ریونیو کورٹس کی حالت زار
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان میں زمین اور جائیداد کے تنازعات سب سے زیادہ پائے جانے والے قانونی مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک عام شہری کی زندگی بھر کی جمع پونجی اکثر زمین یا گھر کی شکل میں ہوتی ہے، لیکن جب اسی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو جائے تو انصاف حاصل کرنا ایک طویل، مہنگا اور تھکا دینے والا سفر بن جاتا ہے۔ اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ریونیو کورٹس کا وہ نظام ہے جو تحصیلدار سے شروع ہو کر بورڈ آف ریونیو تک پھیلا ہوا ہے، مگر بدقسمتی سے عام آدمی کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔
عملی صورتحال یہ ہے کہ پٹواری، قانون گو، تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل کمشنر، کمشنر اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو تک مقدمات سالہا سال لٹکے رہتے ہیں۔ ایک سادہ سی انتقال یا تقسیم کا کیس بھی کئی برسوں تک چلتا رہتا ہے۔ فریقین کے چکر ختم نہیں ہوتے، مگر فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ اس تاخیر کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی کا قیمتی وقت، سرمایہ اور ذہنی سکون سب برباد ہو جاتے ہیں۔
عوامی سطح پر یہ تاثر بھی بہت مضبوط ہو چکا ہے کہ ریونیو نظام میں کرپشن جڑیں پکڑ چکی ہے۔ پٹواری اور تحصیلدار کے گٹھ جوڑ کے قصے دیہات اور شہروں دونوں میں زبان زدِ عام ہیں۔ زمین کے ریکارڈ میں تبدیلی، قبضے کی حمایت، یا ریکارڈ کی غلط اندراجات اکثر رشوت کے بغیر ممکن نہیں سمجھے جاتے۔ جب ابتدائی سطح ہی شفاف نہ ہو تو اعلیٰ سطح تک انصاف پہنچنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ریونیو افسران دراصل انتظامی سروس کے افسر ہوتے ہیں، جو عدالتی تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کا بنیادی کام انتظامی معاملات چلانا ہوتا ہے، مگر انہیں عدالتی اختیارات دے دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً فیصلوں میں قانونی گہرائی، عدالتی مہارت اور انصاف کی باریکیوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس سول عدالتوں میں اگرچہ مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے، لیکن وہاں عدالتی تربیت یافتہ ججز موجود ہوتے ہیں، اور بالآخر انصاف کی امید باقی رہتی ہے۔
بورڈ آف ریونیو کی سطح پر پہنچنے والے کیسز تو بعض اوقات دہائیوں تک زیر التوا رہتے ہیں۔ فائلیں منتقل ہوتی رہتی ہیں، افسران بدلتے رہتے ہیں، مگر مقدمہ وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ اس دوران کئی فریق انتقال کر جاتے ہیں اور ان کی اگلی نسلیں کیس لڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس عمل نے انصاف کے تصور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس نظام کو بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے ریونیو عدالتوں میں عدالتی تربیت یافتہ افسران تعینات کیے جائیں۔ زمین کے تنازعات حساس ہوتے ہیں، اس لیے انہیں صرف انتظامی نظر سے نہیں بلکہ عدالتی اصولوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ دوسرا، جدید ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور ریکارڈ میں ردوبدل مشکل ہو جائے۔
تیسرا، مقدمات کے فیصلے کے لیے وقت کی حد مقرر کی جائے تاکہ کیس غیر ضروری طور پر لٹک نہ سکیں۔ چوتھا، پٹواری اور ریونیو عملے کے احتساب کا مضبوط نظام قائم کیا جائے، تاکہ کرپشن کے راستے بند ہوں۔ اور سب سے اہم، عوام کو آسان، شفاف اور تیز انصاف فراہم کرنے کے لیے ریونیو عدالتی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔
اگر ریونیو نظام میں اصلاح نہ کی گئی تو زمین کے تنازعات مزید بڑھیں گے، عدالتوں کا بوجھ بھی بڑھے گا اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں عام آدمی کو اپنے حق کے لیے برسوں دربدر نہ ہونا پڑے بلکہ بروقت اور منصفانہ فیصلہ مل سکے۔ یہی حقیقی معنوں میں انصاف کی فراہمی ہوگی۔






