مٹی کے پتلوں کی خودسری۔۔۔
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرعون ،نمرود اور شداد نشان عبرت بن کر دنیا سے رخصت ہو گئے، سکندر اعظم بھی فاتح عالم کہلایا لیکن ایک مچھر کے حوالے سے زندگی ہار گیا، ہٹلر نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا پھر بھی نہ رہا، کوئی نہیں جانتا کہ اس کی زندگی انجام کو کیسے پہنچی ؟مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومت کی اور غداروں نے سلطنت عثمانیہ کو زمین بوس کر دیا، امریکہ بہادر نے جاپان کی خودسری دیکھی تو گھبرا کر٫٫ ایٹم بم ،،مار دیا، ہیروشیما اور ناگا ساکی راکھ کر دیے، نسلوں کا نقصان ہی نہیں ہوا ،تابکاری اثرات آ ج تک نہ صرف پائے جاتے ہیں بلکہ معذوری کا باعث بنے ہوئے ہیں ،اس عالمی سانحہ سے یہ سوچ ابھری کہ سلامتی اور بقا کے لیے ایٹمی طاقت بنا جائے ،اس وقت پاکستان سمیت سات ممالک اس جوہری طاقت کے مالک ہیں عالمی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے ریاستی سلامتی ہر کوئی یہ حدف حاصل کرنے میں حق بجانب ہے پھر بھی اس اسلامی ممالک کے لیے گنجائش موجود نہیں، پاکستانی قوم خوش قسمت ہے کہ اس کا پہلا منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو یہ سوچ اور بنیاد دے کر پھانسی چڑھ گیا کہ اگر یہ ٫٫ٹارگٹ،، تم نے حاصل نہ کیا تو ذلیل ورسوا ہو جاؤ گے ،یہ کام کر گزرنا۔۔ چاہیے تمہیں جینے کے لیے گھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے ؟ہم نے گھاس تو نہیں کھائی لیکن دنیا کی پابندیاں برداشت کرتے ہوئے دھمکیوں، پریشانیوں اور عبرتناک نتائج کی پرواہ کیے بغیر یہ کارنامہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں انجام دے کر دنیا کو حیران کر دیا، مٹی کا پتلا آ دم زادہ ہمیشہ سے ہی خود سر ہے لہذا اس تاریخی موقع پر بھی اس ٫٫ایٹم بم کہانی،، میں ابہام پیدا کیا گیا لیکن سچ ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا ہے لہذا تمام مشکلات اور امتحان کے بعد بھی اس کا کریڈٹ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو نہیں مل سکا ،پھر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نہ صرف کٹھن امتحان سے گزرنا پڑا بلکہ زندگی کے آ خری لمحات تک امتحان در امتحان سے گزرے تاہم ان کی ٹیم اور ہمارے قابل فخر سائنس دانوں نے ایسی میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی کہ آ ج پاکستان ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور سال گزشتہ اس نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو ایسی خاک چٹائی کہ ابھی تک وہ اپنے زخم چاٹ رہا ہے دنیا کے 200 سے زائد ممالک اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن ان میں 56 اسلامی ہیں جن میں پاکستان واحد ایٹمی طاقت ہے اور اس کے دو ہمسائے انقلاب کے ذریعے اسلامی مملکت ہونے کی دعویدار ہیں ایران نے امریکی پٹھو شاہ ایران کو امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کے ذریعے بھگایا جبکہ افغانستان میں امریکہ بہادر مقامی جنگجوؤں اور حالات سے گھبرا کر دوڑے اور وہاں امارات اسلامی افغانستان کا وجود عمل میں آ یا لیکن افغانیوں کی بے سر و سامانی اور خود سری میں ابھی تک وہاں استحکام نہیں آ یا بلکہ سرزمین افغانستان اپنے محسن پاکستان کے لیے دہشت گردوں کی نرسری بن گئی جس کا برملا پاکستان نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ افغان طالبان حکومت کو مقامی اور عالمی سطح پر شواہد دے کر افغانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا ،دوست ممالک نے بیچ بچاؤ کے لیے مذاکراتی بیٹھک کا اہتمام بھی کیا لیکن افغانستان نے یقین دہانیوں کے باوجود ازلی دشمن بھارت کے ساتھ امن معاہدہ کر کے بھارتی پراکسی وار تیز کر دی، دوسری جانب ایران اور اس کے رہبر معظم نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے غزہ کے ظلم و جبر اور بربریت کے خلاف آ واز اٹھائی تو اسرائیل اور امریکہ بہادر غضب بن کر اس سے ٹکرا گئے ،اس ٹکراؤ میں الزام جوہری پروگرام کا لگا ، ایران کے اعلی عسکری قائدین اور اہم ترین سائنسدان نشانہ بنائے گئے ایرانیوں نے بھاری نقصان کے باوجود اپنے موقف میں ذرا برابر نہ تبدیلی کی اور نہ ہی کسی خوف اور پسپائی کا تاثر دیا بلکہ پرعزم ہو کر سخت موقف کا اعادہ کیا تو صرف آ ٹھ ماہ بعد مٹی کے پتلے یتن یاہو اور ٹرمپ پھر خود سر ہو گئے انہوں نے کمال مکاری سے ایک جانب مذاکرات شروع کیے اور دوسری طرف موساد و سی۔ آ ئی۔ اے کے ایجنٹوں کے ذریعے رہبر معظم اور پاسداران کی نگرانی شروع کر دی، وقت کے فرعونوں کا خیال تھا کہ اگر رہبر ہلاک کر دیا جائے تو ان کا رجیم چینج منصوبہ کامیاب ہو جائے گا ،خود سری میں کر گزرے لیکن نتائج برعکس نکلے قوم پہلے سے بھی زیادہ منظم ہو گئی اس لیے کہ ایرانی جنگجو ہیں اور ان کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے وہ لڑنا بھی جانتے ہیں اور انتقام لینا بھی، شہادت سے پہلے رہبر نے قوم کو یہی پیغام دیا کہ میں جانتا ہوں کہ ایرانی بدلہ لینا جانتے ہیں، میں ضعیفی میں شہید بھی کر دیا جاؤں تو کوئی غم نہیں، ہم مر کر بھی زندہ رہیں گے اور دنیا کے خود سر فرعون اور یزید کی طرح زندہ رہ کر بھی ذلیل و رسوا اور بےعزت رہیں گے غداروں کی مخبری پر وقت شہادت آ یا، زندگی کا اختتام ہو گیا غداروں نے ان کی تصویر فوری طور پر خود سروں یاہو اور ٹرمپ کے حضور پیش کر دی لیکن یہ تصویر حسرت و یاس کی ہرگز نہیں بلکہ اس پر غور کریں تو لکھا دکھائی دے گا، ظالمو۔۔۔ میں ہارا نہیں، نہ ہی بھاگا، میری دستار کے ساتھ میرا سر بھی موجود ہے
رہبر معظم قائد انقلاب امام خمینی کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے، اسلامی انقلاب کی جدوجہد ،قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں بلکہ حملے میں ایک ھاتھ بھی ضائع ہو گیا، صدارتی عہدے پر بھی منتخب ہوئے لیکن 37 سال رہبر معظم بننے کے بعد کبھی ایک روز کے لیے بھی ایران اور قوم سے دور نہیں رہے یعنی 37 سال وہ ایک لمحے کے لیے بھی ملک سے باہر نہیں گئے، 1939 میں تہران میں پیدا ہوئے اور 2026 میں قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسی شہر میں شہید کر دیے






