سید آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خطہ پر اثرات ۔۔!!
تحریر و تجزیہ ۔ پیر مشتاق رضوی
میں نے اپنے گذشتہ کالم ” امریکہ ایران پر قابو پالے گا ؟ ” میں ان حقائق کی پیشگی نشاندھی کی تھی کہ "یہ امریکی ڈاکٹرائن کا حصہ ہے کہ بڑے پیمانے پر فضائی حملوں سے کسی بھی ملک کا انفراسٹرکچر اور سپلائی چین تباہ ہوجاتی ہے۔جب لیڈرشپ اور سپلائی برقرار نہ رہے تو پھر جو مرضی کرو اور ایران کے کیس میں بھی یہی ہوگا، کہ امریکہ بڑے پیمانے پر ائیر سٹرائیک کرے گا اور ایران میں موجود سینکڑوں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ دوبارہ انتشار پھیلایں گے، جسکے بعد ملک غیر مستحکم ہوجائے گا۔
یہی طریقہ واردات لیبیا اور اعراق کے ساتھ بھی ہوئی ہے اور یہی ایران کے ساتھ بھی کیا جارہا ہے اسی تناظر میں ایران کے سپریم کمانڈر کی شہادت سے امریکہ اور اسرائیل نے اپنا مطلوبہ بڑا ٹارگٹ حاصل کرلیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے موقع پر کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام یا میزائل صلاحیتوں کی تعمیر نو کی کوشش کرے گا تو خوفناک نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو ’انتہائی سخت اور خطرناک گروہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا ٹرمپ نے ایرانی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ بم گریں گے۔ جب ہمارا کام ختم ہو جائے، تو اپنی حکومت پر قبضہ کر لینا، یہ تمہاری ہوگی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کی میزائل انڈسٹری کو مٹی میں ملا دے گا۔ امریکہ ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ٹرمپ نے کہا تھاکہ امریکہ ایران کی موجودہ حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے
اب جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہوئے۔ ان کی شہادت پر ایران بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے ایرانی فوج نے سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ظلم کرنے والوں کو پتہ چل جائے گا کہ انقلابی کون ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا۔ تاہم، ایرانی حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے رہنما کی شہادت کا بدلہ لیں گے
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا ردعمل شدید ہونے کی توقع ہے اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے کہا ہے کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک جلد ایک عارضی لیڈر شپ کونسل تشکیل دی جائے گی، علی لاریجانی نے اعلان کیا کو
امریکا اور اسرائیل ایران کو لوٹنا اور ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں دو ظالم)امریکہ اور اسرائیل) اب ایرانی قوم پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، علی لاریجانی کے مطابق خطے میں موجود امریکی اڈے متعلقہ ممالک کی نہیں بلکہ امریکی سرزمین ہیں، علی لاریجانی نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہمارا مقصد پڑوسی ممالک پر حملہ کرنا ہرگز نہیں ہے جبکہ ایرانی فوج نے اس حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی دھمکی دی ہےایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے جواب میں جوابی کارروائیوں کا چھٹا مرحلہ شروع کر رہی ہے ایران اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملے کر سکتا ہے۔ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خلاف ایران بین الاقوامی محاذ کھول سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے ایران کا ردعمل شدید ہو گا اسرائیلی اور امریکی اڈوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے کے مسلم ممالک بھی عدم ستحکام کا شکار ہو سکتے ہیں سید آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے ایران کے سپریم لیڈر اور عالم اسلام میں اھل تشیع کے مذھبی پیشوا تھی ان کی شہادت کے بعد ایران میں امریکی فوجی کاروائیوں کے نتیجہ میں ممکنہ سیاسی تبدیلیاں ہوں گی یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں نئے تنازعے کا باعث بھی بنے گا کیونکہ ایران کے عدم استحکام ہونے سے اس کے ھمسائیہ ممالک اور مشرق وسطی’ بھی شدید متاثر ہو گا سید آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں سیاسی تبدیلی کے لیے امریکہ کی کارروائی کے بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں سیاسی تبدیلی کے لیے اپنی کارروائی جاری رکھے گا امریکہ پوری طاقت کے ساتھ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعدامریکہ اپنی پوری طاقت اور ریشہ دوانیوں کے ساتھ ایران میں عدم استحکام یا خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرے گا امریکہ خطے میں ممکنہ تزویراتی کارروائیوں کی آڑ میں امریکہ ایران میں مخالف گروہوں کی حمایت کرے گا تاکہ وہ ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف مزاحمت کریں۔مریکہ ایران پر مزید انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے تاکہ ایران کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے امریکہ ایران کے خلاف مزید ہولناک فوجی کارروائی کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایران کی حکومت امریکہ کے مفادات کے خلاف کوئی کارروائی کرےگی ایران اور ملت تشیع کے سپریم کمانڈر اور مذھبی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صرف ایران کی اندرونی تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ پورے خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جیساکہ اس ہفتہ پاکستان مین پٹرولیم کی مصوعات میں اضافہ ہوا ہے پاکستان سمیت جنوب ایشیا کے ممالک میں دھشت گردی بڑھنے کا خدشہ ہے ایران میں فوجی مداخلت کی آڑ میں امریکہ اور اسرائیل بھارت کے ساتھ ملکر پس پردہ بلوچستان میں فتنۀ الخوارجین اور دھشت گرد سرمچاروں کو سپورٹ کریں گے جبکہ دنیا میں تھوڑی بہت تجارت متاثر ہوگی ، لیکن اس کے برعکس اور بہت سے سنجیدہ سوالات ہیں جن پہ غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ایران میں اچانک اس سیاسی






