#کالم

محمد علی جناح — ہمت و حوصلہ کی تاریخ

Untitled 13456

تحریر: امجد علی
فائنل
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آج پچیس دسمبر 1876ء ہے۔ میں کراچی کے قدیم علاقے کھارادر میں موجود ہوں۔ میرے سامنے وزیر مینشن کی باوقار عمارت کھڑی ہے۔ ایک ایسا گھر جو محض اینٹوں اور پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ تاریخ کے ایک عہد کی بنیاد ہے۔ اہل محلہ بتاتے ہیں کہ اس گھر میں ایک مالدار تاجر خاندان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ گھر میں خوشی و خوشحالی ہے، مسرتیں ہیں، مگر کسی کو کیا خبر کہ یہ بچہ آنے والے وقت میں تاریخ کا دھارا موڑ دے گا۔
یہ جناح پونجا بھائی اور مٹھی بائی کا گھر ہے۔ جناح خاندان کراچی کے تجارتی اور سماجی حلقوں میں ایک معتبر نام ہے۔ چند ہی دنوں میں محمد علی جناح نومولود کا نام رکھ دیا گیا۔ ۔ بھائی تو خاندان کی شناخت ہے، سو نام کے ساتھ وہ بھی جڑ گیا۔ وقت گزرتا ہے، مہینے سالوں میں بدلتے ہیں، اور والد اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ محلے میں یہ بچہ اب محمد علی جناح بھائی کے نام سے پہچانا جانے لگا ہے۔

جب میں یہ سطور پڑھتا اور سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو اپنی ذات میں ایک پورا عہد تھا ایسا عہد جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تقدیر بدل دی۔ وزیر مینشن کو اب ان کی جائے پیدائش کے طور پر ایک قومی یادگار اور میوزیم کی حیثیت رکھتا ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم تاریخ اکثر سادہ گلی محلوں سے جنم لیتی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی میں سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشنری اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے، جہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپس آ کر وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے اور اپنی غیر معمولی ذہانت، دیانت اور وکیلانہ بصیرت کے باعث بہت جلد ممتاز مقام حاصل کر لیا۔

ان کی سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے ہوا، تاہم بہت جلد وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ جماعت عملاً اکثریتی طبقے، خصوصاً ہندو مفادات کی نمائندہ بن چکی ہے، جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق مسلسل نظرانداز ہو رہے تھے۔ یہی وہ فیصلہ کن موڑ تھا جب قائداعظم نے ایک تاریخی قدم اٹھایا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص اور ایک آزاد وطن کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس راہ میں مخالفت کی تند و تیز آندھیاں بھی چلتی رہیں، مگر قائد کی نڈر، اصولی اور ثابت قدم قیادت نے پیش آنے والی ہر مشکل کو حوصلے، تدبر اور عزم کے ساتھ عبور کیا۔

ان کی قیادت میں مسلم لیگ نے قرارداد لاہور 1940ء کو پیش کی، جو بعد ازاں قیام پاکستان کی بنیاد بنی۔ بالآخر چودہ اگست 1947کو ایک خواب حقیقت میں بدل گیا بظاہر ایک نحیف جسم مگر فولادی ارادے رکھنے والے انسان نے اسے تعبیر عطا کی۔ یوں پاکستان دنیائے ممالک کے افق پر ایک نئی گلیکسی بن کر ابھرا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے حکیم الامت علامہ اقبال نے تو خواب دیکھا اس خواب کو ستاروں بھری حقیقت میں محمد علی جناح کی کاوشوں کا ناقابل فراموش کردار ہے۔ آج اقبال کے خوابوں کی سرزمین پر رنگینیوں لطافتوں اور مہکاروں سے مزین یہ پھلواری انہی کی بدولت ہے۔

قائد اعظم محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، وہ ایک جامع فکر کے حامل انسان تھے۔ جسم کمزور تھا، مگر حوصلہ چٹانوں سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ ان کی گفتگو میں منطق تھی، سوچ میں گہرائی، اور فیصلوں میں حکمت جھلکتی تھی۔ اپنے حق کو پہچان کر، دلیل اور وقار کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنا، ڈٹ جانا قوم نے جناح سے سیکھا۔

جیسے ہی انہیں یقین ہو گیا کہ کانگریس مسلمانوں کے ساتھ محض سیاسی کھلواڑ کر رہی ہے اور انہیں ہر سطح پر محروم رکھا جا رہا ہے، انہوں نے دو قومی نظریے کو صرف اپنایا ہی نہیں بلکہ اسے سینچا، پروان چڑھایا اور ایک تناور درخت بنا دیا۔ اسی درخت کے سائے تلے برصغیر کے مسلمان یکجا ہوئے، ان کی آواز مضبوط ہوئی، اور وہ طاقت بنی جس سے برطانوی وائسرائے کو بھی یہ ماننا پڑا کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن ناگزیر ہے۔

قائد اعظم کی زندگی کا ایک رخ تنہائی، بیماری اور خاموش جدوجہد سے عبارت ہے، تو دوسری طرف انتھک محنت، صداقت اور بے لوث خدمت کی روشن مثال ہے۔ وہ ایک مقناطیسی شخصیت تھے، جن کی قیادت نے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک مقصد پر متحد کر دیا اور یہی اتحاد پاکستان کے قیام کا سبب بنا۔

آج ہمیں پھر ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے ایسی قیادت جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو، جو قومی ترقی کو اولین ترجیح دے، جو کردار، عزم، ہمت اور بلند سیاسی فکر کی علامت ہو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو زندہ اور بلند رکھتے ہیں۔ آج صرف محنت کافی نہیں, ہمیں علم، علم، اور پھر علم کی ضرورت ہے اور اس کے بعد مسلسل محنت اور ڈسپلن کی۔ کیونکہ انسان کی پہلی فتح کی بنیاد بھی علم ہی تھا، اور نبی آخرالزماں (ﷺ) کی پہلی وحی بھی علم سے ہی شروع ہوئی۔

اگر قائد اعظم کے قول “کام، کام اور کام” کو فرمان نبوی (ﷺ) “علم حاصل کرو” کے ساتھ جوڑ دیا جائے تب جو قوم سامنے آئے گی، وہ یقیناً قابل رشک ہو گی۔ یہ وطن پاک ہمیں تحفے میں نہیں ملا بلکہ لاکھوں دیپ بجھے تو یہ چراغ جلا ہے اسی لیے اب ہمیں اس کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانی ہے۔ ہمیں سرمایہ دارانہ خود غرضی نہیں، بلکہ احساس، خدمت اور علم پر مبنی قیادت درکار ہے ایسی قیادت جو پاکستان کو پھر سے ایک باوقار، باکردار اور جدید علوم سے مخمور قوم کی شناخت عطا کر سکے۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

دعاء ہے اللہ

محمد علی جناح — ہمت و حوصلہ کی تاریخ

01/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے