#اداریہ

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت

Fahad 01

أج کا اداریہ

ایران نے امریکی و اسرائیلی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر چالیس روزہ سوگ ‘دشمن سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے، سپریم لیڈر کی شہادت ان کے دفتر میں ہوئی۔
ایران سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت پر  ایران  میں 7 روزہ تعطیلات بھی ہونگی
خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے، وہ  آیت اللہ خمینی کےانتقال کے بعد ان کے جانشین بنے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اسرائیلی و امریکی حملوں میں سپریم لیڈر خامنہ ای کی بیٹی اورنواسے کی شہادت کی بھی تصدیق کی۔  ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے داماد اور بہو  بھی شہید ہوگئیں۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں تھے، آیت اللہ علی خامنہ ای کےکمپاؤنڈپر 30 بم گرائےگئے۔
سرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔
ادھر بر طانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ خامنہ ای کی لا ش ملی ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو  نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ  ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے
اسرائیلی  وزیراعظم نیتن یاہو  نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ  ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈربھی مارے گئے ہیں، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اورسینئر جوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنائیں
گے
نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوئی جاری رہے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہوئے تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوگئے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں علم ہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے۔
امریکی ٹی وی کو ٹیلیفون پر انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایران میں اب کون ہے جو مؤثر انداز  سے احکامات جاری کررہا ہے تاہم امریکی صدر نے ان ایرانی رہنما کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
اس سوال پر کہ آیا ایران میں اب جو شخص احکامات جاری کررہا ہے وہ ایسا شخص ہے جسے وہ ایران کی قیادت کرتا دیکھنا چاہتے ہیں جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہاں میرے خیال میں ایسا ہی ہے، کچھ اچھے امیدوارہیں۔
ادھر ایرانی فوج نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کی قیادت پر حملہ ایک سنگین اقدام ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،  جارح کو ہر صورت سزا دی جائےگی۔
بیان میں کہا گیا کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور دشمن کو اس اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔
پاسداران انقلاب گارڈز  نے بھی واضح کیا کہ رہبر اعلیٰ کے قاتلوں کو سخت، فیصلہ کن اور افسوسناک سزا دینےکاموقع ہاتھ سےجانے نہیں دیں گے۔اس دوران
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران کے شہرمناب میں لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں اسرائیل نے ایک گرلز اسکول کو نشانہ بنایا ۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں اسکول پر حملے سے شہدا کی تعداد 165 ہوگئیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شجرۂ طیّبہ اسکول کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد طالبات شہید ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسکول میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور شہر میں سکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے۔ 
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی تمام جامعات تاحکم ثانی بند کردی گئیں
جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا
ایران جوابی حملوں سے خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو جنگ جلدی ختم کرنے پر قائل کر سکیں
یہ بالکل واضح ہے کہ ایران اس تنازع کو اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں کرنا چاہتا بلکہ پورے خطے تک پھیلانا چاہتا ہے۔عرب خلیجی ممالک کو معلوم تھا کہ انھیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دراصل ایران چاہتا ہے کہ اس جنگ میں نقصانات بڑھیں، مقصد یہ ہے کہ خلیجی ممالک ٹرمپ پر زور دیں کہ یہ جنگ بند کی جائے۔ اس مقصد کے ابتدائی نتائج بھی سامنے أئے ہیں۔ ان میزائل حملوں سے عرب ممالک میں تشویش اور خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے