#کالم

سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک(خود نوشت سوانع حیات )

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

اگر آپ اپنا غم ختم کرنا چاہتے ہیں اور اداسی کے جنگل کو منگل میں بدلنا چاہتے ہیں تو کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کرو جس کا مصنف تصنع سے پاک انداز تحریر پر قادر ہو اور اپنے خیالات کو پاکیزہ رکھتا ہو اپنے الفاظ میں پاکیزگی اور گفتار میں کردار کی پختگی اور شخصیت میں سچائی اور راست بازی کی چمک و دمک رکھتا ہو تو آپ کو اس جلیل القدر ۔ کامیاب انسان کی خود نوشت سوانع حیات کا مطالعہ کرنا ہو گا جس شخصیت نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے اور آج کل سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک مصنف عبدالغفور چوھدری کی تصنیف سوشل میڈیا پر ایک ایسی مشتہر ہو رہی ہے جس کے مصنف کا شمار مشتہرین میں نہیں ۔ بلکہ مشاہیر میں ہوتا ہے ۔ مشتہرین کی زندگی عید کے چاند کی طرح طلوع ہو کر دیوالی کے دیپ کی طرح بجھ جاتی ہے مگر مشاہیر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک عبدالغفور چوھدری کی یہ تصنیف مقصد زندگی کا تعین کرتی ہے ہمیں ایسے لوگوں کی سوانح عمریوں کا مطالعہ بغور کرتے رہنا چاہیے جنہوں نے آپ کی طرح مقصد زندگی معین کر کے اس کے حصول کے لیئے جدوجہد کی اور اس میں کامیاب ہوئے آپ دیکھیں گے کہ ان کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوئیں وہ قریب قریب اٹل تھیں ۔ مگر انہوں نے رکاوٹوں کو راستے سے ہٹا دیا ۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک کتنے ڈپٹی کمشنر آئے اور ان کے نام حافظوں سے محو ہو گئے لیکن چوھدری عبدالغفور کا نام ڈپٹی کمشنر کے حوالے سے سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک حلق سے نکلتا ہے خلق تک جاتا ہے اور آج جدید عہد کے ابلاغی ویپن نے انہیں فلک لافلاک تک پہنچا دیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں آپ کی زندگی جو تکلیف میں گزری ہے اس کو آپ نے آسانیوں میں کیسے بدلا ۔ اس کے لیئے آپ کو سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک کا سفر جو انہوں نے طے کیا ویسے ہی آپ کو طے کرنا ہوگا تب جا کر آپ بھی منزلِ مراد کو چھو سکتے ہیں اس کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے والدین کے نام منسوب کیا ہے جن کے بارے میں مولانا امیر حمزہ اسلامی سکالر مصنف و کالم نگار نے انہیں ان پڑھ قرار دیا ہے یہاں میں تصیح کرنا چاہتا ہوں کہ چوہدری عبدالغفور کے والدین پوری یونیورسٹی تھے اور وہ ان پڑھ نہیں تھے ضیا شاھد مرحوم نے اپنی والدہ مرحومہ کے بارے میں بھی اپنی کتاب میں ذکر کیا تھا کہ وہ ان پڑھ تھی میں نے اس کی بھی تصیح کرتے ہوئے کہا تھا جس خاتون نے ضیا شاہد کو جنم دیا ہے وہ ان پڑھ نہیں ہو سکتی وہ ایک یونیورسٹی تھی اور ضیا شاید نے اپنے دوسرے ایڈیشن میں اس کی تصیح کر دی اور میرا شکریہ ادا کیا تھا یہ سارا کمال اس با کمال عجوبہء روزگار ناشر علامہ عبدالستار عاصم کا ہے جنہوں نے مجھے یہ فریضہ سونپا تھا اور آج بھی انہی کے حکم پر سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک خود نوشت سوانع حیات کی بات کر رہا ہوں ۔ یہاں بھی یہ بات کر رہا ہوں کہ بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ اعلیٰ تعلیمی امتیازات سے متصف شخصیات کے بچے ان پڑھ اور جہالت کی تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں میں انہیں ان پڑھ کہوں گا عبدالغفور چوھدری کے والدین کی عظمت کو میں سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایسے عظیم فرزند کو جنم دیا اور آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کیا ۔ ملک کے نامور تجزیہ نگار صحافی ہمارے استاد جو ایک زمانے میں اپنی فصاحت و بلاغت سے دلائل و براہین کو نذرِ آتش کر دیا کرتے تھے اور آج کل وہ دلائل و براہین کی قوت سے فصاحت و بلاغت کو نذرِ آتش کر دیتے ہیں میری مراد جناب مجیب الرحمان شامی صاحب سے ہے پہلا سپاہی پہلا ڈپٹی کمشنر کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں ۔
چوھدری عبدالغفور اپنی مثال آپ ہیں منفرد اور یکتا ایک محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولی اپنے خاندان کے پہلے بچے تھے ۔ جنہیں سکول میں داخلہ نصیب ہوا دوران تعلیم ہی فوج میں بھرتی ہونا پڑا سپاہی بن کر بھی علم کا جنون سوار رہا پڑھتے اور آگے بڑھتے گئے امتحان پر امتحان پاس کرتے فوج ہی کے تعلیمی شعبے میں انسٹرکٹر بن گئے لیکن ان کی منزل ابھی دور تھی مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کر دی سول سروس کے دروازے کھل گئے وہ فوجی کوٹے پر نہیں باقاعدہ مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اسسٹنٹ کمشنر بنے اور ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کمشنر کے منصب تک پہنچے افسری کو خدمت کا ذریعہ بنایا کسی سے دبے نہ کسی کو دبایا اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری خود ساختہ خداؤں کو کبھی خاطر میں نہ لائے جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے افسر بن کر بھی خود کو عام آدمی سمجھا عام آدمی میں گھل مل کر رہے ان کے دلوں میں جگہ بناتے رہے ریٹائرڈ ہوئے ہیں تو کوچہ ء وکالت میں قدم رکھ دیا ہے ۔ پہلے خود انصاف بانٹتے تھے اب اپنے موْکلین کو انصاف دلانے کے لیئے سرگرم ہیں ان کی خود نوشت کو ٹیکسٹ بک کی طرح پڑھا جانا چاہیئے کہ یہ آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ محنت کی برکت پر یقین کو پختہ کرتی اور اصولوں کے ساتھ جڑ جانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے ان کی زندگی پر فلم بننی چاہیئے ۔ ڈرامے لکھے جانے چاہیں اربابِ اختیار کو توفیق ہو تو ان کی خدمت میں کوئی قومی اعزاز بھی پیش کر دینا چاہیئے ۔ نشانِ امتیاز نہ سہی ستارہ یا تمغہ امتیاز ہی سہی یقین جانیئے یہ اعزاز دینے والوں کے لیئے باعث اعزاز ہوگا کہ وہ پاک فوج کے پہلے سپاہی ہیں جو ڈپٹی کمشنر بنے اور پاکستان کیا پورے جنوبی ایشیا کے پہلے ڈپٹی کمشنر ہیں جنہوں نے سپاہی کے طور پر عملی زندگی کا اغاز کیا سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک خود نوشت سوانع

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے