#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:17

Untitled 13

(شاہد بخاری)

اک ہم سفر اچھا لگا:
غزلیات: 160 منظومات: 47
صفحات 208 اشاعت: 1998 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب:
”لفظ جو کچھ بھی لکھیں اس کا نام بنے
رنگ جو تصویر بنائیں ا سکی تصویر بنے
سروں سے جو نغمہ بھی پیدا ہو وہ ا سکا نغمہ ہو۔۔اس کے نام“
ڈاکٹر شیخ اقبال اس مجموعے میں تخیل کے حوالے سے کچھ یوں خامہ فرسا ہیں:
”شعری تخلیقات، ساحلِ تشنہ لب، سوالیہ نشان کے بعد”اک ہم سفر اچھا لگا“کی اشاعت پر قدرے مطمئن ہوں کہ کچھ رنگ اور نکہتیں میرے جذبوں میں سرایت کر کے پھر حرفوں میں متشکل ہو گئی ہیں اور وہمِ درازیئ حیات کے لئے دعا گو ہیں، اک ہم سفر اچھا لگا میں دس سالہ سوتی جاگتی،روتی ہنستی،اجڑتی بستی زندگی کی حکایات محفوظ سی ہوئی لگتی ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ تو میں نہیں کر سکتا کہ میں خود اپنی ”میں“ سے بہت واقف نہیں ہوں۔ ہاں کچھ یاد پڑتا ہے کہ ابھی جانے کیسے کچھ آنسو شعروں میں ڈھل گئے، کچھ محبتیں غزلیں بن گئیں اور کچھ اداسیوں نے لفظوں کا روپ دھار لیا۔ مجھے تسلیم ہے کہ کچھ زندہ لمحے مجھے ضرور ملے وگرنہ میں کہاں اور متاعِ لوح و قلم کہاں؟ میری نابینائی پر کچھ بینائیاں اتریں، میری بے سماعتی کے کانوں میں کچھ گاتے لمحوں نے رس گھولے، میری بے بسی نے بعض اوقات مجھے آسمان پر سر یر آراء کر دیا،کبھی میں سر کے بل گرا کبھی منہ کی کھائی، کبھی راکھ کا ڈھیر بن گیا ان سب جلتے بجھتے لمحوں کی داستان شاید ان صفحات میں موجود ہو، اگر ایسا ہے تو میں خوش ہوں اور اگر ایسا نہیں بھی ہے تو کیا ہوا؟ ”اک ہمسفر اچھا لگا“ تو تخلیق ہو گیا۔ اس تخلیق میں میں ان لمحوں کا شکر گزار ہوں جن کے نام لینے سے مجھے زندہ در گور کیا جا سکتا ہے میری کھال کھنچوائی جا سکتی ہے۔ مجھے تختہء دار پر چڑھایا جا سکتا ہے لیکن نہ نام لے کر بھی مجھ پر کم و بیش کبھی یہی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے لیکن جانے کیوں یہ کتنی شیریں اور جان بخش سی لگنے لگتی ہے ان دس سالوں کی روداد اگر اور مہلت مرگ و زیست ملی تو شاید رقم کرتا رہوں گا،بالکل اسی طرح جس طرح ان لمحوں کی جو اُن سے پہلے گزر گئے“
امجد اسلام امجد ”اک ہم سفر اچھا لگا“ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”شیخ محمد اقبال کی شاعری آسان، سادہ، دلکش اور پُر تاثیر ہے۔ وہ عام طور پر بہت مترنم اور نغمگی سے بھر پور بحور استعمال کرتے ہیں اور لمبی ردیف کو بھی بہت سہولت اور مہارت سے نبھا جاتے ہیں۔ان کی شاعری میں رومان اور تغزل کے ساتھ ساتھ عصری شعور اور مضمون آفرینی بھی ملتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فطری محرومی کو نہ تو اشتہار بنایا ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ نئی، انوکھی،مختلف اور پہلو دار بات کرنے سے نہ صرف یہ کہ گھبراتے نہیں بلکہ اس کے ابلاغ میں نت نئے انداز بھی بڑی کامیابی سے اختیار کرتے ہیں،یہ خوبی ان کی مختصر نظموں میں اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کایہ مجموعہء کلام ”اک ہمسفر اچھا لگا“ اردو شاعری کے قارئین کو اپنی منفرد خوبیوں کی وجہ سے بہت پسند آئے گا“
ڈاکٹر عاصی کرنالی یوں رقم طراز ہیں:
”اس مجموعے کی شاعری کے حوالے سے زمانہء حال میں قدم جما کر ماضی سے رابطہ اور مستقبل پر نظر رکھی ہے۔یہ شاعری ہر سہہ زمانوں کا احاطہ کرتی ہے اور تخلیق کار کی عصری بصیرت کے ساتھ ماضی کی روایت سے اس کے ارتباط اور عہدِ آئندہ کے امکانات سے اس کی وابستگی کا مظہر نامہ ہے“
پروفیسر خورشید الحسن رضوی ”اک ہم سفر اچھا لگا“ کے بارے میں لکھتے ہیں:
”ا ن کا تازہ شعری مجموعہ ”اک ہم سفر اچھا لگا“اس امر کی بین دلیل ہے کہ جادہ سخن پر ان کا سفر مسلسل جاری ہے اور ان گونا گوں سرگرمیوں نے ان کی تخلیقی ثمروری کو متاثر نہیں کیا۔”اک ہمسفر اچھا لگا“ میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی، غمِ ذات بھی، غمِ کائنات بھی، غمِ جاناں بھی،، غمِ دوراں بھی،، مطلعِ دل پر حسن کے چاند کا انکشاف بھی اور جیب میں لمبی سی خریداری کی لسٹ بھی، انگریزی ادب شیخ محمد اقبال صاحب کا مہمان خاص ہے اور ان کے ہاں چاسر، شیکسپیئر،ملٹن، کیٹس، ڈن اور ایلیٹ کے رنگ سخن کی طرف اشارے،ان کے ذہن میں پھوٹنے والی اس قوسِ قزح سے ان کے اپنے کلام کے ابر پاروں کو رنگین کرتے دکھائی دیتے ہیں“
پروفیسر ریاض احمد شاد اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں ’’اک ہم سفر اچھا لگا“ کے ہم سفر کا کچھ یوں کھوج لگاتے ہیں:
”شیخ اقبال کے ہمسفروں میں سے ایک ہونے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہے لیکن میں یقینا وہ اک ہم سفر نہیں ہوں جو شیخ صاحب کے نئے مجموعہ کلام کا محور ہے لیکن میں اس ہم سفر کی ہمت کا معترف ہوں جو شیخ صاحب کی بے چین شخصیت کو اچھا لگا۔ ورنہ میرامشاہدہ ہے کہ شیخ اقبال کی چاہت میں کڑے معیار پر پورا اترنا کسی معمولی شخص کا کام نہیں ہے۔ لہٰذا میں اس اک ہم سفر کو جانے بغیر سلام پیش کرتا ہوں۔ شیخ صاحب جس قسم کے سفر پر چلتے آ رہے ہیں اس کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ آپ ایک ہمالہ پر مستقل مزاجی سے چڑھنا شروع کرتے ہیں پھر بڑی تگ و دو کے بعد جب آپ چوٹی کے قریب پہنچتے ہیں اور انہیں اپنے سفر کا اختتام ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہ آگے جانے کا ارادہ ترک کر کے کسی دوسرے ہمالہ کا رُخ کر لیتے ہیں۔اس طریقہء سفر میں شیخ صاحب کی بے قرار طبیعت کو تو یقینا قرار ملتا ہو گا لیکن ان کے ہم سفر کے بارے میں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے ساتھ ہمدردی کی جائے یا اسے خراجِ تحسین پیش کیا جائے“
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے