حیا
آپا منزہ جاوید اسلام آباد
حیا… ایک ایسا لفظ جس میں پاکیزگی کی مہک بھی ہے اور انسانیت کی اصل شناخت بھی۔ حیا صرف شرم کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ باطنی کیفیت ہے جو انسان کے ظاہر و باطن کو سنوارتی ہے، نگاہ کو پاک رکھتی ہے، زبان کو مہذب بناتی ہے، کردار کو باوقار کرتی ہے اور معاشرے کو امن و سکون عطا کرتی ہے۔ حیا انسان کے اندر ایک ایسا زندہ احساس ہے جو اسے ہر اُس عمل سے روکتا ہے جس میں بے حیائی، بدتہذیبی یا اخلاقی گراوٹ کا شائبہ بھی ہو۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ جدیدیت کے نام پر حیا کو فرسودہ سوچ سمجھ لیا گیا ہے۔ بے باکی کو اعتماد، بے پردگی کو آزادی، اور اخلاقی حدود سے تجاوز کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے: حیا کمزوری نہیں، بلکہ شخصیت کی طاقت ہے؛ حیا رکاوٹ نہیں، بلکہ تحفظ ہے؛ حیا قدامت نہیں، بلکہ تہذیب کی معراج ہے۔
قرآنِ مجید میں حیا اور پاکدامنی کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ…”
(سورۃ النور 24:30)
ترجمہ: “مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں…”
اسی طرح ارشاد ہوتا ہے:
“وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ…”
(سورۃ النور 24:31)
ترجمہ: “اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں…”
یہ آیات محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ یہ نگاہ، سوچ، رویّے اور پورے طرزِ زندگی کو مہذب بنانے کی تعلیم دیتی ہیں۔ حیا کا آغاز آنکھ سے ہوتا ہے، دل میں پروان چڑھتا ہے اور کردار میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
قرآن میں لباس کے فلسفے کو بھی حیا سے جوڑا گیا:
“يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ”
(سورۃ الاعراف 7:26)
ترجمہ: “اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور باعثِ زینت ہے، اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے…”
یہاں ایک گہرا نکتہ ہے۔ لباس صرف جسم نہیں چھپاتا، بلکہ یہ انسان کی تہذیبی شناخت کا آئینہ بھی ہے۔ اور تقویٰ — یعنی اندرونی حیا — اصل حسن ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا:
“اَلْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ”
ترجمہ: “حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث حیا کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ ایمان کوئی جامد تصور نہیں؛ یہ اخلاق، معاملات اور رویّوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ جہاں حیا زندہ ہو، وہاں ایمان کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔
ایک نہایت فکر انگیز ارشاد ہے:
“إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ”
ترجمہ: “جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔”
(صحیح بخاری)
یہ الفاظ دراصل ایک تنبیہ ہیں۔ حیا انسان کے اندر ایک قدرتی روک ہے۔ جب یہ ختم ہو جائے تو انسان ہر حد عبور کر لیتا ہے۔ یہی ہم آج کے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے اپنے کردار میں حیا کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ صحابہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۔ یہ حیا صرف ظاہری نہیں تھی؛ یہ گفتگو، نگاہ، مزاج اور پورے رویّے میں جھلکتی تھی۔
بدقسمتی سے آج کے معاشرے میں حیا کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا، ڈراموں، اشتہارات اور تفریحی صنعت نے بے حیائی کو معمول بنا دیا ہے۔ لباس میں سادگی کی جگہ نمائش نے لے لی، گفتگو میں وقار کی جگہ بے باکی نے، اور تعلقات میں تقدس کی جگہ بے راہ روی نے۔
نگاہوں کی بے احتیاطی سب سے نمایاں مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ آنکھ دل کا دروازہ ہے۔ بے لگام نگاہیں خیالات کو آلودہ کرتی ہیں، خیالات کردار کو متاثر کرتے ہیں۔ قرآن نے سب سے پہلے نگاہ جھکانے کا حکم دیا کیونکہ یہی ابتدا ہے۔
لباس میں حدوں کا خاتمہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے۔ لباس شخصیت کی زبان ہوتا ہے۔ جب لباس سے حیا رخصت ہو جائے تو معاشرہ رفتہ رفتہ اخلاقی بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سادگی اور وقار کی جگہ نمائش لے لے تو باطنی قدریں بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
گفتگو میں بے حیائی نے بھی معاشرتی فضا کو متاثر کیا ہے۔ مزاح کے نام پر فحش جملے، طنز کے نام پر بے ادبی، اور آزادیٔ اظہار کے نام پر اخلاقی حدود کی پامالی — یہ سب حیا کے فقدان کی نشانیاں ہیں۔ الفاظ بھی کردار کا لباس ہوتے ہیں، اور جب یہ لباس پھٹ جائے تو شخصیت کی نزاکت باقی نہیں رہتی۔
سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ غیر ضروری نمائش، توجہ کی طلب، مصنوعی زندگی اور بے جا اظہار نے حیا کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔ انسان اب اپنی نجی زندگی کو بھی ایک تماشہ بنا بیٹھا ہے۔
حیا کیوں ضروری ہے؟
کیونکہ حیا انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ جب دل میں اللہ کا احساس اور خود احتسابی ہو تو انسان خود بخود محتاط ہو جاتا ہے۔
کیونکہ حیا عزت و وقار کا ذریعہ ہے۔ حیا شخصیت کو کشش دیتی ہے اور کردار کو مضبوط کرتی ہے۔
کیونکہ حیا معاشرتی امن کی بنیاد ہے۔ جہاں حیا ہو وہاں احترام ہوتا ہے، حدود قائم رہتی ہیں اور تعلقات محفوظ رہتے ہیں۔
کیونکہ حیا مرد اور عورت دونوں کا زیور ہے۔ اسلام نے حیا کو صنفی مسئلہ نہیں بنایا؛ یہ انسانی قدر ہے۔
یہ بھی ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ حیا صرف عورت سے متعلق ہے۔ قرآن میں مردوں کو پہلے نگاہ جھکانے کا حکم دیا گیا۔ حیا مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں اخلاقی ذمہ داری ہے۔
حیا کو زندہ رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز اللہ کی نگرانی کا شعور ہے۔ جب انسان کو یقین ہو کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو رویّہ خود بخود بدل جاتا ہے۔ نگاہ کی حفاظت، لباس میں وقار، گفتگو میں تہذیب — یہ سب اسی شعور کے مظاہر ہیں۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ حیا صرف نصیحت سے نہیں، بلکہ تربیت، ماحول اور عملی






