جامعات:مستقبل کی ریاستی قیادت، اختراع اور قومی طاقت کی نرسریاں
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف

جامعات محض درس گاہیں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ وہ فکری نرسریاں ہوتی ہیں جہاں قوموں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اقوام نہ قدرتی وسائل سے طاقتور بنتی ہیں اور نہ ہی وقتی نعروں سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، بلکہ علم، کردار اور قیادت کے امتزاج سے عروج حاصل کرتی ہیں۔ یہ امتزاج صرف مضبوط، باوقار اور مقصدی جامعات ہی فراہم کر سکتی ہیں۔ اسی لیے دنیا کی ہر بڑی اور بااثر ریاست کے پس منظر میں اس کی جامعات کا کردار نمایاں طور پہ دکھائی دیتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کا حقیقی مقصد محض ڈگری کا حصول نہیں بلکہ انسان سازی ہے—ایسا انسان جو نظام کو سمجھتا ہو، فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، اخلاقی جرات اور ریاستی ذمہ داریوں کا شعور رکھتا ہو۔ جب جامعات محض ملازمت کے لیے افراد تیار کرنے لگیں اور نظام چلانے والے ذہن پیدا نہ کریں تو معاشرے فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب تحقیق، اختراع، قیادت اور قومی مقصد ایک لڑی میں پرو دیے جائیں تو جامعات ریاست کی اصل طاقت بن جاتی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں اگر کسی ادارے نے عملی طور پر یہ کردار ادا کیا ہے تو وہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد ہے۔ ایک صدی سے زائد تاریخ رکھنے والا یہ ادارہ محض تعلیمی مرکز نہیں بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ، زرعی استحکام اور دیہی معیشت کا فکری محافظ ہے۔ پاکستان کی زرعی بنیادوں کی مضبوطی میں اس جامعہ کی علمی و تحقیقی خدمات فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ نے زرعی زہروں، کھادوں، بیج، پولٹری، ڈیری، گوشت، دودھ اور حلال فوڈ کے شعبوں میں دو سو ارب روپے سے زائد کی صنعتیں قائم کیں اور ان کی قیادت کی۔
پاکستان کی پولٹری اور اس سے وابستہ صنعتیں آج سات سے آٹھ ارب امریکی ڈالر سالانہ قومی معیشت میں شامل کر رہی ہیں، اور اس کامیابی کے پیچھے جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی تعلیمی تربیت، تحقیقی بصیرت اور عملی رہنمائی نمایاں ہے۔ حالیہ برسوں میں جامعہ نے تحقیق کو صنعت اور معیشت سے جوڑنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ دفتر برائے تحقیق، اختراع اور تجارتی کاری تحقیق کو پیٹنٹس، اسٹارٹ اپس اور صنعت دوست حل میں تبدیل کر رہا ہے، جبکہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر نوجوانوں کو محض نوکری کا متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بنا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور غذائی عدم تحفظ جیسے عالمی چیلنجز کے دور میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد اسمارٹ ایگریکلچر، پریسیژن فارمنگ، موسمیاتی مزاحم فصلوں، انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ اور پائیدار فوڈ چینز کے ذریعے قومی سطح پر رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ یہی خصوصیات اس ادارے کو ایک تعلیمی ادارے سے بڑھ کر اسٹریٹجک قومی اثاثہ بناتی ہیں۔
نجی شعبے میں اگر کسی ادارے نے عالمی معیار کی قیادت پیدا کر کے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے تو وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) ہے۔ بزنس، اکنامکس، پبلک پالیسی اور ٹیکنالوجی میں اس ادارے نے ایسا تعلیمی ماحول قائم کیا ہے جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ آج ملٹی نیشنل کمپنیوں، عالمی مالیاتی اداروں، جدید اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وژن، خودمختاری اور معیار کے امتزاج سے عالمی سطح کی قیادت پاکستان میں بھی تیار ہو سکتی ہے۔
اسی طرح نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) پاکستان کی تکنیکی طاقت کی علامت بن چکی ہے۔ انجینئرنگ، دفاعی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی میں اس کے فارغ التحصیل افراد ملکی دفاع، صنعت اور تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے تحقیق، پالیسی اور فکری قیادت کے میدان میں پاکستان کو ایسے اذہان فراہم کیے ہیں جو آج سول سروس، سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں میں ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جامعہ پنجاب نے ریاستی فکر، عدالتی نظام اور قومی بیانیے کی تشکیل میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور علمی روایت، کردار سازی اور فکری وقار کی علامت ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد علاقائی سطح پر تعلیم اور صنعت کے ربط کو مضبوط بنانے میں تیزی سے ابھرتا ہوا ادارہ ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت محض منصب سے نہیں بلکہ تربیت سے جنم لیتی ہے۔ قیادت کا سب سے جامع اور آفاقی ماڈل نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جنہوں نے مسجدِ نبوی کو پارلیمنٹ، عدلیہ، بیت المال، عسکری مرکز اور تعلیمی ادارہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ ریاستیں علم، عدل، مشاورت اور اخلاق سے تشکیل پاتی ہیں۔ آج کی جدید جامعات پر بھی یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ملازم نہیں بلکہ منتظم، مصلح اور قائد پیدا کریں۔
اسی تناظر میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان کی جامعات اپنے روایتی ڈگری ڈھانچوں پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں اور تعلیم کو براہِ راست مارکیٹ، معیشت اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ کریں۔ کمپیوٹر سائنس و مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ، بزنس اینالیٹکس، فِن ٹیک، سائبر سیکیورٹی، رینیوایبل انرجی انجینئرنگ اور بائیوٹیکنالوجی جیسے پروگرام اب محض انتخاب نہیں رہے بلکہ روزگار، اختراع اور عالمی مسابقت کی بنیاد بن چکے ہیں۔
اسی طرح زرعی جامعات کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے قومی و عالمی تقاضوں کے مطابق اپنی توجہ ایسے ڈگری پروگرامز پر مرکوز کریں جو براہِ راست مارکیٹ سے ہم آہنگ ہوں۔ ایگری بزنس مینجمنٹ، فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی، پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس، اینٹومولوجی و انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ، پریسیژن و اسمارٹ ایگریکلچر، سیڈ سائنس اور پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے باوقار روزگار، قومی زرعی ترقی اور برآمدی صلاحیت میں اضافے
کے موثر راستے فراہم کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ جیسی جامعات اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ فکری رواداری، علمی آزادی اور تنقیدی مکالمہ ہی عالمی قیادت کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف قائدین تیار کرتے ہیں بلکہ اپنی تحقیق اور دانش کے ذریعے ریاستوں کو گورننس، پالیسی سازی






