سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کا مزدورں کے لئے راشن کارڈ کا اجرا
تحریر، محمد ندیم بھٹی
سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ایک طویل عرصے تک ایک ایسا روایتی سرکاری ادارہ سمجھا جاتا رھا ھـے جس کا کام محض فائلوں کی گردش، دفتری کارروائی اور رسمی بیانات تک محدود تھا۔ مزدور طبقہ بھی اس محکمے کو امید کے بجائے مایوسی کی علامت سمجھتا تھا، جہاں نام تو فلاح کا لیا جاتا تھا مگر عملی سہولت کم ہی نظر آتی تھی۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے میں اس محکمے کی سمت میں جو تبدیلی آئی ھـے، اس نے نہ صرف ادارے کی شناخت بدل دی ھـے بلکہ مزدور کے دل میں ریاست کے لیے اعتماد کی ایک نئی بنیاد بھی رکھ دی ھـے۔ اس تبدیلی کی سب سے واضح، نمایاں اور عملی شکل سوشل سیکورٹی راشن کارڈ ھـے۔
پنجاب جیسے بڑے صوبے میں جہاں صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدور دن رات محنت کر کے ملکی معیشت کا پہیہ چلاتے ھیں، وہاں مہنگائی کا سب سے شدید اثر بھی اسی طبقے پر پڑتا ھـے۔ آٹا، دال، چینی، گھی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں جب مزدور کی قوتِ خرید سے باہر ھونے لگیں تو دو وقت کی روٹی ایک مستقل پریشانی بن جاتی ھـے۔ ایسے حالات میں فلاحی ریاست کا اصل امتحان شروع ھوتا ھـے۔ یہی وہ مقام ھـے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی جھلک سوشل سیکورٹی راشن کارڈ کی صورت میں سامنے آتی ھـے۔
مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ھی یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کی سیاست کا مرکز عام آدمی ھـے اور ان کی ترجیحات میں سب سے آگے مزدور اور محنت کش طبقہ ھـے۔ ان کا وژن یہ ھـے کہ ریاست صرف طاقتور طبقے کے گرد نہ گھومے بلکہ کمزور کو سہارا دے، اس کی بنیادی ضروریات کا تحفظ کرے اور اسے باعزت زندگی گزارنے کا حق دے۔ سوشل سیکورٹی راشن کارڈ اسی وژن کا عملی اظہار ھـے، جو مزدور کی روزمرہ زندگی میں براہِ راست آسانی پیدا کر رھا ھـے۔
راشن کارڈ محض ایک پلاسٹک کارڈ نہیں بلکہ مزدور کی معاشی شناخت، اس کی محنت کے اعتراف اور ریاستی سرپرستی کی علامت ھـے۔ یہ کارڈ مزدور کو یہ یقین دلاتا ھـے کہ مشکل حالات میں وہ تنہا نہیں بلکہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ھـے۔ راشن کارڈ کے ذریعے سبسڈی کی براہِ راست اور شفاف منتقلی نے برسوں سے چلے آ رھے مسائل کا مؤثر حل پیش کیا ھـے۔ لمبی قطاریں، سفارش، دفتری دھکے اور تحقیر آمیز رویے جو ماضی میں فلاحی اسکیموں کا لازمی حصہ سمجھے جاتے تھے، اب آہستہ آہستہ ختم ھوتے نظر آ رھے ھیں۔
یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ھـے کہ اس اقدام کے پیچھے محض ایک حکومتی اعلان نہیں بلکہ مضبوط قیادت اور مسلسل محنت شامل ھـے۔ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت خواجہ منشاء اللہ بٹ نے سوشل سیکورٹی کے نظام کو محض ایک سرکاری محکمہ سمجھنے کے بجائے ایک عوامی خدمت کے ادارے کے طور پر لیا۔ ان کی انتھک کاوشوں، فیلڈ سطح پر مسلسل نگرانی اور واضح سمت نے راشن کارڈ کو ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام میں بدل دیا۔ مزدور دوست سوچ اور عملی اقدامات ان کی کارکردگی کا نمایاں پہلو ھیں۔
اسی طرح کمشنر محمد علی کا کردار بھی اس پورے عمل میں نہایت اہم رھا ھـے۔ انتظامی سطح پر ان کی کوآرڈینیشن، نگرانی اور نظم و ضبط نے راشن کارڈ کے اجرا میں شفافیت اور رفتار پیدا کی۔ مختلف محکموں کے درمیان ربط، فیلڈ افسران کی جواب دہی اور اہداف کے واضح تعین نے اس پروگرام کو کاغذی کارروائی سے نکال کر زمینی حقیقت بنایا۔ ان کی انتظامی بصیرت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ سہولت واقعی مستحق مزدور تک پہنچے۔
ڈائریکٹر جنرل سوشل سیکورٹی کی انتھک محنت بھی اس نظام کی کامیابی میں بنیادی حیثیت رکھتی ھـے۔ ڈی جی کی قیادت میں ڈیجیٹل رجسٹریشن، مستحقین کی درست نشاندھی اور ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ مسلسل مانیٹرنگ، جائزہ اجلاسوں اور فیلڈ رپورٹس نے اس پروگرام کو اعتماد کے قابل بنایا، تاکہ کسی قسم کی بدنظمی یا بدعنوانی کی گنجائش باقی نہ رھے۔
راشن کارڈ کی سب سے بڑی خوبی یہی ھـے کہ یہ مزدور کو خیرات نہیں بلکہ اس کا حق فراہم کرتا ھـے۔ یہ احساس کہ ریاست مزدور کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ھـے، ایک مثبت سماجی تبدیلی کو جنم دیتا ھـے۔ مہنگائی کے اس دور میں راشن کارڈ نے مزدور کے ماہانہ بجٹ میں حقیقی سہارا فراہم کیا ھـے اور ہزاروں خاندانوں کو بنیادی خوراک کی دستیابی کا اعتماد دیا ھـے۔
ماضی میں مزدور اکثر یہ شکوہ کرتے تھے کہ ان کی تنخواہوں سے کٹوتیاں تو باقاعدگی سے ھوتی ھیں مگر سہولت کے وقت کوئی شنوائی نہیں ھوتی۔ سوشل سیکورٹی راشن کارڈ نے اس احساسِ محرومی کو اعتماد میں بدلا ھـے۔ اب مزدور کو یہ یقین حاصل ھـے کہ اس کی محنت کا صلہ محض وعدوں کی صورت میں نہیں بلکہ عملی سہولت کی شکل میں بھی مل رھا ھـے۔
یہ بھی ایک حقیقت ھـے کہ اب بھی بہت سے صنعتی یونٹس اپنے مزدوروں کو سوشل سیکورٹی میں رجسٹر نہیں کراتے، جس کے باعث وہ راشن کارڈ سے محروم رھتے ھیں۔ اس حوالے سے قانون پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ھـے، تاکہ کوئی مزدور محض مالک کی غفلت یا بدنیتی کی وجہ سے اپنے حق سے محروم نہ رھے۔ مریم نواز شریف کا وژن بھی یہی ھـے کہ فلاحی اسکیمیں صرف کاغذوں تک محدود نہ رھیں بلکہ ہر مستحق تک پہنچیں۔
دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں بھی راشن کارڈ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ھـے۔ آگاہی، رجسٹریشن اور نگرانی کے عمل کو وہاں مؤثر بنانا ھوگا، کیونکہ فلاحی ریاست کا اصل امتحان وہیں ھوتا ھـے جہاں سہولتیں کم اور مسائل زیادہ ھوتے ھیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سوشل سیکورٹی راشن کارڈ پنجاب حکومت کا ایک ایسا اقدام ھـے جو فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دیتا ھـے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن، صوبائی وزیر خواجہ منشاء اللہ بٹ، کمشنر محمد علی اور ڈائریکٹر جنرل کی انتھک کاوشوں نے اس پروگرام کو مضبوط بنیاد فراہم کی ھـے۔ اگر یہی تسلسل، شفافیت اور خلوص برقرار رھا تو وہ دن دور نہیں جب مزدور سوشل سیکورٹی کو محض ایک سرکاری محکمہ نہیں بلکہ اپنے حق، وقار اور تحفظ کی علامت سمجھے گا۔ اصل کامیابی بھی یہی ھـے۔





