#کالم

آبشار عقیدت ۔۔ تجلیات رسول(مصنف ۔۔ تفاخر محمود گوندل)

Untitled 13456

مبصر۔۔۔ امجد علی (حرف جنوں)

جلوے فلک فلک ہیں اجالے فضا فضا
چمکا ہے آفتاب رسالت کہاں کہاں

ادب کی وسیع کہکشاؤں میں کبھی کبھار ایسی نابغہ روزگار شخصیات نمودار ہوتی ہیں کہ جب وہ معجزائی قلم تھامتی ہیں تو الفاظ محض صوت و معنی کا مجموعہ نہیں رہتے، بلکہ خلوص، محبت، ادب، تقدیس اور تعظیم کی روشنی سے منور ہو کر صفحہ قرطاس پر یوں اترتے ہیں جیسے شعلہ صداقت سے موم دل، پگھل کر رواں بہنے لگا ہو۔ ان کے جملے رسمی اظہار نہیں ہوتے، بلکہ دلوں کی دہلیز پر نرم مگر گہری دستک دیتے ہیں اور قاری کو باطن کی ان تہوں میں لے جاتے ہیں جہاں عقیدت حیرت سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔

جب فنائے کوچہء حبیب، عاشق رسول، خادم و محب اہل بیت، شناسائے ادب، شعلہ بیان و زباں، شہنشاہ لفظیات جناب پروفیسر تفاخر محمود گوندل جب قلم کو جنبش دیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا حرفوں کا قافلہ سراپا ادب بن کر بارگاہ رسالت میں صف بستہ کھڑا ہے۔ ہر لفظ دست بستہ، ہر استعارہ جھکا ہوا، اور ہر ترکیب نیازمندی سے حاضر ہوتی ہے۔ ان کی بلاغت اپنی تمام تر صناعتوں سمیت سر تسلیم خم کر دیتی ہے، اور لفظی کائناتیں نثار درحضور ہو جاتی ہیں۔ موضوع جب ذات اطہر حضرت محمد ﷺ ہو تو تحریر میں عقیدت مصطفیٰ ﷺ اس طرح موجزن ہو جاتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے سیاہی نہیں، عاجزی و عشق، روشنی بن کر صفحات قرطاس پر اتر رہا ہو، اور لفظ رفعتوں کو چھونے لگے ہوں۔ تب کہیں جا کر مرقع انوار، کنج قلب اطہار کی وہ درخشاں کلی “تجلیات رسالت” صورت تخلیق میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ یقیننا اہل قلب سلیم کے محراب کا روشن چراغ ہے۔

اس کیفیت رقعت میں ان کی چشمان کی ہر گوشہ و کنار اشک محبت سے تر اور روح کا ہر زاویہ شوق حضوری سے سرشار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے وجود کی کثافتوں کو تحلیل کر کے گدائے رسول ﷺ بن کر کیفیت فنا اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر ہر عبارت حضوری کی دہلیز پر تقدیس کی چادر اوڑھے طیبہ کی معطر فضاؤں میں نسیم رحمت بن کر پھیل جاتی ہے۔ الفاظ اذکار میں تجسیم ہو جاتے ہیں، جملے درود کا پیرایہ اختیار کر لیتے ہیں، اور قلم محض وسیلہ تحریر نہیں رہتا بلکہ سجدہ ریز دل کی ترجمانی بن جاتا ہے۔ شعور کی پختگی، دروں بینی کی گہرائی اور محبت رسول ﷺ کی صادق وابستگی تحریر کے ہر استعارے کو عجز کے ماتھے کا جھومر بنا دیتی ہے۔

تفاخر محمود گوندل کی “تجلیات رسول” دراصل ان کے عجز و انکسار، سفر بطحاء کی روح پرور یادوں اور عشق و وارفتگی میں ڈوبی ہوئی وجدان آشنا داستان ہے۔ یہ تحریر قاری کو عقیدت کے شفاف، تیز رواں اور چاندی جیسے جھلملاتے پانی میں بہا کر عالم بیخودی میں لے جاتی ہے، جہاں دل صرف محبت کے نور میں نہا جاتا ہے اور لفظ اپنی حدوں سے آگے بڑھ کر کیفیت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ وہ عقیدتوں کے جہان حیرت میں صفحات کو پلٹتے ہی چلے جاتے ہیں۔

آپ کے قلم کا ارتعاش جب لفظوں کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے سوئے ہوئے اوراق میں پھر سے جنبش پیدا ہو گئی ہو۔ آپ نے بیان کا آغاز رقص ابلیس اور بیت اللہ شریف میں تین سو ساٹھ بتوں کی اندھی پرستش سے کیا تو منظر یکایک جاہلیت کی گھٹن سے بھر گیا، مگر پھر یہی قلم ہمیں لمحہ لمحہ، رفتہ رفتہ، حرف حرف، مکہ کی سنہری ریگزاروں میں لے جاتا ہے، جہاں افق پر طلوع ہونے والی روشنی کا پہلا سراغ ملتا ہے۔ وہیں سے داستان آگے بڑھتی ہے رشک آسمان، گود حلیمہ سعدیہ، سایہ شفقت عبدالمطلب، اور دامان رحمت خدیجہ، یہ سب سلسلہ ہائے کون و مکاں میں یوں جڑتے چلے جاتے ہیں کہ قاری خود کو اس نورانی کارواں کا ہم سفر محسوس کرنے لگتا ہے۔

اگلی سطور ہمیں اس خاموش بلندی کی طرف لے جاتی ہیں جہاں غار حرا کی تنہائی اپنی چادر آغوش کھول دیتی ہے۔ یہاں خلوت نشینی کے وہ لمحے، بے آواز عمیق خاموشی، فطرت کے خفی رازوں سے ہم کلام ہوتی ہے۔ کائنات کے سربستہ راز اور تخلیق کے اسرار خالق کی کنہ تک رسائی کی آرزو ایک نورانی جستجو بن کر ابھرتی ہے۔ یہی وہ ساعتیں ہیں جب رویائے صادقہ کی کرنیں حرا کی تاریک راتوں کو منور کر کے اسے باہر نور بنا دیتی ہیں، جب سکوت شب میں روشن مشاہدات دل کے آسمان پر اترتے ہیں، اور تدبر و تفکر کی موجیں شعور کے ساحلوں سے ٹکرا کر نئی معنویت پیدا کرتی ہیں۔

کبھی اس شوق و جستجو میں بے قراری بڑھتی تو شہر کی سمت مراجعت ہوتی، بیت اللہ کا طواف دل کی دھڑکنوں کو تسکین دیتا، اور پھر حریم فکر کی جولان گاہ – غار حرا دوبارہ اپنی طرف بلا لیتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ چل رہا ہے، جس میں ہر واپسی ہر خلوت ایک نئی بصیرت، اور ہر لمحہ ایک تازہ تجلی کو جنم دیتا ہے۔ آپ کی تحریر، اندھیروں سے اجالوں تک، خاموشی سے کلام تک، اور جستجو سے یقین تک سفر کرتی ہوئی ایک دل آویز، نور آفریں روداد کے تسلسل کی داستان بنتی ہے

عشق رسول ﷺ متاع نایاب ہے کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ ایمان کی عمارت کا وہ مرکزی ستون ہے جس پر عقیدے کا پورا نظام استوار رہتا ہے۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی کسی صاحب دل اور صاحبِ قلم نے حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ یا شمائل مبارکہ پر خامہ فرسائی کی، اس کی تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی، بلکہ روحوں کو گرما دینے والی تاثیر اور دلوں کو منور کر دینے والی روشنی بن جاتی ہے۔

اوریا جان مقبول صاحب کی اس کتاب پر لکھی گئی نگارشات میں نامور اہل قلم اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی نثر محض خوبصورت ہی نہیں بلکہ مرصع اور دل نشیں بھی ہے۔ اس کتاب کا اسلوب سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے۔ عبارت مرصع

آبشار عقیدت ۔۔ تجلیات رسول(مصنف ۔۔ تفاخر محمود گوندل)

19/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے