طالبان تنصیبات پاک افواج کے نشانے پر
أج کا اداریہ
پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے درمیان جھڑپیں دوسرے ھفتے میں داخل ھوچکی ہیں جس دوران پاکستان نے اب تک طالبان کے 56 مقامات پر فضائی بمباری کی ہے۔
اگرچہ پاکستانی حکام نے بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت خوارزمی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ بگرام ایئر بیس پر حملہ ہواھے۔
پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں‘ کے علاوہ فوجی تنصیبات جیسے اسلحے کے ڈپو اور بٹالین ہیڈ کوارٹر پر حملوں کا سلسگہ جاری ھے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے کہا ھے کہ چھ روز سے جاری جھڑپوں کے دوران اب تک افغانستان میں افغان طالبان کے 464 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 188 چیک پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں، 31 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئی ہیں۔
تاحال پاکستان کی جانب سے جاری کارروائیاں روکنے کے حوالے سے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ نہیں دیا گیا تاھم افغان حکام نے ایک جانب جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا تو دوسری جانب یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوشش کی جائے تو ’بات چیت کے دروازے بند نہیں ہیں۔
طالبان کی عبوری حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اب تک پاکستان نے پکتیکا، پکتیا، خوست، کابل، ننگرہار، کنر اور قندھار میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 110 شہری ہلاک اور 123 زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں 350 سے زیادہ گھر جزوی یا مکمل تباہ اور 8400 خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔
ادھر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کے پاس افغانستان میں آپریشن شروع کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کیے جا رہے ہیں۔
نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پر انٹیلیجنس کی بنیاد پر فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اب تک افغانستان کی طرف سے کیے جانے والے حملوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، 27 زخمی ہیں جبکہ ایک لاپتہ ہے۔
چند روز قبل پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا تھا کہ افغانستان میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک طالبان شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلق ختم نہیں کرتے اور ان کے خلاف اقدامات نہیں کرتے۔
کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان وزارت دفاع کے ترجمان عنائت اللہ خوارزمی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے پاس اتنی قوت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے خلاف ‘جنگ جاری رکھ سکیں۔’
خوارزمی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی مزید کارروائی کی صورت میں ‘سخت ردِعمل’ دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں افغان حکام نے ایک جانب جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا تو دوسری جانب یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوشش کی جائے تو ’بات چیت کے دروازے بند نہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان افغان طالبان کی حکومت کو بار باردھشت گرد کروہوں کی مذموم سرگرمیوں بارے أگاہ کرتا رہا ہے اور باور کراتارہاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کو اس کا اندرونی مسئلہ گردانتے رہےہیں۔ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے شدت پسند پاکستان میں آ کر حملے کرتے ہیں اور افغان حکام انھیں روکیں۔ جبکہ افغان حکام اس کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔
ھفتہ بھر سے جاری جھڑپوں کی ابتدا میں پاکستان اور افغان طالبان سرحد پار ایک دوسرے کی چوکیوں پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ پاکستان نے افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔
مگر اب پاکستان کی جانب سے حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ افغانستان کے اندر عبوری حکومت کی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ جہاں ایک طرف ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیاں جاری ہیں تو وہیں بظاہر پاکستان بھی افغانستان کے اندر ایسے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے امن قائم ہو سکے۔ اسی لیے پاکستان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے ۔اس بار ٹی ٹی پی کی بجائے افغان طالبان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکی اسلحہ موجود ہے جو بڑا خطرہ ہے۔ ‘اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلحہ ختم کرنا ہے ۔کیونکہ خطے میں قیام امن کیلیے اب یہی راستہ بچا ہے۔






