#کالم

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026

Fahad 01

أج کا اداریہ

پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد اور ناروا سلوک روکنے کے لیے بل کی منظور دی ہے جس کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں گھریلو رشتوں میں جڑے افراد کی مرضی کے خلاف ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے‘ یا ’بے بنیاد الزامات پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینے‘ جیسے اعمال قانوناً جرائم تصور کیے جائیں گے۔
ان کی سزا کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد کا بل یعنی ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 پاس کیا گیا ہے جس کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں ہو گا۔
اسلام آباد کے لیے اس نئے قانون کے تحت چند ایسے ’اعمال‘ کو قابل سزا گھریلو تشدد کے زمرے میں لایا گیا ہے جنھیں روایتی طور پر ہمارے ملک میں قانوناً قابل سزا جرائم تصور نہیں کیا جاتا تھا۔
ان ہی شقوں کو لے کر بحث چھڑگئی ہے کہ یہ قانون گھریلو رشتوں کے توازن میں خواتین کو ’غیر ضروری‘ یا ’بے بنیاد‘ اختیارات منتقل کرتا ہے اور یہ کہ خواتین اس بل کا ناجائز فائدہ اٹھاسکتی ہیں جس سے معاشرے میں قباحتیں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔
یہ قانون اور اس کی زیر بحث شقیں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے۔ چند برس قبل پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اُس وقت کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری گھریلو تشدد کا ایسا ہی قانون اور ایسی ہی شقیں پارلیمان میں لا چکی ھیں۔
تاہم حال ہی میں منظور ہونے والے قانون میں مزید چند تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت جو لوگ ریلیف حاصل کر سکتے ہیں ان میں ’خاتون، مرد اور بچے‘ کے علاوہ ’خواجہ سرا، معذور شخص یا عمر رسیدہ شخص‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
گھریلو تشدد کے اس قانون میں جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ بہت سے نفسیاتی اعمال اور زبانی اذیت کے پہلووں کو بھی قابل سزا گھریلو تشدد قرار دیا گیا ہے۔
جیسا کہ ’مرضی کے خلاف تعاقب، ہراساں کرنا، خاتون کی کردار کشی یا بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ گھر میں رہنے پر مجبور کرنے‘ جیسی شقیں اس قانون میں گھریلو تشدد تصور کی گئی ہیں
گھریلو تشدد کے اس قانون میں بہت سی شقیں پرانی ہی ہیں جیسا کہ جسمانی اور جنسی تشدد کی قانونی تعریف وغیرہ۔
تاہم قانون میں نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیت کے بہت سے ایسے ’جدید دور کے پہلو‘ شامل ہیں جو ملک میں لاگو روایتی قوانین کی گرفت میں نہیں آتے۔
اس قانون میں جن اعمال کو نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیت کہا گیا ہے ان میں ’جنونیت کی حد تک بار بار حسد کا اظہار جس سے متاثرہ شخص کی پرائیویسی، راست بازی، آزادی یا سکیورٹی میں مداخلت ہو‘ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ’کسی کی بے عزتی یا تضحیک‘ کرنا اور ’شریک حیات یا گھر میں ساتھ رہنے والے کسی بھی فرد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینا‘ بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ گھر کی کسی خاتون یا کسی دوسرے شخص کی کردار کشی کرنا بھی نفسیاتی یا زبانی تشدد تصور ہو گا۔
اس کے علاوہ جان بوجھ کر یا اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوئے کسی کو چھوڑ کر چلے جانا بھی اسی زمرے میں آئے گا۔ ’نفسیاتی اور زبانی تشدد‘ بھی چند ایسے پہلو ہیں جن پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث ہو رہی ہے
جن اعمال کو نفسیاتی اور زبانی تشدد کے زمرے میں لایا گیا ہے ان میں چند وہ بھی ہیں جو خاص طور پر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ’طلاق کی دھمکی دینا‘ ہے
اس حوالے سے ایک سوال یہ بھی پوچھاجارہاہے کہ ’طلاق کی دھمکی دینا‘ کس طرح گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے؟
تاہم قانون میں صرف طلاق کی دھمکی نہیں کہا گیا۔ قانون میں کہا گیا ہے ’پاگل پن یا بانجھ پن کے بے بنیاد الزامات لگا کر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی‘ دیناقابل گرفت عمل تصورہوگا۔
اس سماجی بحث کے دوران ’سٹاکنگ‘ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہت سے صارفین ’سٹاکنگ‘ کو ‘گھورنے’ کے معنوں میں لے رہے ہیں، تاہم، گھورنا سٹیئرنگ کہلاتا ہے۔ سٹاکنگ کسی کا تعاقب کرنے یا اس قانون کے تناظر میں کسی کی مرضی کے خلاف اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے یا اس کا تعاقب کرنے کے زمرے میں آئے گا۔
بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ’بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا‘ گھریلو تشدد شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس قانون میں گھریلو تشدد میں جنسی تشدد کو بھی شامل کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق اس میں ہر وہ جنسی نوعیت کا طرز عمل شامل ہے جو کسی کمزور شخص کے خلاف ہو، اس کو نیچا دکھائے یا اس کے وقار میں کمی لائے۔
سماجی بہبود کی تنظیوں سے سے منسلک ورکرز خاص طور پر خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ اس قانون پر مندرجہ بالا تمام اعتراضات اور سوالات درست نہیں
یہ قانون صرف خواتین کے لیے نہیں ہے۔ اس کا اطلاق بچوں، بوڑھوں، خواجہ سراؤں، معذور افراد، بزرگوں اور گھر میں رہنے والے دیگر کمزور افراد کے تحفظ کے لیے ہو گا۔
ان کا خیال ھے کہ اس قانون نے نفسیاتی تشدد کی اِن تمام صورتوں کو تفصیل سے پیش کیا ہے جن کا روزمرہ زندگی میں بہت سی عورتوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ’طلاق اور دوسری شادی جیسی دھمکی ایک ایسی تلوار ہے جو ہمیشہ عورت کے سر پر لٹکائی جاتی رہی ہے۔ اب اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس دھمکی سے اس کی صحت متاثر ہو رہی ہے یا وہ اس کو مزید برداشت نہیں کر سکتی تو وہ شکایت کر سکتی ہے۔
اعتراضات اور سوالات زیادہ تر مرد حضرات کی جانب سے ارہے ہیں۔جوبلاجواز ہیں۔ اس قانوں سے گھریلو خواتین کو تحفظ کا احساس ہوگا اور معاشرے میں گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026

27/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے