لاشعور سے شعور تک معراجِ انسانیت کا سفر
تحریر: ارشد شاہد
بابائے علمِ نفسیات، سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی ذہن کی پرتوں کو ایک ایسے سمندر سے تشبیہ دی ہے جس کی سطح پر نظر آنے والی لہریں محض ایک دھوکہ ہیں جبکہ اصل وسعتیں گہرائیوں میں روپوش ہیں۔ انسانی ادراک تین حصوں میں منقسم ہے: شعور، تحت الشعور اور لاشعور۔ شعور وہ روشن دریچہ ہے جس سے ہم حال کی دنیا کا نظارہ کرتے ہیں۔ یہ ان خیالات اور احساسات کا مجموعہ ہے جن سے ہم لمحہ موجود میں باخبر ہیں۔ اس کے برعکس، تحت الشعور ذہن کی وہ انتظار گاہ ہے جہاں ایسی یادیں محوِ استراحت ہیں جو اس وقت تو سامنے نہیں مگر ذرا سی توجہ کی دستک پر شعور کے دربار میں حاضر ہو سکتی ہیں۔ تاہم انسانی شخصیت کا اصل کردار لاشعور کے تاریک اور پُراسرار غاروں میں تخلیق پاتا ہے۔ یہ ان دبی ہوئی نفسانی تمناؤں، بھلائے گئے زخموں اور جبلتوں کا مسکن ہے جنہیں شعور نے اپنی تہذیبی اخلاقیات کے باعث جلاوطن کر دیا تھا۔ فرائیڈ کے نزدیک یہ نفسانی خواہشات مٹتی نہیں بلکہ پسِ پردہ رہ کر انسانی کردار کے تانے بانے بنتی ہیں۔ یہ وہ خاموش حکمران ہے جو ہماری پسند و ناپسند، خوف و جنون اور اخلاق و کردار کی راہیں متعین کرتا ہے۔
انسانی لاشعور کی وسعت محض انفرادی محرومیوں تک محدود نہیں رہتی۔ مشہور ماہرِ نفسیات کارل یونگ اس تصور کو ایک نئی کائناتی جہت عطا کرتا ہے جسے وہ "اجتماعی لاشعور” کا نام دیتا ہے۔ یونگ کے نزدیک ہمارا ذہن محض ایک کوری تختی نہیں، بلکہ یہ نوعِ انسانی کے ہزاروں سالہ سفر کا امانت دار ہے۔ جس طرح ہمیں اپنے اسلاف سے رنگ و نسل اور جسمانی ساخت ورثے میں ملتی ہے بالکل اسی طرح تجربات، اساطیری نقوش، اخلاقی رحجانات، جرات و بہادری اور بزدلی و خوف بھی ہماری روح کے ڈی این اے میں نقش ہوتے ہیں۔ یہ "نسلی یادداشتیں” وہ قدیم چراغ ہیں جو ہر انسان کے اندر لاشعوری طور پر روشن ہیں اور جب انسان اپنے کسی عمل سے غیر معمولی شجاعت یا اخلاقی بلندی کا مظاہرہ کرتا ہے تو دراصل وہ اسی قدیم و موروثی ورثے کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے جو اسے اپنے آباؤ اجداد سے مُنْتَقِل ہوا ہے۔ اس طرح لوگوں کے اچھے برے اخلاق و کردار کو ان کے آباؤ اجداد کے اخلاق و کردار کا عکاس تصور کیا جاتا ہے۔
شعور اور لاشعور کے مابین حائل یہ ننھا سا لفظ "لا” محض ایک لسانی صوتیہ نہیں بلکہ کائناتِ ذات کی تسخیر کا وہ سنگِ میل ہے جہاں انسانیت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ "لا” نفی کی وہ تلوار ہے جو اگر نفس کی سرکشی پر چلے تو کندن بناتی ہے اور اگر بصیرت پر پڑے تو اندھیرا کر دیتی ہے۔ کائناتِ جاں کے اس خارزار میں یہ "لا” دراصل نفی اور اثبات کا وہ نازک ترین نقطہ ہے جہاں سے معرفت کی روشنی پھوٹتی ہے۔ جب انسان اپنی انا کے فرعون، غصے کی تپش اور نفسانی خواہشات کے غلبے کو "لا” (نہیں) کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی حیوانی جبلتوں کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ "لا” محض حرف نہیں بلکہ روح کا وہ احتجاج ہے جو خاک کے پتلے کو نورِ بصیرت سے ہمکنار کرتا ہے۔
جس لمحے نفی کا یہ عمل جلیل تکمیل کو پہنچتا ہے باطن کے نہاں خانوں میں شعور کی شمع فروزاں ہو جاتی ہے۔ یہ وہ نورِ مبین ہے جو انسان کو پستی کی ظلمتوں سے نکال کر رفعت کے اس مقامِ محمود پر فائز کر دیتا ہے جسے خالقِ کائنات نے "اشرف المخلوقات” کے تاج سے سرفراز کیا۔ یہی وہ منزلِ عشق ہے جہاں خودی، خود پسندی کے بتوں کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ صبر، اشتعال کی تمازت کو نگل لیتا ہے۔ صدق، کذب کے نقوش مٹا دیتا ہے۔ عفو و درگزر، انتقام کی بھڑکتی آگ پر شبنم بن کر گرتا ہے۔ محبت، نفرت کی غلاظت کو دھو ڈالتی ہے۔ تکریم انسانیت، تذلیلِ انسانیت کے ہر زخم کا مداوا بن جاتی ہے۔ شائستگی، بداخلاقی کے آگے ڐهال بن جاتی ہے۔ نیکی، بدی کی بساط الٹ دیتی ہے اور حق، باطل کے سورج کو ابدی غاروں میں غرق کر دیتا ہے۔ اسی لمحے روح مٹی کے اس قفسِ عنصری سے آزاد ہو کر اپنے اصلِ قدیم اور منصبِ عظیم کو پہچان لیتی ہے۔ حقیقت میں انسان کا امتحان اسی حرفِ "لا” کی رمز سمجھنے میں ہے۔ جس نے نفی کی حقیقت کو پا لیا، اس نے اثباتِ حق کی منزل پالی۔ جو اپنی انا کی فرعونیت کو "لا” کہہ گیا وہی کائنات کے ابدی شعور میں بقائے دوام پا گیا۔ یہی وہ مقام تکریم و تقدیس ہے جہاں مٹی کا یہ پتلا معراجِ انسانیت حاصل کر کے فرشتوں سے بھی سبقت لے جاتا ہے۔ بقول الطاف حسین حاؔلی:
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ






