#اداریہ

پراپرٹی اونرشپ کیس : عدلیہ انتظامیہ أمنے سامنے

Fahad 01

أج کا اداریہ

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا ہے اگر عدالتی حکم کے بعد کسی نے زمینوں پر قبضے دلوائے تو نتائج کے لیے تیار رہے۔
پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کی۔
یاد رہے لاہور ھائی کورٹ نے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ پر عملدرامد معطل کررکھا ہے
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف عابدہ پروین اور دیگر کی دائر درخواستوں پر سماعت کی تھی
عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فل بینچ بنانے کی سفارش کی اور پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضوں کو واپس کر نے کا حکم دے رکھا ہے
دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو بتائیے کہ یہ قانون رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں نہیں آئے؟ جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں، اس لیے نہیں آئے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں، مجھے بیڈ ریسٹ کہا گیا ہے مگر یہاں بیٹھی ہوں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے کہا لگتا ہے آپ نے یہ قانون نہیں پڑھا؟ لگتا ہے کچھ لوگوں کی خواہش ہے انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے یہ قانون بنا کیوں ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ معاملہ سول کورٹ میں زیرسماعت ہو تو ریونیو آفیسر کیسے قبضہ دلا سکتا ہے؟
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا، آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا، آپ کا بس چلتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ ڈی سی آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دیں تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا، آپ کا قانون یہ کہتا ہے کہ ہائیکورٹ اس معاملے پر حکم امتناعی بھی نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ موبائل فون پر آپ کہتے ہیں آجاؤ ورنہ تمہارا قبضہ چلاگیا، آپ یہاں کھڑے ہیں اور آپ کا گھر جارہا ہوگا؟ قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہوگا، کیا یہاں جعلی رجسٹریاں اور جعلی دستاویزات نہیں بنتیں؟
جسٹس عالیہ نیلم نے کہا آپ کی کمیٹی لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی ہے، لوگوں کوکہتے ہیں قبضہ نہ دیا تو باہر پولیس کا ڈالا کھڑا ہے، وہ یہاں بیٹھی ہیں، اس قانون کے تحت کوئی درخواست دے اور ان کے گھر کا قبضہ بھی ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا جن پٹواریوں کو آپ نے اختیارات دیئے یہی کل کو قبضہ گروپوں کے ساتھ مل جائیں گے۔
 عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کر کے فل بینچ بنانے کی سفارش کردی۔
چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط کا کیسے دفاع کر سکتے ہیں، جس پر وکیل نے کہا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ڈی سیز پر بنی کمیٹیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ پہلے قبضہ واپس کریں پھر آگے بات کریں 
جسٹس  عالیہ نیلم نے کہا کیوں نہ اس کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کریں، وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر پٹواری ٹائم سے کام کرتا تو یہ معاملہ آتا ہی نہیں، جب سسٹم کو بائی پاس کریں گے تو پھر ایسے ہوگا۔
وکیل نے کہا سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا اخباری خبریں لگانے کے لیے یہاں ڈائیلاگ نہ ماریں، یہ حقیقت ہے کہ یہاں کیسز کے فیصلے نہیں ہوتے، آپ جذباتی باتیں نہ کریں مجھے پتہ ہے یہاں کتنے پرانے کیسز ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں، ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دنوں میں ہمیں قبضہ دلایا
چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا یہ آرڈر پاس کس نے کرنا تھا؟ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکنٹ ہے، جس پر وکیل نے کہا میں یہ مانتا ہوں کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا آپ خود کہتے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت کارروائیوں کا اختیار نہیں تھا۔
وکیل نے استدعا کی کہ آپ ڈی سی کو ہدایت کر دیں کہ وہ ہمیں سن کر فیصلہ کر دے، ڈی سی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا کہ فیصلہ کسی اور کا اختیار ہے، میرے سامنے یہ ایشو نہیں ہے آپ پراپرٹی کے مالک ہیں یا نہیں، میرے سامنے معاملہ یہ ہے کہ ڈی سیز کو فیصلے کا اختیار ہے یا نہیں۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا آرڈینس معطل ہونے کے بعد 24 دسمبر کو گوجرانولہ میں ایک ایکڑ پراپرٹی کا قبضہ دیا گیا، اگر عدالتی حکم کے بعد کسی نے قبضے دلوائے تو نتائج کے لیے تیار رہے

جسٹس  عالیہ نیلم نے کہا کیوں نہ اس کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کریں، وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر پٹواری ٹائم سے کام کرتا تو یہ معاملہ آتا ہی نہیں، جب سسٹم کو بائی پاس کریں گے تو پھر ایسے ہوگا۔
وکیل نے کہا سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا اخباری خبریں لگانے کے لیے یہاں ڈائیلاگ نہ ماریں، یہ حقیقت ہے کہ یہاں کیسز کے فیصلے نہیں ہوتے، آپ جذباتی باتیں نہ کریں مجھے پتہ ہے یہاں کتنے پرانے کیسز ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں، ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دنوں میں ہمیں قبضہ دلایا
چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا یہ آرڈر پاس کس نے کرنا تھا؟ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکنٹ ہے، جس پر وکیل نے کہا میں یہ مانتا ہوں کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا آپ خود کہتے

پراپرٹی اونرشپ کیس : عدلیہ انتظامیہ أمنے سامنے

26/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے