#کالم

وقتی فتح یا مستقل وقار؟پاکستان کی سفارتی آزمائش

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔۔صفدر علی خاں

وزیراعظمِ پاکستان کی جانب سے ایک تقریب میں بیان کردہ واقعہ۔۔۔کہ ایک وقت تھا جب غیر ملکی حکمران ان کے استقبال کے لیے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے اور آج وہی ممالک بغلگیر ہو رہے ہیں۔۔۔بلاشبہ اجتماعی قربانیوں کے ذریعے بھارت کو ایک اہم عالمی بیانیے میں شکست دینے کے بعد پاکستان کو جو توجہ، عزت اور اہمیت حاصل ہوئی ہے، وہ خوش آئند ضرور ہے مگر ہم سمجھتے ہیں یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ۔۔۔ کیا یہ عزت وقتی ہے یا ہم اسے پائیدار قومی فائدے میں بدل سکیں گے؟۔۔۔ کیونکہ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کی تاریخ ایسے مواقع سے بھری پڑی ہے جہاں دنیا کو ہماری ضرورت تو پڑی۔۔۔ مگر بعد ازاں ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا اور بدقسمتی سے ہم خود بھی ان مواقع کو قومی ترقی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔مثال کے طور پر 1979ء میں جب افغانستان میں سوویت یونین نے مداخلت کی تو عالمی طاقتوں نے پاکستان کو خطے کا فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا۔ پوری دنیا پاکستان کے پیچھے کھڑی ہوئی، مالی اور عسکری تعاون آیا اور پاکستان نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے سوویت یونین کو شکست دینے میں کلیدی حصہ ڈالا۔ مگر اس جنگ کے اختتام پر پاکستان کو کیا ملا؟۔۔۔ مہاجرین کا سیلاب، کلاشنکوف کلچر، منشیات، انتہا پسندی اور ایک غیر مستحکم معاشرہ۔۔۔عالمی طاقتیں آگے بڑھ گئیں اور پاکستان مسائل کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔اسی طرح نائن الیون کے بعد ایک بار پھر پاکستان عالمی سیاست کے مرکز میں آ گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ناگزیر شراکت دار قرار دیا گیا، اڈے استعمال ہوئے، قربانیاں دی گئیں، ستر ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جو آج تک پورا نہیں ہو رہا۔ لیکن جب یہ جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھی تو پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ ہوئی، اعتماد کی فضا کمزور پڑی اور وہ معاشی فوائد جن کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ بھی کبھی حقیقت نہ بن سکے۔
    آج ایک بار پھر تاریخ ایک نئے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم اخلاقی اور سفارتی مقام حاصل کیا ہے۔ دنیا ایک بار پھر پاکستان کو سنجیدگی سے سن رہی ہے، تعلقات میں گرمجوشی نظر آ رہی ہے اور رویّوں میں تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اصل امتحان اب یہی سے شروع ہوتا ہے کیونکہ سوال یہ نہیں کہ دنیا پاکستان کو کتنی اہمیت دے رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ پاکستان خود اس اہمیت کو کس حد تک قومی مفاد میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

اوراس سوال کا سیدھا جواب ہمیں معیشت میں ملتا ہے ۔۔۔ جدید دنیا میں اصل طاقت معیشت ہے۔ جب تک پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوگا، اس کی سفارتی کامیابیاں عارضی رہیں گی۔ دنیا ان ممالک کو عزت دیتی ہے جو اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور یہ صلاحیت معاشی خودمختاری کے بغیر ممکن ہو ہی نہیں سکتی۔
اگر پاکستان اس بار ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتا تو اسے سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ معاشی حکمتِ عملی کو بھی مرکزی مقام پر رکھنا ہوگا۔ برآمدات میں اضافہ، علاقائی تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد سازی اور اندرونی سیاسی استحکام۔۔۔ یہی وہ اصلی اور طاقتور ستون ہیں جن پر قوموں یا ملکوں کا دیرپا عالمی وقار کھڑا ہوتا ہے اور مزید یہ کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو وقتی اتحادوں کے بجائے طویل المدت قومی مفاد سے جوڑنا ہوگا اور لازما” ہمیں کسی کے لیے اہم بننے کے بجائے اپنے لیے مضبوط بننا ہوگا۔ درست ہے کہ دنیا آج پاکستان کے ساتھ بغلگیر ہو رہی ہے، مگر عالمی تاریخ سے زیادہ ہمیں ہماری اپنی ہسٹری یہ سکھاتی ہے کہ یہ بغلگیری مستقل نہیں ہوتی۔۔۔ جب تک کہ اس کے پیچھے معاشی طاقت، داخلی استحکام اور ریاستی تسلسل موجود نہ ہو۔آج پاکستان کے پاس ایک نادر موقع ہے کہ وہ عالمی اہمیت کو قومی فائدے میں بدل دے کیونکہ سچ یہی ہے کہ اگر اس بار بھی ہم نے صرف لمحاتی تعریف پر اکتفا کیا۔۔۔تو آنے والی نسلیں یہی سوال دہراتی رہیں گی۔۔۔۔۔
۔۔۔ہم اہم تو تھے، مگر محروم کیوں رہے؟

وقتی فتح یا مستقل وقار؟پاکستان کی سفارتی آزمائش

17/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے