پاکستان سپر لیگ میں مزید دوٹیموں کی انٹری
أج کا اداریہ
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوگیا، جہاں او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی کے ذریعے حاصل کی، جبکہ اس سے چند لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں خریدی۔
یہ بولیاں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سامنے آئیں۔
پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم ’حیدر آباد‘ ایف کے ایس گروپ کے فواد سرور نے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دے کر خریدی۔ امریکہ میں کرکٹ کی مختلف ٹیموں کے مالک اس سرمایہ کار گروپ نے ٹیم کے نام کے لیے حیدرآباد شہر کا انتخاب کیا۔
جبکہ آٹھویں ٹیم ’سیالکوٹ‘ اوزی ڈیویلپرز نے 185 کروڑ روپے کی کامیاب بولی لگا کر اپنے نام کی۔
کامیاب بولیوں کی رقم دراصل سالانہ فیس ہے جو ساتویں اور آٹھویں ٹیم کے مالکان سالانہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ادا کریں گے
بولی جیتنے والی فرنچائزز کو 10 برس کے لیے حقوق دیے جائیں گے جو 2035 تک جاری رہیں گے۔ جبکہ بعد میں فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (یعنی ترجیحی تجدید کا حق) بھی حاصل ہو گا۔
بولی دستاویز کے مطابق پی سی بی نے ہر نئی فرنچائز کو آئندہ پانچ سیزنز کے لیے کم از کم 85 کروڑ روپے فی سیزن آمدن کی ضمانت دی ہے۔
اس نیلامی کے لیے 10 بولی دہندگان کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن جمعرات کو ہونے والی تقریب سے قبل ملتان سلطانز کے سابقہ مالک علی ترین نے بولی کے عمل میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔
یہاں پرزم گروپ نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگا تو ایسا لگنے لگا کہ اب یہ کمپنی بھی بھاری رقم کی بولی لگائے گی۔ پانچ منٹ کا وقفہ ختم ہوا تو بھی پرزم نے کوئی بولی نہ لگائی۔ اس دوران آئی ٹو سی بولی بڑھاتے بڑھاتے 170 کروڑ پر لے گئی لیکن جب ایف کے ایس نے 175 کروڑ کی بولی لگائی تو کسی بھی بولی دہندہ کے پاس اس کا جواب نہ تھا۔
ایف کے ایس گروپ کے نمائندے نے بولی کے بعد منتظمین کو بتایا کہ ’منصوبہ یہی تھا کہ خالی ہاتھ نہیں جانا
دوسری ٹیم کے لیے بولی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا تو ابتدائی قیمت 170 کروڑ روپے رکھی گئی۔ اب میدان میں آٹھ کمپنیاں رہ گئی تھیں۔ ایم نیکسٹ انکارپوریٹڈ نے پہلی بولی 171 کروڑ روپے کی لگائی۔ رقم بڑھتے بڑھتے 173 کروڑ روپے تک پہنچی تو آئی ٹو سی نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگ لیا۔ پانچ منٹ کے وقفے کے بعد ان کی بولی تھی 175 کروڑ روپے
اس کے بعد مزید بولیاں بھی آئیں اور 178 کروڑ روپے پر جا کر یہ معاملہ انجام تک پہنچتا محسوس ہوا۔ کوئی بھی بولی دہندہ اس سے اوپر جانے کے لیے تیار نظر نہ آتا تھا۔ اسکرین پر آخری 30 سیکنڈ والا ٹائمر بھی چلنا شروع ہو گیا تھا، لیکن آخری 24 ویں سیکنڈ پر آئی ٹو سی کی طرف سے بولی آئی 180 کروڑ روپے کی۔
اب او زی ڈیولپرز نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگا۔ پانچ منٹ کے بعد ان کی بولی تھی 181 کروڑ روپے۔
اب کے پھر کوئی بھی زیادہ بولی لگانے کو تیار نہ تھا۔ بولی دہندگان بار بار اپنے موبائل فونز کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپس میں بات کر کے سر ہلا رہے تھے۔
دوبارہ سے آخری 30 سیکنڈ کا ٹائمر چلنا شروع ہوا، اور 18 ویں سیکنڈ پر آئی ٹو سی سے 182 کروڑ روپے کی بولی آ چکی تھی۔ اوزی ڈیولپرز یہ بولی بڑھا کر 185 کروڑ روپے پر لے گئے
یہ وہ رقم تھی کہ کسی بولی دہندہ نے اس سے اوپر کی پیش کش نہ کی۔ یوں بولی کے دوسرے مرحلے میں پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم او آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے او زی ڈیولپرز کے پاس چلی گئی۔ اس گروپ نے ٹیم کے نام کے لیے سیالکوٹ کا انتخاب کیا۔
پی ایس ایل فرنچائز کے حصول کا یہ موقع آٹھ برس کے وقفے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ لیگ 2016 میں اپنے پہلے سیزن کے بعد اب ایک دہائی مکمل کر چکی ہے۔
پی ایس ایل کا آغاز ابتدا میں پانچ ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا اور اس وقت میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلے جاتے تھے۔
پی سی بی، جو موجودہ معاہدوں کے تحت پی ایس ایل کا واحد ریگولیٹری ادارہ ہے، پہلے ہی 2026 سے لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا، جس کے تحت ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی تھی، پہلے 15 دسمبر سے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک، کیونکہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ لندن اور نیویارک میں ہونے والے روڈ شو بھی بنے۔
پی ایس ایل کا آئندہ سیزن رواں برس مارچ میں شروع ہو رہا ہے اور اس مرتبہ پہلی مرتبہ اس سیزن میں چھ کے بجائے آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گے۔ اس عرصے کے دوران نئی شامل ہونے والی ٹیموں کے مالکان اپنے اپنے ناموں کو حتمی شکل دیں گے اور لوگو تیار کریں گے۔
خیال رہے کہ ملتان سلطانز رواں برس کسی مالک کے پاس نہیں ہو گی اس لیے اسے پاکستان کرکٹ بورڈ رواں برس خود اس کو چلائے گا






