#کالم

داتا دربار پراجیکٹ عوامی جان اور سرکاری غیر ذمہداریوں کا جاری سلسلہ

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49

تحریر: محمد ندیم بھٹی

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کسی بھی ریاست کی اصل پہچان اس کے ترقیاتی منصوبوں کی تعداد یا اشتہاری دعووں سے نہیں بلکہ اس بات سے ھوتی ھے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کو کس حد تک یقینی بناتی ھے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تصویر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ھے۔ لاھور جیسے بڑے، تاریخی اور انتظامی لحاظ سے طاقتور شہر میں، جہاں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، واسا، محکمہ اوقاف اور دیگر بااختیار ادارے موجود ھیں، اگر وہاں بھی گٹروں کے کھلے ڈھکن شہریوں کو موت بانٹنے میں مصروف عمل ہیں جہاں جان غیر محفوظ ھے تو یہ کسی ایک حادثے کا معاملہ نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ثبوت ھے۔
شہر کی سڑکوں پر کھلے مین ہول، ابلتے سیوریج نالے، بغیر وارننگ کے کھدائیاں، ٹوٹی فٹ پاتھیں اور ناقص نکاسی آب جس کی مثال ملتان چونگی اور علامہ اقبال ٹاؤن کامران بلاک کا علاقہ بھی ھے جس کی خبر لگا کر اداروں کو خبر دار کیا گیا تھا ۔ مگر متعلقہ ادارے کسی غیر معمولی صورتحال کا انتظار کرتے رھے۔ جس کی مثال داتا دربار کے پراجیکٹ کے کھلے مین ھولوں نے خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو ھلاکت دے کر پیش کر کے ریاستی اداروں کی غیر ذمہ داری کا بھا نڈہ پھوڑ دیا۔ویسے داتا دربار کے پاس معروف وزیر جناب بلال یاسین صاحب کو
کوئی رسمی دورہ کر کے ان گٹروں پر ڈھکن رکھوا دینے چاہئیں تھے جو اپنے علاقے سے 12 کلو میٹر دور کامران بلاک علامہ اقبال ٹاؤن کے اربوں روپے کے پراجیکٹ کی تقریب میں تو تصویر وں کی ذینت بنے رھے لیکن اختتامیہ کاموں میں عام عوام کو ذلیل ھونے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔جناب ڈپٹی وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار صاحب کو داتا دربار کے کمیٹیوں کے اعزاز ی چیئرمین حضرات کے کاموں کی اندرونی پروگرامنگ کو بھی ضرور دیکھنا چاہئے جو کام۔کرنے سے عاری ھیں ممبر حضرات
مذھبی کپڑے پہن کر تصویر کشی کرتے تو نظر آجاتے ہیں لیکن رفاہ عامہ کی بہتری کے لئے کام ذیرو ھوتا ھے۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کو اس کمیٹی میں مخصوص حضرات جو داتا گنج بخش سے دلی انس رکھتے ہیں ان کو بھی شمار و شامل کرنا چاہئے ورنہ راقم تو اس کام کو اپنی زندگی کی اھم ذمہ داری سمجتے ھوئے داتا دربار کے معاملات کی بہتری کے لئے اپنے آپ کو وقف کر چکا ھے۔ بارش ھو یا خشک موسم، شہری ہر قدم پر خطرے کے سائے میں چلنے پر مجبور کرتے ھے۔ یہ حالات کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی بے حسی کی پیداوار ھیں۔
کمشنر اور ڈپٹی کمشنر، جو ضلعی انتظامیہ کے سربراہ اور نگران سمجھے جاتے ھیں، ان کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ھے۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا کبھی سنجیدگی سے شہر کے حساس اور خطرناک مقامات کی فہرست مرتب کی گئی؟ کیا یہ دیکھا گیا کہ کن علاقوں میں بارش کے دوران یا معمول کے دنوں میں جان لیوا صورتحال پیدا ھو سکتی ھے؟ اگر یہ سب معلوم ھے تو پھر پیشگی حفاظتی اقدامات کیوں نظر نہیں آتے؟ اور اگر معلوم نہیں تو یہ انتظامی نااہلی کی بدترین مثال نہیں تو اور کیا ھے؟
ڈی جی واسا کا کردار اس پورے معاملے میں مرکزی حیثیت رکھتا ھے۔ جن کو جب بھی کسی معاشرتی اصلاحات کے لئے فون کیا جائے تو ان کی ان ھاوس خصوصی ملاقاتقں کا سلسلہ ھی ختم نہیں ھوتا ،واسا کی ذمہ داری صرف بل وصول کرنا یا نئی اسکیموں کے اعلانات تک محدود نہیں ھونا چاہئے بلکہ شہر کے سیوریج نظام کو محفوظ اور فعال رکھنا بھی اسی ادارے کا فرض ھے۔ افسوسناک حقیقت یہ ھے کہ کھلے مین ہولز کو اکثر لکڑی کے تختے یا اینٹ رکھ کر چھوڑ دیا جاتا ھے، جیسے انسانی جان کی کوئی وقعت ہی نہ ھو۔ ہر سانحے کے بعد چند رسمی بیانات، معذرتیں اور انکوائریاں ضرور سامنے آتی ھیں، مگر مستقل اور پائیدار حل آج تک کیوں سامنے نہیں آ سکا، یہ ایک ایسا سوال ھے جس کا جواب دینے سے ہر ادارہ گریزاں دکھائی دیتا ھے۔
محکمہ اوقاف اور سیکرٹری اوقاف کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں کسی طور کم نہیں۔ داتا دربار جیسے عظیم اور مرکزی مذہبی مقام پر روزانہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں زائرین اور شہری آتے ھیں۔ اور اکثر جمعرات والے دن ایسے مقامات پر صفائی، نکاسی آب اور حفاظتی انتظامات اگر ناقص ھوں تو اس کے نتائج براہِ راست انسانی جانوں کی صورت میں سامنے آتے ھیں۔ دربار منیجر رات کو دو افراد ڈیوٹی کر سکتے ہیں تو کیا اوقاف کا ایڈمنسٹریٹر رات کی ڈیوٹی کیوں نہ کر سکتا ، مزارات کے اطراف حفاظتی انتظامات کو ثانوی مسئلہ سمجھنا محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی بھی ھے۔
یہ امر خاص طور پر توجہ طلب ھے کہ سیکرٹری اوقاف نے تقریباً سولہ دن قبل داتا دربار کے جاری پراجیکٹ کا باقاعدہ وزٹ کیا تھا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے خصوصی بریفنگ جناب محسن نقوی صاحب کو بھی دی تھی شاید وہ دکھاوے کا دورہ تھا ،۔ یعنی اعلیٰ سطح پر صورتحال نہ صرف دیکھی گئی بلکہ تمام کمزوریاں اور خطرات آنکھوں کے سامنے تھے۔ اس کے باوجود اگر اسی وقت احتیاطی اقدامات نہ کروائے گئے تو یہ محض لاعلمی نہیں بلکہ دانستہ غفلت کے زمرے میں آتا ھے۔
جس کو وزیر اعلی محترمہ مریم نواز صاحبہ شہریوں کے قتل جیسے اقدام سنگینی قرار دے چکی ہیں ، یہ سوال اپنی جگہ موجود ھے کہ سیکرٹری اوقاف کی ٹیم کی موجودگی میں، اسی وقت، کھلے مین ہولز کو بند کرنا، حفاظتی رکاوٹیں لگانا اور نکاسی آب کو بہتر بنانا کون سا ناممکن کام تھا؟ مگر افسوس کہ اس مرحلے پر عوامی جان کی حفاظت کے بجائے پسند اور ناپسند، انتظامی فیصلوں اور فائل موومنٹ کو ترجیح دی گئی۔ داتا دربار کے ایڈمنسٹریٹر کو تو تبدیل کر دیا گیا، مگر وہ اصلاحات جن کا براہِ راست تعلق انسانی جانوں کے تحفظ سے تھا، وہ آج

داتا دربار پراجیکٹ عوامی جان اور سرکاری غیر ذمہداریوں کا جاری سلسلہ

تیراہ آپریشن

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے