#اداریہ

پاکستان اور بھارت کے حوالے سے دو غیر اخبارات کی رپورٹس

Fahad 01

أج کا اداریہ

پاکستان اور بھارت سے متعلق دو رپورٹس سامنے أئی ہیں جو غیرملکی اخبارات میں شائع ہوئی ہیں ۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزنے لکھا کہ  بھارت کے لیے 2025 بحرانوں کا سال ثابت ہوا، پاک بھارت فوجی کشیدگی، کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے بھارت کو مسائل کی زد میں رکھا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز  کی جانب سے بھارت سے متعلق رپورٹ سامنے آئی ہے۔ 
برطانوی اخبار کے مطابق  بھارت کے لیے 2025 بحرانوں کا سال ثابت ہوا رہا، ناکام اسٹریٹجک خودمختاری پربھارت کو امریکا، چین، روس سے تعلقات میں مجبور ہونا پڑا۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025  میں پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا سے تجارتی محاذ آرائی، مہلک طیارہ حادثہ جبکہ کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے بھارت کو مسائل کی زد میں رکھا
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں امریکا بھارت تجارتی معاہدہ کئی بار ملتوی ہوا، امریکی ٹیرف سے بھارت پراقتصادی دباؤ پڑا، جی ایس ٹی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے سے معاشی ترقی میں رکاوٹ رہی،  2025 میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینا بھارت کی بڑی ناکامی رہی
ماھرین  کے مطابق برطانوی اخبار نے ٹرمپ کے پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط کو بھارتی سفارتی ناکامی قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ  امریکا میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش محدود ہونا بھارت کی کمزور پوزیشن ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق  بھارت میں روپے کی گراوٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مزید معاشی بحران نظر آتا ہے، امریکابھارت تجارتی معاہدوں میں ناکامی بھارت کی عالمی معاشی ساکھ میں خلا کی علامت ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت 2025 میں مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کرتا دکھائی دیا، بھارت کیلئے 2026 اندرونی کمزوریوں کے سبب چیلنج بنتا دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق  بھارت کیلئے 2026 علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کے تناظر میں بھی بڑھتا چیلنج نظر آتا ہے
ایک اور غیر ملکی اخبار کی رپورٹ میں پاکستانی اکانومی کے مثبت اشاریے بیان کیے گئے ہیں
امریکی جریدے  بلوم برگ  نے  پاکستان  میں  مہنگائی  میں نمایاں بہتری  اور  پالیسی استحکام کی تصدیق کر دی۔
بلوم برگ نے  پاکستان سے متعلق جائزہ  رپورٹ جاری  کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان میں قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم ونسق بہتر ہو رہا ہے۔ دسمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا جو توقعات اور نومبر کے 6.1 فیصد  سے کم ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کم ہوا  ہےاور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ  خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا ہےاور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی ہے۔  اسٹیٹ بینک نے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر کیا۔  شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابلِ کنٹرول ہونےکا واضح اشارہ ملا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق کم شرحِ  سود سے کاروبار  اور  سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونےکی امید بڑھی ہے۔ قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق کم مہنگائی سے قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کےلیے ریلیف کے امکانات بڑھے ہیں۔ دسمبر کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوا کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئےہیں۔ مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے
ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت کمزوری سے بہتری کی جانب گامزن جبکہ بھارت کی معاشی صورت حال تشویش ناک حد تک بگڑتی چلی جارہی ہے۔ دونوں ممالک کا معاشی جائزہ لیا جائے تو سفارتکاری کا عمل دخل نمایاں نظر أتاہے ۔ پاکستان نے پڑوسی ممالک سمیت روس چین. اور امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھے اور مزید مضبوطی کے اقدامات اٹھائے۔ عرب ممالک اور دیگر جنوبی مشرقی ریاستوں کے روابط نہ صرف قائم رکھے بلکہ مزید بہترکیے۔اسکے برعکس بھارت نے خطے کے بیشتر ممالک سے چھیڑ چھاڑ کے علاوہ امریکہ’ کینیڈا اور بعض یورپی ممالک کے ساتھ سردمہری کے ساتھ ساتھ وہاں منفی سرگرمیوں کو بھی جاری زکھا۔جس سے مذکورہ ممالک بھارتی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے حوالے سے دو غیر اخبارات کی رپورٹس

02/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

پاکستان اور بھارت کے حوالے سے دو غیر اخبارات کی رپورٹس

مسجد کی خالی کرسیاں 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے