#کالم

رمضان کی روشنی میں امید کا دسترخوان

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

رمضان فقط ایک مہینہ نہیں، دلوں کی تطہیر کا موسم ہے۔ یہ وہ ساعتیں ہیں جب آسمان کی طرف اٹھنے والی دعائیں زمین پر بکھری محرومیوں کو سہارا دیتی ہیں۔ انہی بابرکت لمحات میں ہمدردی، شفقت اور انسان دوستی کا ایک روشن چراغ روشن ہونے جا رہا ہے—ایک ایسی شام، جہاں افطار کے دسترخوان پر صرف کھجوریں اور پانی نہیں، بلکہ محبت، اپنائیت اور امید بھی سجی ہوئی ہے ۔

جناب مسٹر انجینئر توقیر احمد شریفی کی “پرورش فاؤنڈیشن” کے بچوں کے ساتھ افطار کی ایک پُراثر اور بابرکت تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، جس کا عنوان ہی اپنے اندر ایک مکمل پیغام رکھتا ہے:
“A Blessed Evening of Compassion & Hope — In the Spirit of Ramadan”

یہ محض ایک دعوتِ افطار نہیں، بلکہ دلوں کے ملنے، دعاؤں کے جڑنے اور خوابوں کے پروان چڑھنے کی ایک اجتماعی کاوش ہے۔ اس شام کی اصل روح یہ ہے کہ ہماری موجودگی کسی بچے کی زندگی کی کہانی میں امید کا ایک روشن باب بن جائے۔ جب ایک معصوم ہاتھ افطار کے وقت دعا کے لیئے اٹھتا ہے تو اس میں صرف اپنی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ معاشرے کی بہتری کی التجا بھی شامل ہوتی ہے۔

پرورش فاؤنڈیشن کے یہ بچے، جو زندگی کی کٹھن راہوں سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں، دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا، ان کے خوابوں کو توانائی دینا اور ان کی تنہائی کو اپنائیت میں بدل دینا ہی اصل عبادت ہے۔ رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ بھوک کا احساس صرف پیٹ تک محدود نہیں، روح کی پیاس بھی بجھانی ہوتی ہے۔

افطار کی اس شام میں جب اذان کی صدا فضا میں گونجی تو دسترخوان پر بیٹھے ہر بچے ۔ بچی اور ہر فرد کے دل میں یہ احساس جاگا کہ وہ کسی خیر کے سفر کا حصہ ہے۔ یہ اجتماع معاشرتی ہم آہنگی، خیر خواہی اور باہمی ربط کی ایک عملی مثال ہے۔ یہاں امارت و غربت کی دیواریں مٹ جاتی ہیں اور صرف انسانیت کا رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔
تقریب کے انتظامی امور کے لیئے فاؤنڈیشن کے روح رواں بانی صدر نوجوان شاہ ویز ندیم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، جو اس بابرکت اجتماع کو منظم اور بامعنی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ شاہ ویز ندیم کی دادی جان لیڈی ڈاکٹر میجر تبسم بھٹی کا تعلق آرمی سے ہے اور وہ اذکارِ رفتہ میجر ہیں ۔ بچوں کے مستقبل کو تابناک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ توقیر احمد شریفی کی گفتگو کی جستجو میں بچوں کی معصوم روحیں رنگ و نور میں رقصاں تھیں ۔ یہ شاید عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بچے فطرتا محبت اور پیار کے طلبگار ہوتے ہیں ان کی معصوم اور پاک روحیں انسانیت کی ایک ایسی جگمگاتی ہوئی شمع ہوتی ہیں جنہیں روشن رکھنا ہر صحت مند مہذب اور ترقی پذیر دنیا کے معاشرے کی ذمہ داری ہے بچے فطرت کا انمول اور بے پایاں خزانہ ہیں ۔ زندگی میں سب کچھ مل سکتا ہے لیکن بچے ملنا فطرت کی بے پایاں رحمت کے بغیر ممکن نہیں ۔ پرورش چیریٹی فاؤنڈیشن کے سربراہ شاویز ندیم ملک نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی تشریف آوری پر اپنی اور اپنے ادارے کی جانب سےصمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں ہر چند کہ سماجی زندگی میں یہ آپ کا فرضِ منصبی ہے کہ آپ اہلِ خیر کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنے کی سعادت حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ملک کے معروف اور ذمہ دار سماجی سائنسدان شاعر انجینئر توقیر احمد شریفی اور خطاط و مصور ھارون الرشید ۔ انجینئر سجاد کو یہاں آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ بھی اپنے ماضی پر نگاہ ڈالیں کہ وہ بھی کسی عہد میں ان بچوں کے درمیان موجود رہے ہوں گے
یہ شام دراصل ایک پیغام ہے کہ رمضان صرف صبر نہیں سکھاتا، بلکہ سخاوت بھی سکھاتا ہے؛ صرف عبادت نہیں، بلکہ خدمت بھی؛
صرف بھوک برداشت کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کی بھوک مٹانا بھی۔

آئیے، اس نورانی مہینے میں دلوں کو جوڑنے، دعاؤں کو سمیٹنے اور بچوں کے خوابوں کو تقویت دینے کے لیے اس کارِ خیر کا حصہ بنیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک شام کی شمولیت کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔

رمضان کی روشنی میں امید کا دسترخوان

25/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے