#کالم

اقوامِ متحدہ اور امّتِ منتشرہ : تاریخی و ارتقائی جائزہ پہلی قسط

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

اقوامِ متحدہ نے 1945 میں لِیگ آف نیشنز کی مردہ ہوتی کوکھ سے جنم لیا اور مبینہ طور پر اس کا بنیادی مقصد تیسری عالمی جنگ کو رکوانا تھا جس میں بظاہر یہ ادارہ اب تک قائم ہے ۔ اتفاق سے عربی اس کی سرکاری زبانوں میں شامل ہونے کے باوجود کوئی بھی عرب ملک سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے سے محروم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عرب اقوام کے زوال کے بعد پہلے عثمانی ترک اور پھر برطانیہ ان کے حکمران رہے ۔ پہلی جنگِ عظیم سے پہلے اور بعد میں سعودی عرب کے مرکز سے پرے کئی اور قبائلی ریاستیں اور پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد کچھ ایسی ہی کچھ اور چھوٹے چھوٹے ممالک میں بانٹ کر جزیرہ نما عرب کی نئی جغرافیائی حدود متعین کر دیں ۔یوں صدیوں تک متحد رہنے والی اور تین برِ اعظموں پر حکمرانی کرنے والی عرب قوم بہت سی چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں منقسم ہو گئی اور غالباً اس کی لوحِ فکر سے
“ پدرم سلطان بود” کی عبارت بھی ہمیشہ کے لیے مٹا دی گئی ۔
اس سارے سیاسی کھیل کا بنیادی مقصد عربوں کو تقسیم رکھتے ہوئے بھی عرب قومیت پرستی کے تعصّب کو بھی برقرار رکھا جائے تاکہ کسی بھی شکل کا عالمی اتحادِ اسلام کی تحریک
Pan Islamic Movement
تشکیل نہ پا سکے ۔اس بابت جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال وہ آخری ہستیاں تھیں جو یہ خواب دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔اُدھر “ عثمانیوں پر کوہِ غم “ ٹوٹنے سے پہلے ہی مغربی پیوندکاری شدہ ترک قومیت پرستی راسخ ہونے لگی تھی لیکن یہی ان کی قوت بھی بنی ۔ ایران پر پہلوی سلطنت نے قدیم ایرانی قوم پرستی کو مضبوط تر کیا اور ترکیے کی طرح یہ بھی مثبت قومیت کی صورت پہلے سیکولر اور پھر مذہبی شناخت کے ساتھ قائم رہی ۔ افغانستان تو شاید بڑی طاقتوں اور حملہ آوروں کے لیے سیاسی راہداری بننے کی قسمت لیے پیدا ہوا تھا ، سو اسی خدمت پر مامور ہے ۔
بیسویں صدی سے شروع ہوتا یہ عالمی سیاسی منظرنامہ رفتہ رفتہ اس اقوامِ متحدہ کی بساط بن گیا جس کے سب سے فعال ادارے سلامتی کونسل کے اراکین باہمی رقابت کے باوجود اس بات پر متحد رہتے تھے کہ بساط کے مہرے ان کے قابو میں رہیں ۔ چین کے استثنا کے ساتھ یوں بھی دیگر چار سفید فام رکن تھے ، سو چین کے عزائم باقی سپر پاورز سے غالباً اسی بنا پر مختلف بھی رہے ۔ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کے باشندے کئی عشروں تک اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ اقوامِ متحدہ کوئی بہت مؤثر ، منصف مزاج اور طاقتور ادارہ ہے جو دنیا میں امن ، سلامتی، خوشحالی اور انصاف وغیرہ قائم کرنے کے لیے بنا ہے ۔ اہلِ دانش کی ایک نہایت مختصر اقلیت کو البتہ “ اندرونی کہانی “ کا خوب ادراک تھا کہ ویٹو کے توسّل سے ایسا ہونا نا ممکن تھا کہ مختلف سپر پاورز کسی بھی تنازعے کی صورت میں عدل و انصاف کی حقیقی روح کا نفاذ کر کے یہ ثابت کریں “ انصاف نہ صرف ہونا چاہئیے بلکہ واضح طور پر دکھائی بھی دینا چاہئیے :
Justice should not only be done , it should also be seen to be done .
چنانچہ بیشتر بین الاقوامی تنازعات اور علاقائی جنگوں میں سلامتی کونسل کے کردار پر اکثر اعتراضات کا اٹھایا جانا منطقی تھا ۔

اقوامِ متحدہ اور امّتِ منتشرہ : تاریخی و ارتقائی جائزہ پہلی قسط

13/03/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے