جواب دہی کا معیار اور قومی شعور
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
احتساب اور جواب دہی کسی بھی ریاست کے مضبوط اور منصفانہ نظام کی بنیاد ہوتے ہیں، کیونکہ انہی اصولوں سے قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے اور عوام کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ ریاست ان کے حقوق کی محافظ ہے۔ پاکستان میں احتساب کا تصور ابتدا ہی سے ایک اہم نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال زیادہ گہرا ہوتا چلا گیا کہ آیا احتساب واقعی ایک عملی حقیقت ہے یا محض مخصوص افراد اور حالات تک محدود ایک انتخابی عمل بن چکا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تقریباً ہر دور میں احتساب کو ایک مقدس مقصد کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہر نئی حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے اور لوٹی گئی دولت کی واپسی کے وعدے کیے، مگر عملی نتائج ہمیشہ عوام کی توقعات کے برعکس رہے، جس سے مایوسی اور شکوک و شبہات نے جنم لیا۔
احتساب کا عمل اکثر سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اقتدار میں آنے والی قوتیں سابقہ حکمرانوں کے خلاف کارروائی کو انصاف کا نام دیتی ہیں، مگر اقتدار سے نکلتے ہی خود اسی احتساب کے دائرے میں آ جاتی ہیں۔ اس تسلسل نے احتساب کو ایک مستقل قومی نظام کے بجائے سیاسی کشمکش کا حصہ بنا دیا ہے۔
عوام میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں ہوتا۔ طاقتور، بااثر اور مراعات یافتہ طبقات اکثر احتساب سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ عام شہری معمولی غلطیوں پر بھی سخت نتائج کا سامنا کرتا ہے۔ یہی دوہرا معیار معاشرے میں ناانصافی کے احساس کو مزید گہرا کرتا ہے۔
جب بڑے مالیاتی اسکینڈلز برسوں تک لٹکے رہیں اور فیصلے التوا کا شکار ہوں تو عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے اٹھنے لگتا ہے۔ احتساب کا بنیادی مقصد اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے، مگر جب یہ مقصد حاصل نہ ہو تو پورا نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔
ادارے کسی بھی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے آزاد، خودمختار اور سیاسی دباؤ سے پاک ہوں تو شفاف احتساب ممکن ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں اکثر ان اداروں پر جانبداری، انتخابی کارروائی اور طاقتور حلقوں کو تحفظ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
سیاسی قیادت کا احتساب ضروری ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احتساب کا دائرہ صرف سیاست دانوں تک محدود رہ جائے۔ بیوروکریسی، طاقتور کاروباری طبقہ اور دیگر بااثر عناصر اکثر اس عمل سے باہر نظر آتے ہیں، جس سے احتساب نامکمل اور غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
میڈیا نے احتسابی معاملات کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر بعض اوقات سنسنی خیزی، ریٹنگ کی دوڑ اور جانبدار تجزیے اصل مسئلے کو دھندلا دیتے ہیں۔ منتخب کرداروں کو نمایاں کرنا اور دوسروں کو نظرانداز کرنا عوامی شکوک میں اضافہ کرتا ہے۔
عدلیہ احتساب کے عمل میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ انصاف کا حتمی فیصلہ وہیں سے آتا ہے۔ تاہم مقدمات کے طویل دورانیے اور پیچیدہ قانونی عمل نے عوام کو بارہا مایوس کیا ہے، جس سے انصاف کی رفتار اور مؤثریت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
احتساب کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ نظام کی اصلاح بھی ہونا چاہیے۔ اگر چند افراد کو سزا دے دی جائے مگر وہی خرابیاں برقرار رہیں تو بدعنوانی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ اصل کامیابی تب ہے جب نظام شفاف اور خودکار ہو جائے۔
نوجوان نسل احتساب کے معاملے میں سب سے زیادہ حساس اور باخبر ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ ہر معاملے پر نظر رکھتی ہے اور عملی نتائج کا مطالبہ کرتی ہے۔ جب اسے صرف نعروں اور وعدوں کا سامنا ہو تو اس کی مایوسی مستقبل کے لیے خطرناک بن سکتی ہے۔
انتخابی یا جانبدار احتساب سیاسی عدم استحکام کو بڑھاتا ہے۔ جب ایک جماعت یا گروہ کو مسلسل نشانہ بنایا جائے اور دوسرے کو نظرانداز کیا جائے تو قومی سیاست محاذ آرائی کا شکار ہو جاتی ہے اور عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ملک کی معاشی حالت بھی شفاف احتساب سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ سرمایہ کار اسی وقت اعتماد کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ غیر منصفانہ احتساب سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
احتساب کو ذاتی دشمنی یا سیاسی انتقام سے الگ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب انصاف ذاتی مفادات کے تابع ہو جائے تو وہ انصاف نہیں رہتا بلکہ ایک نیا ظلم بن جاتا ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔
احتسابی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اس کے طریقہ کار کو واضح اور شفاف بنانا ناگزیر ہے۔ ہر شہری کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ الزام کی صورت میں اسے صفائی کا پورا موقع ملے گا اور جرم ثابت ہونے پر سزا یقینی ہوگی۔
احتسابی اداروں کو مضبوط قانون سازی کے ذریعے مکمل خودمختاری دینا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ان اداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے تاکہ طاقت بے لگام نہ ہو اور شفافیت برقرار رہے۔
ریاستی اداروں کے درمیان توازن احتساب کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ایک ادارہ حد سے زیادہ طاقتور ہو جائے اور دوسرا کمزور، تو نظام بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہی مضبوط ریاست کی علامت ہے۔
تعلیم اور عوامی شعور احتساب کو مضبوط بنانے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ باخبر قوم نہ صرف بدعنوانی کو مسترد کرتی ہے بلکہ حکمرانوں اور اداروں سے جواب دہی کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔
احتساب صرف حکمران طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ روزمرہ زندگی میں ہونے والی چھوٹی بدعنوانیاں، جیسے رشوت اور سفارش، بڑے جرائم کی بنیاد بنتی ہیں۔ جب تک معاشرہ مجموعی طور پر خود کو درست نہیں کرے گا، بڑے پیمانے پر احتساب مؤثر نہیں ہو سکتا۔
عدالتی نظام میں اصلاحات احتساب کے لیے ناگزیر ہیں۔ تیز، سستا اور منصفانہ انصاف ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے، ورنہ فیصلے آنے تک حالات بدل چکے ہوتے ہیں۔
میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا






