جیل جانے کا باعث بنا۔
فروری 2018 کے دوران سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
انھیں پانچ برس کے لیے کوئی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نا اہل بھی قرار دیا گیا
پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کی تائید کی جبکہ دوسری اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ترجمان سعدیہ جاوید نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے گورنر کی تقرری کا فیصلہ وفاقی حکومت کا استحقاق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عام انتخابات کے بعد پی پی پی اور ن لیگ میں سمجھوتہ ہوا تھا کہ دو صوبوں میں پیپلز پارٹی اور دو صوبوں میں ن لیگ کے گورنر ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’تین صوبوں میں اس انڈرسٹینڈنگ پر عمل ہو گیا تھا، ہمارا تو مطالبہ تھا کہ سندھ میں بھی عمل کیا جائے۔‘
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی نہال ہاشمی کی تقرری پر ان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’نہال ہاشمی اپنے سیاسی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم مسلم لیگ ن کی حلیف جماعت ہے اور گورنر کا ایک آئینی عہدہ اس کا حق ہے جس سے محروم کیا جا رہا ہے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ایسے یکطرفہ فیصلے کے بعد ان کی جماعت کے حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں، ’ہمیں فی الفور وفاقی حکومت سے باہر آ جانا چاہیے۔‘
فاروق ستار کے مطابق یہ روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم کا ہوتا ہے۔
کامران ٹیسوری کو ہٹانے کی فوری وجہ کچھ دن پہلے گورنر ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب سمجھا جارہاہے اس تقریب میں وفاق سے کراچی کے معاملات میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات بھی کی گئی تھی
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ایم کیو ایم پاکستان سے مشاورت ہوئی تھی اور وہ ’ہماری ایک اہم اتحادی جماعت ہے، جس کے تحفظات ہم دور کریں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے نامزد گورنر نہال ہاشمی سے ملاقات میں ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو بھی دعوت دی گئی تھی۔
’لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اس ملاقات میں نہیں آ سکتے کیونکہ وہ کراچی میں ہیں۔‘
سندھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ ایم کیو ایم پاکستان حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی پر عمل کرے گی۔ایم کیوا یم پاکستان اب پہلے جیسی طاقت نہیں رکھتی۔ وہ ماضی میں بھی ایسے بیانات دیتے رہے ہیں لیکن انھوں نے کبھی عمل نہیں کیا۔‘
’آپ آج ہی کی مثال لے لیں گورنر کی تبدیلی کے بعد نہ کوئی بڑی پریس کانفرنس ہوئی اور نہ ہی کوئی ہنگامی اجلاس ہوا، صرف ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے ایک بیان آیا جو کہ کامران ٹیسوری کے ذاتی دوست بھی ہیں۔‘ایم کیو ایم پاکستان اس وقت کوئی سخت فیصلہ لینے کی پوزیشن میں اس وقت ایم کیو ایم پاکستان میں دو آرا پائی جاتی ہیں، ایک یہ کہ گورنر کو ہٹانے کے فیصلے کے خلاف حکومت سے الگ ہوا جائے، دوسری رائے یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے وزیر اپنے عہدوں سے استعفے دے دیں۔
’ایم کیو ایم اپنا احتجاج تو ریکارڈ کرائے گی لیکن حکومت کی مخالفت نہیں کرے گی۔‘






