#اداریہ

بلوچستان میں فتنے کا تدارک ناگزیر ہوچکا

Fahad 01

آج کا اداریہ

بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے 12 مقامات پر حملے ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے 15 جوان شہید اور 18 سویلین جاں بحق ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی غرض سے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 108 ہو گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔ ایدھی چوک پر ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا جس کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کے گھر پر ہونے والے حملے کے دوران اُنھیں یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
اگست سنہ 2024 میں بھی اسی نوعیت کے منظم حملے دیکھنے میں آئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے قبول کی تھی اور ایک بیان میں اس کارروائی کو ’آپریشن ہیروف‘ کا نام دیا تھا
پاک فوج کےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے مقامی عوام کی زندگیوں اور صوبے کی ترقی کو متاثر کرنا تھا، مسلح افراد نے ضلع گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، اور بلوچ خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت اٹھارہ معصوم شہریوں کو شہید کیا۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا اور کلیئرنس آپریشن کے دوران دو خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، فورسز نے کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
بدقسمتی سے، کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور عظیم قربانی دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان مکروہ اور بزدلانہ کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو، جو معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغنوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیے، جو کارروائی کے دوران براہ راست دہشت گردوں سے رابطے میں تھے۔
اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے اکتالیس دہشت گرد ہلاک کیے گئے، یوں گزشتہ دو دنوں میں کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔
علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔
وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلاامتیاز اور مسلسل انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
قبل ازیں بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے شہید ہونے والے 9 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
شہداء کی نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شرکت کی، اس کے علاوہ کور کمانڈر بلوچستان ، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت اعلیٰ حکام بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی سلامتی کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مستعدی اور کامیابی سے ان حملوں کو ناکام بنایا۔
اب وقت آگیا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے مکمل خاتمے کیلیے فیصلہ آپریشن کیا جائے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے