#کالم

ٹریفک: قانون، رویّے اور معاشرتی شعور — بولٹن سے لاہور تک

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔۔۔صفدر علی خاں

ان دنوں میں انگلینڈ کے آیا ہوا ہوں اور پچھلے پندرہ روز سے مانچسٹر کے قریب واقع شہر بولٹن میں قیام پذیر ہوں۔ یہ قیام محض ایک سفر نہیں رہا بلکہ ایک مسلسل مشاہدہ بن چکا ہے۔خاص طور پر یہاں کے شہری رویّوں کا اور بالخصوص ٹریفک کے نظام کا۔۔۔بولٹن کوئی بہت بڑا یا غیر معمولی شہر نہیں، مگر یہاں سڑک پر چلتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اصل فرق سڑکوں یا گاڑیوں کا نہیں بلکہ لوگوں کے رویّوں کا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب لاشعوری طور پر ذہن بار بار لاہور کی سڑکوں کی طرف لوٹتا رہا اور ایک واضح تقابل خود بخود سامنے آتا چلا گیا۔

بولٹن میں ٹریفک کا نظام کسی بڑے عجوبے پر مشتمل نہیں۔ نہ سڑکیں غیر معمولی طور پر کشادہ ہیں، نہ ہر چوک پر جدید ترین ٹیکنالوجی نظر آتی ہے اور ٹریفک پولیس تو کہیں نظر ہی نہیں آئی۔ مگر جو چیز نمایاں ہے وہ لوگوں کا نظم و ضبط، صبر اور ایک دوسرے کے لیے احترام ہے۔ یہاں گاڑی چلانے والا یہ نہیں سوچتا کہ ۔۔۔میں کیسے آگے نکل سکتا ہوں۔۔۔ بلکہ یہ سوچتا ہے کہ ۔۔۔میں قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیسے چل سکتا ہوں۔۔۔سرخ سگنل پر رکنا محض قانون کی پابندی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری محسوس ہوتی ہے۔ پیدل چلنے والا سڑک کنارے کھڑا ہو تو گاڑیاں خود بخود رک جاتی ہیں۔ کوئی غیر ضروری ہارن، کوئی جھنجھلاہٹ، کوئی جارحانہ رویّہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ سب کسی خوف یا جرمانے کے باعث نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور کا نتیجہ ہے جسے وہاں کے لوگ اپنا سماجی معاہدہ سمجھتے ہیں۔ یقینا” برطانیہ میں لوگ فرشتے نہیں، مگر وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر آج میں نے لائن توڑی تو کل یہ پورا نظام ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے قانون پر عمل ان کے لیے بوجھ نہیں بلکہ سہولت ہے۔

اس کے برعکس جب ہم لاہور جیسے گنجان اور تاریخی شہر کو دیکھتے ہیں تو منظرنامہ بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ٹریفک قوانین کو اکثر ایک غیر ضروری رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ سرخ سگنل پر رکنے والا خود کو تنہا اور بے وقوف محسوس کرتا ہے، کیونکہ اردگرد موٹر سائیکلیں، رکشے اور گاڑیاں اس طرح گزر رہی ہوتی ہیں جیسے کوئی قاعدہ سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ لاہور میں مسئلہ صرف ٹریفک کی بدنظمی نہیں بلکہ قانون کے خلاف مزاحمت کا ہے۔ جب بھی کوئی نیا ضابطہ نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔چاہے وہ ہیلمٹ کا قانون ہو، لین کی پابندی ہو یا ون وے سسٹم۔۔۔لوگ اسے سہولت کے بجائے اپنی آزادی پر حملہ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کیا جاتا کہ یہ قانون کیوں ضروری ہے، بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ ۔۔۔ہمیں کیوں روکا جا رہا ہے؟۔۔۔ یہ مزاحمت دراصل ایک گہرے سماجی مسئلے کی علامت ہے۔ ہم قانون کو اپنا محافظ نہیں بلکہ مخالف سمجھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں قوانین کا نفاذ انصاف سے زیادہ طاقت کے ذریعے ہوتا رہا، جس نے عوام اور قانون کے درمیان اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی۔

بولٹن میں ٹریفک پولیس کم دکھائی دیتی ہے مگر نظم و ضبط زیادہ ہے۔ لاہور میں پولیس ہر جگہ موجود ہوتی ہے مگر نظم کم نظر آتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہاں خود نگرانی (Self-regulation) کا کلچر ہے اور یہاں خوف پر مبنی نگرانی۔ایک اور نمایاں فرق یہ ہے کہ بولٹن میں دوسرے کو راستہ دینا کمزوری نہیں سمجھا جاتا۔ لین بدلتے وقت اشارہ دیا جائے تو سامنے والا خوش دلی سے جگہ دے دیتا ہے۔ لاہور میں یہی عمل اکثر انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ۔۔میں کیوں جگہ دوں؟۔۔۔یہی سوچ ٹریفک جام، تلخ کلامی اور حادثات کو جنم دیتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ کیا لاہور بولٹن بن سکتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ذمہ دار شہری بننا چاہتے ہیں؟ ترقی صرف فلائی اوورز اور سڑکوں سے نہیں آتی، بلکہ شعور، صبر اور احترام سے آتی ہے۔بولٹن کی سڑکیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ قانون پر عمل کسی قوم کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے محفوظ، مہذب اور مضبوط بناتا ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قانون کو دشمن کے بجائے اپنا ساتھی سمجھنا سیکھیں—کیونکہ جس دن رویّے بدل گئے، سڑکیں خود بخود سنور جائیں گی۔

29/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

ٹریفک: قانون، رویّے اور معاشرتی شعور — بولٹن سے لاہور تک

31/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے