#اداریہ

جنگ کے محاذ سے کھیل کے میدان تک

Fahad 01

أج کا اداریہ

ویسے تو پاک بھارت باھمی تعلقات کبھی بھی قابل رشک نہیں رہے تاہم گزشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان سردمہری میں اضافہ دیکھنے میں أیا ہے۔جسکی جھلک اب کھیل کے میدانوں میں بھی نظر أتی ہے بطور خاص کرکٹ میچوں میں ’نو ہینڈ شیک‘ اور میچ کے دوران ہونے والی تلخیاں تو اب معمول بن چکی ہیں اور اتوار کو ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان سے شکست کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے ’ایکس‘ پر کی گئی ٹویٹ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
اتوار کو دبئی میں کھیلے جانے والے فائنل میں بھی ٹاس کے دوران دونوں کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملایا اور میچ کے اختتام پر بھی دونوں ٹیموں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا۔
تاہم اتوار کے روز دبئی میں ایشین کرکٹ کونسل انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کی بھارت کے خلاف کامیابی کے بعد پیر کے روز وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ٹیم کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔
وزیرِ اعظم کی جانب سے انڈیا کے خلاف انڈر 19 ایشیا کپ کا فائنل جیتنے پر کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا جبکہ ٹیم کے سپورٹ سٹاف کے ہر فرد کے لیے 25 لاکھ کا اعلان کیا
وزیر اعظم نے کھلاڑیوں سے کہا کہ ‘اُمید کرتا ہوں کہ آپ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور آپ بہت جلد انڈر 19 ورلڈ کپ بھی پاکستان لائیں گے، چیئرمین پی سی بی کو کہتا ہوں کہ تمام کھلاڑیوں کا بھرپور خیال رکھا جائے، تمام کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائیں۔’
جہاں وزیر اعظم کی جانب سے ٹیم کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا وہیں اسی تقریب میں موجود چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے گزشتہ روز میچ کے دوران پیش آنے والے چند نا خوشگور واقعات کا ذکر بھی کیا اُن کا کہنا تھا کہ ‘انڈین انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے بھی اپنی نیشنل ٹیم کی طرح روایات کو برقرار رکھا اور میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کو مختلف مواقع پع اُکسانے کی کوشش کی گئی مگر ٹیم کے کھلاڑیوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔’
اُن کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے کھلاڑیوں نے اپنی توجہ صرف میچ پر اور فائنل ٹرافی جیتنے پر مرکوز کیے رکھی اور محنت جاری رکھی جس کا پھل ہمیں انڈر 19 ایشیا کپ کی ٹرافی کی صورت میں ملا
واضح رہے کہ پاکستان انڈر 19 نے اتوار کے روز دبئی میں ہونے والے فائنل میں انڈیا انڈر 19 کو 191 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی، جس میں اہم کردار پاکستانی بیٹر سمیر منہاس نے ادا کیا جنھوں نے 113 گیندوں پر نو چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 172 رنز بنائے
میچ کے دوران بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے جذبات عروج پر رہے اور وکٹیں لینے کے بعد پاکستانی بولرز کے جارحانہ انداز اور انڈین بلے بازوں کے ساتھ نوک جھونک کا بھی چرچا رہا۔
ایسے میں میچ کے بعد جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے میچ میں انڈیا کی شکست سے متعلق ٹویٹ کی تو اُس میں صرف یہ لکھا گیا کہ ’انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں انڈیا کو 191 رنز سے شکست۔‘
عام طور پر کرکٹ بورڈز اس نوعیت کی اپ ڈیٹس میں جیتنے والی ٹیم کا بھی نام لکھتے ہیں، اور جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد دینے کی بھی روایت رہی ہے۔ لیکن بی سی سی آئی کی اس ٹویٹ میں پاکستان کا نام نہیں تھا۔
تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین یہ بات نوٹ نہ کرتے۔ اس ٹویٹ کے نیچے پاکستانی صارفین جہاں بی سی سی آئِی کو ٹیگ کر کے جیتنے والی ٹیم کا نام پوچھتے رہے تو وہیں انڈین صارفین اپنی ٹیم کی کارکردگی سے ناخوش دکھائی دیے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی لڑائی کے بعد جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں تو اس کا اثر اب کھیل کے میدانوں میں بھی واضح نظر آتا ہے۔

ستمبر میں ہونے والے ایشیا کپ کے میچز میں نو ہینڈ شیک اور ٹرافی تنازع کا تسلسل، انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھی نظر آیا۔
انڈیا کی اننگز کے دوران جب پاکستان پیسر علی رضا نے انڈیا کی اُمیدوں کے مرکز 14 سالہ سوریا ونشی کی وکٹ لی تو اُن کا غصے سے بھرا جشن، سوریا ونشی کو پسند نہ آیا۔
سوریا ونشی نے علی رضا کی جانب دیکھتے ہوئے، اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے قبل جب انڈیا انڈر 19 کے کپتان ایوش ماترے کی وکٹ لینے پر بھی علی رضا نے بھرپور جوش دکھایا اور اس پر ماترے اور اُن کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا

19 ایشیا کپ میں شاندار کامیابی کے بعد قومی انڈر 19 ٹیم کے کوچ، مینٹور اور کھلاڑیوں نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جہاں ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد نے بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر تنقید کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ شاہد انور نے کہا کہ ایشیا کپ کے لیے ٹیم نے منظم اور بھرپور تیاری کی تھی۔ کھلاڑیوں نے طے شدہ حکمتِ عملی کے مطابق کھیل پیش کیا، جس کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں سامنے آیا
بھارتی ٹیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کا رویہ کھیل کی روایات کے مطابق نہیں تھا اور ان کا طرزِ عمل نامناسب رہا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے کھلاڑیوں کو اسپورٹس مین اسپرٹ برقرار رکھنے کی ہدایت کی تھی۔جبکہ اسکے برعکس بھارتی أفیشكز اور کھلاڑیوں کے کھیل مخالف رویے سے شائقین کرکٹ کو مایوسی ہوئی ہے۔لگتا ہے جنگ کے محاذ سے کھیل کے میدان تک شکست بھارت کا مقدر بن چکی !

جنگ کے محاذ سے کھیل کے میدان تک

23/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے