#بغیر زُمرہ

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط :13 (شاہد بخاری)

یہ تو ہوئی شاعری کی بات نثر میں بھی ڈاکٹر اقبال نے اپنے جو کمالات دکھائے ہیں ان پر کتابیں تحریر ہو سکتی ہیں۔ ماہنامہ سفید چھڑی کے اداریے نثر کے ادبِ عالیہ میں شمار کئے جا سکتے ہیں، جن میں فکر کی گہرائی اور جذبوں کی صداقت ہے۔نثر میں وہ روانی اور جولانی ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔کہیں کہیں جملے انتہائی سادہ اور سہل ہیں جنہیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اور کہیں کہیں تخیل اپنی وہ جولانیاں دکھاتا ہے کہ قاری مصنف کے ساتھ بے بال و پر اڑنے لگتا ہے اور ان حصوں میں وہ Longinusکے
On the Sublime
کے رنگ میں رنگے ہوئے محسوس ہوئے ہیں۔کہیں کہیں ان کی نثر میں ملٹن کا گرینڈ سٹائل اور اقبال کی صلابت دکھائی دیتی ہے لیکن کہیں وہ جوشؔ کی طرح لفظوں سے اس طرح کھیلے ہیں جس طرح وہ چاہتے ہیں مگر یہ سب کچھ خطابت دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ان میں جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اور جو آواز دل سے نکلتی ہے وہ خطابت کے عیوب سے منزہ ہوتی ہے۔
انہوں نے ماہنامہ سفید چھڑی کے اداریوں پر مبنی چھ کتب شائع کی ہیں جس سے ان کی فکر اور اسلوب نگارش کا پتہ چلتا ہے ڈاکٹر اقبال نے میدانِ تنقید میں بھی اپنے قلب و ذہن کی جولانیاں دکھائی ہیں اور یوں نقد و نظر کی دنیا میں انہوں نے اپنے فکر سے نئی راہیں نکالی ہیں۔
جون کیٹس اور جون ڈن کی شخصیت اور شاعری کے علاوہ علامہ اقبال پر ان کی تصنیف ”اقبال بحضور اقبال“ ایک معرکتہ الآرا تنقیدی دستاویز ہے، ان کی تنقید محض تنقید نہیں بلکہ عملی تنقید کا نمونہ پیش کرتی ہے۔انہوں نے ہیلن کیلر اور لوئی بریل کی حیات اور خدمات لکھ کر سوانح عمری کی صنف میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔
ڈاکٹر شیخ اقبال نے اپنی سوانحی عمری ”پردہء سیمیں سے“ لکھ کر سوانح نگاری کے میدان میں بھی اپنی عظمت کا جھنڈا گاڑدیا ہے اور سوانح نگاری کے اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ یہی نہیں انہوں نے کئی ایک افسانے بھی تحریر کئے ہیں جو جیتی جاگتی آج کل کی دنیا کی سچی تصویر ہیں اوریوں افسانوی ادب میں بھی انہوں نے اپنا نام رجسٹر کروالیا ہے۔

ایک مترجم کے طور پر ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا انہوں نے بہت سی انگریزی کہانیوں کے کامیاب تخلیقی تراجم کئے ہیں جو ملک کے معتبر جرائد میں چھپتے رہے ہیں۔حال ہی میں ان کی ایک تصنیف منظرِ عام پرآئی ہے جس کا عنوان ”اوٹ پٹانگ“ ہے یہ ان کے انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ اہم نقادوں نے اسے ڈاکٹر اقبال کی ایک عمدہ کامیابی قرار دیا ہے، ڈاکٹر اقبال پر ایم فل کی سطح کے تین اور ایم اے کی سطح کے بھی دو تخلیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں اور کئی ایک یونیورسٹیز میں اب بھی ان کے فکرو فن پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔

اردو شاعری
۱۔ ساحلِ تشنہ لب
اشاعت 1982 صفحات؛ 168
طابع۔ خالد پرنٹنگ پریس سرگودہا
غزلیات: 115
انتساب:
”ان خواہشوں کے نام جو حسرتیں بن گئیں
یہ واقعہ ہے تو اسے اب مان یا نہ مان
پیاسا کھڑا ہے بحر پہ ساحل، تیرے بغیر
ڈاکٹر صاحب نے اپنی سوانح میں تحریر کیا ہے کہ ان کی شاعری کا سفر تاخیر سے شروع ہوا اس کی کچھ وجوہات تھیں۔ ”ساحل تشنہ لب“ ان کی پہلی کاوش ہے اس کتاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ سرگودہا ڈویژن کے اساتذہ کے مقابلے میں دوسرا ایوارڈ دیا گیا۔اس کتاب کے حوالے سے لاہور میوزیم ہال میں جنوری 1983میں ایک فنکشن ترتیب دیا گیا،جس میں شیخ اقبال کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ایک توصیفی سرٹیفکیٹ اور نقد ایوارڈ ملا۔ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر ثقافت کھیل و سیاحت نیاز احمد ارباب نے توصیفی سرٹیفکیٹ میں یوں تحریر کیا ہے۔
This is with deep sense of appreciation that I on my own behalf and on behalf of the ministry of culture present to you an award of Rs.2000/-(Two thousand) as token recognition for your literary work (particularly in the field of Urdu poetry) which you have produced in spite of your unfortunate handicap.
I congratulate you on your these literary efforts and achievements and hope that you will continue this fine job in the future also.
(Niaz Ahmad Arbab, Minister) January 23-1983
اس کتاب کے حوالے سے سرگودہا ہی میں نہیں بلکہ سرگودہا سے باہر کئی شہروں میں تعارفی تقریبات ہوئیں۔ کیونکہ یہ کتاب ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان کے کسی نابینا شاعر کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔کتاب کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس پر بڑے ممتاز اور قدآور ناقدین نے آرا پیش کیں جو کتاب کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے اس کا بڑا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے ان کے خیال میں شیخ اقبال کے یہاں قوتِ باصرہ کا عمل دخل ہے کیونکہ وہ اوائل عمری میں کچھ نہ کچھ بینائی رکھتے تھے آگے چل کر ڈاکٹر موصوف رقم طراز ہیں:
”پروفیسر اقبال صاحب اردو شاعری کے کلاسیکی رنگ کے گرویدہ ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے شعر کہنے کا ارادہ کر لیا تو پھر ا س بات کا خاص اہتمام کیا کہ اساتذہ کا کلام پورے خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھا جائے۔ اس سلسلے میں انہیں جو بے پناہ کامیابی حاصل ہوئی۔ ”ساحل تشنہ لب“ کا ہر صفحہ بلکہ ہر شعر ا س کا گواہ ہے مثلاً ان کی قادر الکلامی دیکھیے کہ انہوں نے تمام رائج زمینوں میں اس اعتماد کے ساتھ غزلیں لکھیں جیسے کہہ رہے ہوں۔
”دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا“
اور تمام مرّوج تلمیحات، لفظی تراکیب،بندشوں اور علائم کو نہایت چابکدستی سے اپنی غزلوں میں سمویا۔ چنانچہ قاتل، مقتل، بسمل، دار، چھری، تیغ، جگر، کوچہ، ناصح، چلمن، شیخ، گلشن، گل چیں، دلبر اور الللہ الللہ جیسے الفاظ اردو کی قدیم کلاسیکی شاعری میں نگینوں کی طرح چمک رہے ہیں خود ان کی شاعری میں بھی اپنے سارے منسلکہ تصورات اور خیالات کے ساتھ لو دینے لگے ہیں مگر دلچسپ بات محض یہی نہیں کہ پروفیسر موصوف نے اردو کے کلاسیکی رنگ کو کس خوبی، فیاضی اور کشادہ نظری کے ساتھ قبول کیا اور یوں بجھے ہوئے چراغوں کو ایک نئی تب و تاب جاودانہ عطا کر دی بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے پروفیسر شیخ اقبال نے ”کلاسیکی شاعری میں باصرہ کا جو عمل دخل ہے“ اسے بھی کمال فرمانبرداری سے من و عن اپنے کلام کا جو ہر بنا لیا ہے۔ چنانچہ وہ اشیاء، مظاہر، اشخاص،اور واقعات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے