نور کے ہیں سلسلے یہ چار سو ٹہرے ہوئے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب ( امریکہ)
دنیا کی آبادی آج تقریباً 8 ارب سے کچھ زیادہ یعنی تقریباً 8.1 ارب ہے۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ ان میں سے تقریباً 6.8 ارب لوگ Believers یعنی کسی نہ کسی خدا، الہامی نظام یا ماورائی قوت کو ماننے والے ہیں، جبکہ تقریباً 1.3 ارب ایسے لوگ ہیں جو کسی خدا یا غیبی نظام کو نہیں مانتے۔ اس طرح دنیا کی تقریباً 84 فیصد آبادی Believer ہے اور 16 فیصد Non-Believers ، مگر جب کبھی ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو بات ایک خاص جگہ پر آ کر رک جاتی ہے۔ Believers یہ کہتے ہیں کہ ہر Effect کے پیچھے ایک Cause ہے، سو کائنات کے پیچھے ہستی باری تعالیٰ موجود ہے جس نے یہ سارا نظام بنایا اور وہی ہے جو اسے چلا رہی ہے۔ لیکن Non-Believers یہ کہتے ہیں کہ اگر یہی منطق ہے تو اسے مزید آگے بڑھانا ہو گا ، صرف خدا کے تصور تک آ کر رُک جانا یہ اپنی ہی دلیل کی نفی ہے – یوں دونوں اپنے اپنے نظریات سینے سے لگائے خاموشی سے اپنے اپنے مورچوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔
گزشتہ کالمز میں یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ RNA، DNA، یک خلوی جاندار سے لے کر نباتات، حیوانات اور پھر انسان تک حیات کا سفر ایک نہایت منظم اور اعلیٰ ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ سائنس خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ غیر ترتیب سے خود بخود اچانک اعلیٰ ترتیب پیدا ہو جانا عقل اور سائنسی اصولوں کے خلاف ہے ۔ اسی لیے Non-Believers کا یہ سوال کہ ہم کاز اینڈ ایفکٹ کا سلسلہ خدا کے تصور تک تو بڑھاتے ہیں مگر اس کے آگے نہیں جاتے اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال ان پر بھی بنتا ہے، اور اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں خالق اور تخلیق کے باہمی رشتے کی حدود کا تعین کرنا ہو گا –
ایک شاعر غزل تخلیق کرتا ہے، ایک انجینئر گاڑی اور ایک مصور تصویر بناتا ہے۔ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے یا ایسا ممکن ہے کہ ایک دن شاعر کے دروازے پر دستک ہو، وہ دروازہ کھولے تو دیکھے کہ اس کی غزل مجسم کھڑی ہے اور کہہ رہی اچھا تو ہے میرا خالق ؟ یا کیا گاڑی اپنے مینوفیکچرر کی ذات کا احاطہ کر سکتی ہے ؟ کیا تصویر اپنے مصور کی حقیقت جان سکتی ہے؟ ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں۔ غزل کے نیچے خالق اپنا نام خود لکھ کے بتاتا ہے یہ میں ہوں جس نے اسے لکھا ، اسی طرح گاڑی پر Toyota اور تصویر کے ساتھ Picasso کے ناموں کا علم ہمیں ان کے تخلیق کاروں سے ہی ہوتا ہے۔
اسی لیے انسان پر اس کے خالق کی طرف سے الہامی کتابیں اتاری گئیں، سو ان میں اللہ نے کائنات کے بارے میں اور انسان کے بارے میں جو کچھ بتایا انسان بس اسی حد تک جان سکتا ہے۔ ہاں ان الہامی کتابوں کی حقانیت کی پرکھ کا سمجھ آ نے والا طریقہ یہی ہے کہ ہم یہ جان سکیں کیا سائنس کی بے پناہ ترقی کے بعد ایسا کوئی مقام آیا جہاں الہامی حقائق سائنس سے ٹکرائے ہوں؟ ہم جتنا بھی غور کرتے ہیں معاملہ اس کے برعکس ملتا ہے۔ قرآن میں ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کے مرحلے “نطفہ، علقہ، مضغہ” کی صورت میں نہایت جامع اور حیران کن سائنسی ترتیب کے ساتھ بیان کیے گئے، جو جدید ایمبریالوجی نے بہت بعد میں ثابت کیے۔ قرآن نے علمِ بحر کے حوالے سے یہ خبر دی کہ دو سمندر ملتے ہیں مگر ایک دوسرے میں مکمل مدغم نہیں ہوتے، جس کی سائنسی توجیہہ بعد میں سامنے آئی۔ قرآن نے فرعون کے جسم کے محفوظ رہنے کا ذکر بھی کیا، جو بعد میں سائنسی و تاریخی تحقیق سے ثابت ہوا۔ قرآن نے خود اپنے ہمیشہ محفوظ رہنے کا دعویٰ کیا، اور چودہ سو سال میں اس کی ایک سطر تک تبدیل نہ ہو سکی۔ یہ محض چند مثالیں ہیں اس مضمون کو مزید کھولتے چلے جائیں یہ کھلتا چلا جائے گا –
ہر سال سائنس میں ملنے والے نوبل انعامات ، خاص طور پر کوانٹم فزکس میں سامنے آنے والی دریافتیں یہ بتاتی ہیں کہ ہماری کم علمی اس سال کچھ اور بڑھ گئی ہے۔ مثلاً کائنات میں ایسے قوانین دریافت ہو رہے ہیں جن میں ذرات ایک دوسرے سے لاتعداد فاصلے پر ہونے کے باوجود آپس میں حیرت انگیز طور پر جڑے رہتے ہیں۔ اسے Quantum Entanglement کہا جاتا ہے۔ بہت سی صورتوں میں جب ایک الیکٹران اور اس کا Anti-Particle یعنی Positron ایک ساتھ Pairing میں پیدا ہوتے ہیں تو ان دونوں کی Spin ایک دوسرے کے بالکل Opposite مقرر ہوتی ہے۔ اگر ایک کا Spin Clockwise ہو تو دوسرے کا Anti-Clockwise ہوتا ہے۔ اب اگر کسی مقام پر الیکٹران کے Spin کی سمت بدل دی جائے (مثلاً Anti-Clockwise سے Clockwise کر دی جائے) تو سائنس یہ دکھاتی ہے کہ اسی لمحے دوسری طرف موجود Positron کا Spin خودبخود الٹ کر Anti-Clockwise ہو جاتا ہے ، چاہے ان دونوں کے درمیان فاصلہ شمالی اور جنوبی قطب جتنا کیوں نہ ہو۔ درمیان کے فاصلے، وقت اور مادی حدود اس تعلق کو توڑ نہیں سکتیں۔ گویا کائنات کے اندر ایک ایسا لطیف، پوشیدہ رابطہ موجود ہے جو ہماری عام عقل اور سائنس کے پیمانوں سے کہیں بلند ہے۔ یہ حقیقت انسان کے سامنے یہ سوال رکھتی ہے کہ جب بے جان ذرات کے درمیان اتنا گہرا تعلق ممکن ہے تو انسان اور کائنات کے درمیان، اور انسان اور اپنے خالق کے درمیان کتنے امکانات کے در وا ہو سکتے ہیں ، یہ دریافتیں یہ کھولتی ہیں کہ کائنات محض مادہ نہیں بلکہ بہت بڑے پیچیدہ اور کہیں زیادہ گہرے نظام کا حصہ ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ زندگی خاک سے شروع ہو کر خاک پر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر قرآن یہ دلیل دیتا ہے کہ جس نے عدم سے انسان کو وجود دیا وہ دوبارہ اسے کیوں نہیں کر سکتا ؟ حیات بعدالموت کے بارے میں اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے ،
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي
(سورہ الأعراف 7:187)
ترجمہ: “وہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب آئے گی، کہہ دیجیے: اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے۔”






