#کالم

کامیابی کا ایک اہم فارمولا ایسا ہے

Untitled 14

جمع تفریق۔۔ ناصر نقوی
کامیابی کا ایک اہم فارمولا ایسا ہے جسے جانتے بوجھتے بھی لوگ فراموش کر دیتے لیکن کسی بھی کامیاب معاشرے ،خاندان یا ریاست اور سیاست میں یہ فارمولا انتہائی مفید ہے ،وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اس لیے جو لوگ اپنی تمام تر اچھائیوں اور خامیوں سے واقف ہوتے ہیں وہ بھی اسی فارمولے سے اپنی ہی نہیں، اہل خانہ کی زندگی خوشگوار بناتے ہیں اور معاشرے میں مثبت روایات قائم کرنے کے لیے اسے اپناتے ہیں یوں وہ صرف اپنے لیے نہیں ،دوسروں کے لیے بھی آ سانیاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں پھر بھی ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے اسی فارمولے کا فقدان ہے ہمارے مسائل کچھ وسائل کی کمی کے باعث درد سر بنے ہیں اور کچھ اس کمی کی بنیاد پر، ہم اپنی حسرتوں اور خواہشات کے لیے سجدوں میں گرتے ہیں لیکن حقیقی مالک کی بجائے دنیاوی خداداوں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں حالانکہ اس بات کا علم ہے کہ سب کے سب خود مانگتے ہیں، پھر بھی اس پر ڈوری نہیں چھوڑتے جس کے در کے سب فقیر ہیں، امیر، غریب ،صاحب حیثیت، مالک اقتدار کسی نہ کسی صورت اسی سے بھیک مانگتے ہیں جو دیتا بھی ہے اور کسی سے شکوہ بھی نہیں کرتا ،اگر آ پ اپنے ارگرد کا جائزہ لیں تو بہت سی حقیقتیں آ شکار ہو جائیں گی پھر بھی ٫٫دل ہے کہ مانتا نہیں،، اپنے آ پ پر ہمیشہ شک ہی رہتا ہے کہ کہیں خوش فہمی یا غلط فہمی تو نہیں، اس لیے کہ دنیا رنگ برنگی۔۔ جتنا امیر اتنا کنجوس، جتنا خوش اتنا جعلی ،جتنا نرم اتنا گرم، جتنا سنجیدہ اتنا گہرا، جتنا خوبصورت اتنا نخریلا، جتنا خاموش اتنا ہی خطرناک بلکہ جتنا جذباتی اتنا سچا اس لیے کوئی بھی کسی کے معاملات میں دخل اندازی سے گھبراتا ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا ، رد عمل کیا ہوگا حالانکہ کسی انسان کی نرمی سرد مہری یا سخت لہجہ اس کی حقیقی تصویر نہیں ہوتی، جس طرح پانی سے نرم اور بے زرر بظاہر کوئی شے نہیں لیکن یہی پانی اگر قطرہ قطرہ بھی ایک جگہ گرے تو وہ سوراخ ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے جسے یقین نہیں، وہ پہاڑوں اور چٹانوں کا جائزہ لے تو اسے یہ راز پتہ چل جائے گا کہ وہ اپنی پوشیدہ طاقت سے نہ صرف ایسے دشوار گزار علاقوں میں بھی اپنی گزرگاہ بنا لیتا ہے بلکہ ایسی چٹانوں اور پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے جو آ دم زادوں کے لیے بھی پریشان کن ہی نہیں، باعث امتحان ہوتے ہیں انسان نے اپنی عقل سلیم کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا اور ماں کی گود سے قبر تک سیکھنے کے عمل سے گزرا لیکن جو کچھ نہیں کر سکے انہیں ان کا مشاہدہ کرنا ہوگا جو بہت کچھ کر گزرے، بے سروسامانی ،غربت اور دیگر وسائل و مسائل ان کا راستہ نہیں روک سکے کیونکہ ان کے پاس سب سے بڑی دولت یقین اور برداشت کی تھی اگر اس دولت میں رواداری کا ٫٫تڑکا،، بھی لگ جائے تو رنگ مزید چوکھا ہو جاتا ہے ،کاروبار ہو، سیاست ہو کہ ریاست یا خاندان اسی فارمولے سے دنیا نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن ہمارے ہاں برداشت رفتہ رفتہ ختم ہو کر اس نہج پر آ گئی ہے کہ ہر طرف خود پسندی کا غلبہ ہے، سیاست میں اختلاف کو دشمنی کا درجہ دے دیا گیا ہے معمولی معمولی بات پر خاندانی ناراضگیاں بھی ایک ڈھونڈو ہزار ملتیں ہیں اس لیے کہ کوئی ایک دوسرے کی قدر کرنے کو تیار نہیں لیکن یہ راز سب کو پتہ ہے کہ نہ ہی زندگی دوبارہ واپس ملتی ہے اور نہ ہی لوگ۔۔ ایسے میں حقیقی بات صرف اتنی ہے کہ خون کے رشتے ناراض ہو سکتے ہیں کبھی ختم نہیں ہو سکتے، خاندان کو جوڑیں رکھنا ایک فن ہے جس فن کا نام برداشت ہے، اگر٫٫ ہم اور آ پ،، برداشت اور رواداری کو اپنی زندگی میں اہمیت دینے کی عادت ڈال لیں تو نہ صرف اپنے کبھی پرائے نہیں ہوں گے بلکہ پرائے بھی اپنے ہی شمار ہونے لگیں گے
برداشت و رواداری زندگی سنوارنے ،گزارنے اور دنیا کو اپنا بنانے کا بہترین فارمولا ہے لیکن یہ بھی خوشیوں بھری تالی ہے جو صرف ایک ھاتھ سے نہیں بجتی، اس کے لیے دماغ، سوچ ہی نہیں ہاتھ سے ہاتھ بھی ملانا پڑتا ہے ،دوستی ہو کہ خونی رشتہ داری اس میں خامیوں کو درگزر کر کے خوبیوں کی پذیرائی کرنی پڑتی ہے، دوسروں کی زیادتیوں اور کمیوں سے نظریں چرا کر انہیں غیر مشروط معافی دینی ہوتی ہے تاکہ دوسرے ہمیں بھی معاف کر دیں، اس لیے کہ انسان غلطی کا پتلا ہے ،چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی غلطی سرزد ہو سکتی ہے ،یوں برداشت اور رواداری کا دامن تھام کر آ گے بڑھنے کی خواہش میں بہت کچھ بھولنا پڑتا ہے، یہ کام اسان ہرگز نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں، آ دم زادوں کو مالک کائنات نے اشرف المخلوقات کا اعزاز ایسے نہیں دیا تمام تر صلاحیتیں دے کر دیا ہے کوئی شے اللہ کے فضل و کرم سے ایسی ہرگز نہیں ہے جو اس کے بس میں نہیں ،ضرورت صرف کوشش اور سنجیدگی سے بندھی ہوئی ہے٫٫ ہمت مرداں مدد خدا ،،دنیا کی کامیابی پنہاں ہے برداشت میں اور جس نے اس اصول پر خلق خدا کے لیے آ سانیاں پیدا کیں، وہی حقیقی طور پر کامیاب قرار پائے گا اس نے تو دنیا کو ایک امتحان گاہ بنایا ابدی دنیا کے حصول کے لیے اور کامیابی کا کورس دین حق کا ضابطہ حیات قر آ ن مجید فرقان حمید کی شکل میں نازل کر دیا جس نے پڑھا اور سمجھا اس کے لیے فلاح ہی فلاح، دنیا گواہ ہے کہ جس نے اللہ کی رسی کو تھامنے کی بجائے اپنی طاقتور و اختیار کو ہی ذریعہ نجات سمجھا وہ فرعون ہو کہ نمرود تباہ ہو گیا، پھر بھی ٫٫ہم اور آ پ،، دولت اور دنیا کے دیوانے بنے ہوئے ہیں حقیقی منزل کی راہ جانتے ہوئے بھی خواہشات کے سمندر میں غوطہ زن ہیں، یہ جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے بھی کہ دنیا کی مال و دولت صرف اسی دنیا کے

کامیابی کا ایک اہم فارمولا ایسا ہے

ہر بیج میں شوقِ نمو ہے !

کامیابی کا ایک اہم فارمولا ایسا ہے

18/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے