اقبال کی شاعری . مسلمانوں کی بیداری کا نقارہ
تحریر۔ جاوید نواز
برصغیر کی فکری اور روحانی تاریخ میں اگر کسی ایک آواز نے سوئی ہوئی ملت کے دل میں ارتعاش پیدا کیا، غلامی کی زنجیروں کو چیلنج کیا اور خودی کا چراغ روشن کیا تو وہ آواز علامہ محمد اقبال کی تھی۔ اقبال کی شاعری محض الفاظ کا حسین امتزاج نہیں، بلکہ ایک بیدار مغز مفکر کی وہ للکار ہے جو صدیوں سے غفلت میں ڈوبی امت کے کانوں میں نقارے کی طرح گونجتی رہی ہے۔
اقبال کا کلام ایک درویش کی صدا بھی ہے اور ایک سپہ سالار کی حکمت بھی۔ ان کی شاعری میں آنسو بھی ہیں اور آہنی عزم بھی، ماضی کی یاد بھی ہے اور مستقبل کی بشارت بھی۔ اسی لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کی شاعری مسلمانوں کی بیداری کا نقارہ ہے۔
اقبال کی فکر کا مرکزی نقطہ "خودی” ہے۔ لیکن یہ خودی نفس پرستی یا غرور کا نام نہیں، بلکہ اپنی اصل پہچان، اپنی روحانی عظمت اور اپنے مقصدِ حیات کی آگہی کا نام ہے۔
جب مسلمان سیاسی غلامی، فکری انتشار اور اخلاقی کمزوری کا شکار تھے، اقبال نے ان کے اندر جھانک کر انہیں ان کی بھولی ہوئی حقیقت یاد دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ تم وہ قوم ہو جس نے اندھیروں میں چراغ جلائے، تم وہ امت ہو جس نے علم و عدل کا پرچم بلند کیا۔
اقبال کا یہ پیغام گویا کسی سوئے ہوئے لشکر کے سامنے بجتا ہوا نقارہ تھا، جو انہیں جگا رہا تھا:
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
یہ شعر محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک انقلابی منشور ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی کمزوریوں کا ماتم چھوڑ کر اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ ان کے نزدیک بیداری کا پہلا مرحلہ اپنے آپ کو جاننا ہے، کیونکہ جو خود کو پہچان لے، وہ دنیا کو بھی پہچان لیتا ہے۔
اقبال کے نزدیک زندگی سکون کا نام نہیں بلکہ حرکت کا نام ہے۔ وہ جمود کو موت اور جدوجہد کو زندگی سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری نوجوانوں کو شاہین کی علامت سے مخاطب کرتی ہے—ایسا پرندہ جو بلند پرواز ہے، خوددار ہے، اور مردار پر پلنا گوارا نہیں کرتا۔
اقبال کی نظر میں مسلمان نوجوان کو شاہین کی طرح بلند چوٹیوں پر بسیرا کرنا چاہیے، جہاں ہوا تیز ہو مگر نظر صاف ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ماضی کی عظمت پر فخر ضرور کریں، مگر حال میں کردار ادا کریں اور مستقبل کی تعمیر کریں۔
"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”
یہ پیغام مایوسی کے اندھیروں میں امید کی بجلی بن کر کوندتا ہے۔ اقبال کا نقارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی مسلسل سفر کا نام ہے۔ جو قوم رک جائے، وہ پیچھے رہ جاتی ہے۔
اقبال کی شاعری میں جوش بھی ہے، ولولہ بھی، اور حوصلہ بھی۔ وہ مسلمان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ تمہارے اندر ایک عظیم قوت پوشیدہ ہے، بس اسے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
اقبال کی فکر فرد تک محدود نہیں بلکہ پوری امت کی اجتماعی بیداری کا پیغام ہے۔ وہ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کی اصل طاقت ان کے اتحاد میں ہے۔ جب دل جدا ہو جائیں تو قومیں کمزور ہو جاتی ہیں، اور جب صفیں یکجا ہو جائیں تو تقدیر بدل جاتی ہے۔
اقبال مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے مخالف تھے، مگر علم، تحقیق اور ترقی کے حامی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان فکری غلامی سے آزاد ہوں، خود سوچیں، خود فیصلہ کریں، اور اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ دنیا میں قدم رکھیں۔
ان کی شاعری میں ایک ایسا تصورِ امت موجود ہے جو رنگ، نسل اور جغرافیے کی حدود سے بلند ہے۔ ان کا خواب ایک ایسی ملت کا تھا جو ایمان میں مضبوط، علم میں آگے اور کردار میں اعلیٰ ہو۔
یہی وہ اجتماعی شعور ہے جو اقبال کی شاعری کو نقارے کی حیثیت دیتا ہے—ایسا نقارہ جو صرف فرد کو نہیں بلکہ پوری قوم کو بیدار کرتا ہے۔
آج جب ہم فکری انتشار، اخلاقی زوال اور معاشرتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اقبال کی شاعری پہلے سے زیادہ معنویت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بیداری باہر سے نہیں آتی، اندر سے پیدا ہوتی ہے۔
اقبال کا نقارہ آج بھی گونج رہا ہے—ہماری سماعت کا منتظر ہے، ہمارے شعور کو جھنجھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس صدا کو سننے کے لیے تیار ہیں؟
اگر ہم نے اقبال کے پیغامِ خودی، عمل اور اتحاد کو اپنا لیا، تو یقیناً ہماری تقدیر بدل سکتی ہے۔ کیونکہ قوموں کی زندگی میں ایسے مفکر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، اور ان کی آوازیں وقت کے صحرا میں ہمیشہ گونجتی رہتی ہیں۔
اقبال کی شاعری واقعی مسلمانوں کی بیداری کا نقارہ ہے—ایسا نقارہ جو ہمیں اپنی حقیقت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل کی یاد دلاتا ہے۔
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
دیکھ آ کر کوچہ ء چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو ۔ لیلی بھی تو۔ صحرا بھی تو۔ محمل بھی تو
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
علی گڑھ کالج کے طلباء کے نام اپ کا پیغام ۔
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے
طائرِ زیرِ دام کے نالے تو سن چکے ہو تم
یہ بھی سنو کہ نالہ ء طائرِ بام اور ہے
آتی تھی کو سے صدا رازِ حیات ہے سکوں
کہتا تھا مورِ ناتواں لطفِ خرام اور ہے
جذبِ حرم سے ہے فروغ انجمنِ حجاز کا
اس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہے
موت ہے عیشِ جاوداں ذوقِ طلب اگر نہ ہو
گردشِ آدمی ہے اور گردشِ جام اور ہے
شمعِ سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز
غم کدہ ء نمود میں شرطِ دوام اور ہے
بادہ ہے نیم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھی






