#کالم

امت کی غیرت کا آخری امتحان

Untitled 6

ڈیرے دار سہیل بشیر منج

تاریخ کے ماتھے پر یہ سیاہ ترین باب اس وقت رقم ہوا جب امتِ مسلمہ کے قلب میں خنجر گھونپنے کے لیے اغیار نے اپنوں ہی کی زمین اور اپنوں ہی کی فضاؤں کو ڈھال بنایا یہ محض ایک فوجی حملہ نہیں ھے بلکہ عالمِ اسلام کی غیرت، خودداری اور حاکمیت پر ایک ایسا کاری وار ھے جس نے مسلم امہ کے اتحاد کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کتنا بڑا المیہ ہے کہ جن حکمرانوں نے بظاہر امریکہ کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کرنے کی نوید سنائی تھی انہی کی دہلیز سے گزر کر موت کے پرندے ایران کی بستیوں پر قہر بن کر ٹوٹے اگر سپر پاور نے ان کی نام نہاد ‘پابندی’ کو پاؤں تلے روند ڈالا تو یہ ان ریاستوں کی خودمختاری کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس کے بعد ان کی بقا کا اخلاقی جواز ہی ختم ہو جاتا ہے جب غیر کے جوتے تمہاری سرحدوں کو پامال کر رہے ہوں اور تمہاری خاموشی اسے خاموش رضامندی دے رہی ہو تو پھر یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے؟
​جس امریکہ نے تمہاری مصلحت آمیز التجاؤں کو ٹھکرا کر تمہاری ہی چھت استعمال کی اسے اب بھی اپنے گھر میں مہمان بنا کر رکھنا کیا کھلی بے غیرتی نہیں؟ کیا اسلامی حمیت اور اسلاف کی غیرت کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ اس ذلت کے بعد ان کی فوجی چھاؤنیوں کو یہاں سے اکھاڑ پھینکا جاتا؟ آج فلسطین سے ایران تک گرنے والا خون کا ہر قطرہ ان محل نشینوں کے دامن پر ایک ایسا داغ ہے جسے تاریخ کا کوئی آبِ زمزم نہیں دھو سکے گا تم نے اپنے ہی بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کو راستہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ تمہارے نزدیک اقتدار کی کرسی کی بقا، دین اور ملت کی لاج سے کہیں زیادہ عزیز ہے
اے منصبوں کے اسیر حکمرانو! یاد رکھو کہ تاریخ کبھی بزدلوں کو معاف نہیں کرتی اور جو قومیں اپنے ہی وجود پر ہونے والے حملوں پر مصلحت کی چادر اوڑھ لیں وقت انہیں نشانِ عبرت بنا دیا کرتا ہے آج اگر غیرتِ ایمانی کا لہو تمہاری رگوں میں نہیں دوڑتا تو کل تمہاری اپنی سرحدیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی کیونکہ جو شکاری دوسرے کے لیے راستہ بناتا ہے وہ جلد یا بدیر خود بھی اسی جال کا شکار ہو جاتا ہے

آتش و آہن کے اس ہولناک معرکے میں ایران کی سرزمین پر اسرائیل کے ‘ایرو-3’ (Arrow-3) اور ‘ڈیوڈ سلنگ’ جیسے جدید ترین میزائل نظاموں نے قہر برسانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دفاعی تنصیبات اور کچھ حساس مراکز کو مادی نقصان تو پہنچا لیکن تہران کی استقامت کے سامنے یہ وار اپنی پوری کاٹ نہ دکھا سکے جواب میں ایران نے جب اپنی ‘خیبر شکن’ اور ‘فتاح’ ہائپرسونک میزائلوں کی زبان میں گفتگو کی تو تل ابیب کے دفاعی حصار ‘آئرن ڈوم’ کی حقیقت ریت کی دیوار ثابت ہوئی صیہونی ریاست کے کئی فوجی ہوائی اڈے اور انٹیلی جنس مراکز شعلوں کی نذر ہوئے جبکہ امریکی بحری بیڑوں اور مشرقِ وسطیٰ میں قائم ان کے اڈوں پر لرزہ طاری رہا یہ محض میزائلوں کا تبادلہ نہیں تھا بلکہ اس تکبر کی شکست تھی جو ٹیکنالوجی کے زعم میں انسانیت کو کچلنے نکلا تھا اسرائیل کا جانی و مالی نقصان محض اعداد و شمار کا محتاج نہیں بلکہ اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا وہ بت پاش پاش ہو چکا ہے جو دہائیوں سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا تھا
​مستقبل کے افق پر اسرائیل اور امریکہ کی بربادی کی داستان اب کسی دیومالائی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ نوشتہ دیوار بن چکی ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم اپنی حد سے گزرتا ہے تو خود اپنے ہی بوجھ سے فنا ہو جاتا ہے ان کی تباہی کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے معصوموں کے لہو سے ہولی کھیل کر پوری دنیا کی نفرت کو دعوت دی امریکہ کی معاشی سلطنت اندرونی خلفشار اور عالمی تنہائی کے گرداب میں پھنس چکی ہے جبکہ اسرائیل اپنی بقا کی جنگ ہارنے کے قریب ہے ان کی بربادی کی داستان مظلوموں کی آہوں، غیرت مند قوموں کے اتحاد اور اس فطری انصاف سے لکھی جائے گی جو ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ پیدا کرتا ہے وہ وقت دور نہیں جب ٹیکنالوجی کا یہ غرور مٹی میں ملے گا اور عدل کا وہ سورج طلوع ہوگا جس کی تپش میں یہ ظالم سلطنتیں موم کی طرح پگھل جائیں گی یہ زوال ناگزیر ہے کیونکہ حق کی ایک جنبش باطل کے ہزاروں سالہ اقتدار کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی طاقت رکھتی ہے
​تاریخ کے اس لہو رنگ موڑ پر رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کا سایہ چھن جانا عصرِ حاضر کا وہ المیہ ہے جس نے استقامت کے چراغ گل کر دیے ان مقدس قطروں نے زمین کو وہ سرخی دی ہے جو ظالموں کی نیندیں حرام رکھے گی لیکن افسوس ان مسلم ریاستوں پر ہے جو مصلحت کی چادر اوڑھ کر تماشائی بنی بیٹھی ہیں یاد رکھو جب تم نے اپنے بازو کٹتے دیکھے اور خاموش رہے تو اگلی باری تمہاری گردنوں کی ہے کیونکہ صیہونی درندگی کسی جغرافیے کی محتاج نہیں آج اگر تہران میں صفِ ماتم ہے تو کل تمہارے پرتعیش ایوان بھی اسی آگ کی لپیٹ میں ہوں گے کیونکہ جس دشمن کو تم نے بھائی کے خون سے پالا وہ وفا کا صلہ سنگدلی سے دے گا یہ وقت بزدلانہ خاموشی توڑنے کا ہے ورنہ تاریخ تمہیں ان مغلوب قوموں میں لکھے گی جنہوں نے ذلت کو شہادت پر ترجیح دی
​افقِ عالم پر یہ خونی بادل اس طوفان کا اعلان ہیں جو استعماری بتوں کو پاش پاش کر دے گا امریکہ اور اسرائیل کی نمرودی طاقت جس تکبر میں انسانیت کا لہو بہا رہی ہے وہی ان کی غرقابی کا سامان بنے گا یہ چنگاری اس عالمی جنگ کو بھڑکائے گی جس کی تپش سے واشنگٹن اور تل ابیب موم کی طرح پگھل جائیں گے جب ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے

امت کی غیرت کا آخری امتحان

سو لفظوں کی کہانی

امت کی غیرت کا آخری امتحان

رمضان اور ادبی تقریبات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے