#کالم

مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا

Untitled 1 Recovered copy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

ایک شخص شادی کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ ماں اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہی ہے۔ ماں کے سامنے پیٹے کے لیے دو لڑکیاں خاندان کے اندر سے ہیں اور تین لڑکیاں خاندان کے باہر سے۔ اگر ظاہری نظر سے دیکھا جائے تو ان پانچ لڑکیوں میں سے کسی ایک سے بھی شادی کے امکانات 1/5 ہیں (Probability Theory ) ۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ ان پانچ میں سے خاندان کی دونوں لڑکیاں گھریلو ہیں اور واجبی تعلیم یافتہ ہیں اور باہر کی تین لڑکیوں میں ایک ڈاکٹر، ایک لیکچرر اور ایک آرکیٹیکٹ ہے۔ یوں بظاہر یہ فیصلہ محض ایک انتخاب ہے مگر اس کے نتائج لامتناحی امکانات کے در کھولتے چلے جاتے ہیں۔

ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سیدھی لکیر ہے۔ ایک لڑکے نے ایک لڑکی سے شادی کی، زندگی شروع ہو گئی، بچے پیدا ہوئے، پرورش ہوئی اور کہانی آگے بڑھتی گئی۔ مگر ذرا ٹھہریے! حقیقت میں ایسا نہیں۔ جب ان پانچ ممکنہ لڑکیوں میں سے ایک کا انتخاب ہوتا ہے تو اصل میں صرف ایک عورت زندگی میں داخل نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ کم از کم پانچ نسلوں کی وراثتی تاریخ، خاندانی مزاج، اخلاقی جھکاؤ، ذہنی ساخت، صحت کے رجحانات، بیماریوں کے امکان، علم اور حساسیت کے رنگ، سب شامل ہو جاتے ہیں۔ دو انسان نہیں ملتے، بلکہ دو بڑی اور طویل لڑیوں کا ملاپ ہوتا ہے اور اس ملاپ سے جو بچے جنم لیتے ہیں وہ محض جسم نہیں ہوتے بلکہ لاکھوں برس کی تاریخ، جینیات کے انوکھی تراکیب اور نت نئے امکانات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ اگر ماضی میں جا سکتے تو کیا ہوتا؟ اگر پہلی محبت سے شادی ہو جاتی؟ اگر لکچرر کی بجائے ڈاکٹر سے شادی ہو جاتی ؟ فلاں فیصلے پر ہاں کے بجائے ناں کہہ دیتے؟ اگر اس موڑ پر زندگی کا رخ بدل لیتے تو آج کہاں ہوتے؟ مگر ظاہر ہے ماضی میں لوٹنا ممکن نہیں۔ زندگی ایک طرف بہتی ہوئی ندی کی طرح آگے بڑھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ندی کس طرح بہتی ہے؟ کیا واقعی ہم اسے چلاتے ہیں یا یہ ہمیں بہا لے جاتی ہے؟

اگر ہم تاش کے باون پتوں میں سے ایک پَتَہ ہوتے تو شاید معاملہ آسان ہوتا۔ وہاں صرف 52 کارڈز ہیں، چار سوٹ، ہر سوٹ میں تیرہ کارڈ، ایک سے دس تک پھر جیک، کوئن اور کنگ۔ وہاں تمام کمبینیشن نکالے جا سکتے ہیں، ہر ممکنہ ترتیب کی فہرست بن سکتی ہے۔ ہر انگلی چال کو جانچا جا سکتا یہ علمِ شماریات کی برانچ Probability theory سے ممکن ہے مگر انسان تاش کے پتوں کی طرح محدود نہیں۔ یہاں معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے، کیونکہ یہاں صرف معاشرتی اور سماجی امکانات نہیں بلکہ جینیاتی امکانات بھی شامل ہیں۔
انسان کے جسم میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں، 23 ماں سے اور 23 باپ سے۔ سائنس بتاتی ہے کہ صرف والدین کے کروموسوم کی آزاد تقسیم (Independent Assortment) کے نتیجے میں ہی ہر والدین تقریباً 2^23 یعنی تقریباً 84 لاکھ مختلف جینیاتی کمبینیشن دے سکتے ہیں۔ جب والد کے 84 لاکھ امکانات ماں کے 84 لاکھ امکانات سے ملتے ہیں تو صرف ایک جوڑے سے تقریباً 70 ٹریلین (70,000,000,000,000) ممکنہ مختلف انسان پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور یہ صرف بنیادی کمبینیشن ہیں۔ اس کے بعد جینیاتی کراسنگ اوور ہوتی ہے، کروموسوم آپس میں حصے بدلتے ہیں، DNA کے اندر مزید ملاپ ہوتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر بچہ عملاً ایک ایسا منفرد ڈیزائن بن جاتا ہے جو پہلے کبھی دنیا میں نہیں آیا تھا اور نہ آئندہ ویسا دوبارہ آئے گا۔ یعنی انسان کے امکانات تاش کے پتوں جیسے محدود نہیں بلکہ سائنسی زبان میں بھی تقریباً لامتناہی کے قریب ہیں۔
اب ذرا سوشیالوجی کی طرف آ ئیں آ پ گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پلان کرتے ہیں، ہم فیصلہ کرتے ہیں، ہم کنٹرول میں ہیں۔ مگر جیسے ہی ہم دہلیز پار کرتے ہیں، ہزاروں ایسے متغیرات ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں: موسم، حادثات، بیماری یا صحت، حالات کے اتار چڑھاؤ، معیشت کے جھونکے، کسی انجان شخص کی ایک حرکت، کسی ملاقات کا اچانک ہو جانا، ایک فون کال، ایک جملہ جو زندگی کی صورت بدل دے۔ سائنس کہتی ہے کہ زندگی محض سیدھی لکیر نہیں بلکہ ایک Probabilistic اور Chaotic System ہے، جہاں ذرا سی تبدیلی مستقبل میں بہت بڑے فرق کا باعث بنتی ہے۔ اسے Butterfly Effect کہتے ہیں کہ کسی معمولی واقعے کی بازگشت کبھی کبھی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
ہم اپنی خواہشوں کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں: یہ ہم کر رہے ہیں، ہماری عقل، ہماری منصوبہ بندی، ہمارا اختیار… مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا بہت بڑا حصہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ ہم فیصلے تو کرتے ہیں مگر نتائج کسی اور کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ ہم ایک شاخ پر بیٹھے پرندے کی طرح خود کو پر یقین سمجھتے ہیں، حالانکہ اصل سہارا شاخ نہیں بلکہ وہ قدرتی نظام ہے جو ہمیں تھامے رکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم تو بس اس عظیم تر نظام کے اندر بہتے ہوئے ذرے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہوا ہمیں لیے پھرتی ہے بالکل خشک پتوں کی طرح۔ ہم چلتے ہیں مگر چلائے جاتے ہیں، ہم سوچتے ہیں مگر زندگی کی اصل شطرنج کہیں اور سے کھیلی جا رہی ہوتی ہے۔

شاید زندگی کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ امکانات بے شمار ہیں، نتائج بے حد ہیں اور ہم ان گنت راستوں میں سے ایک راستے پر بس ایک مسافر ہیں۔ یقین کے ساتھ چلئے، مگر یہ جانتے ہوئے کہ اس کائنات کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں نہیں، ہم تو بس اس عظیم نظم کا حصہ ہیں جسے کوئی اور چلا رہا ہے۔

جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا
(احمد ندیم قاسمی )

اب مشکل یہ ہے واپس ماضی میں جا کر غلطیوں کو سدھارا جا نہیں سکتا اور بقول اقبال

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

اس قدر متغیر دنیا میں جہاں ہر قدم پر ہزاروں راستے نکلتے ہوں صحیح راستے کا انتخاب کیسے کیا جائے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے