معجزوں کے منتظر ۔۔دائروں کے قیدی
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
میرے دوست اور بینک کے پرانے ساتھی عرفان میر صاحب اکثر چھوٹی چھوٹی مگر دلچسپ پوسٹ شئیر کرتے رہتے ہیں جو بظاہر تو چند لفظوں پر محیط ہوتی ہیں لیکن اپنے اندر بڑی وسعت اور گہرائی رکھتی ہیں ایسی ہی ایک پوسٹ میں کہتے ہیں کہ” کیکڑا کو جب پانی کی لہریں کنارے پر لا پٹختی ہیں, تو پھر یہ خود پانی میں جانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس بات کا انتظار کرتا رہتا ہے کہ خود پانی آگے بڑھے اور اسے اپنی موجوں کی آغوش میں لے لے اور اگر پانی کی لہریں اسے واپس نہیں لے جاتیں تو وہیں پڑے پڑے جان دے دیتا ہے. حالانکہ ذرا سی کوشش بھی اسے پانی میں لے جانے کو کافی ہوتی ہے, پانی چند گز کے فاصلے پر اسے پناہ دینے کے لئے موجیں مار رہا ہوتا ہے۔ لیکن جب کیکڑا خود ہی اس کے قریب جانے کو راضی نہیں تو پھر کوئی کیا کرسکتا ہے ؟ ہماری دنیا بھی بہت سے ایسے ہی دنیاوی کیکڑوں سے بھری پڑی ہے آپ نظر دوڑائیں تو آپ کے اردگرد ہزاروں ایسے انسان موجود ہیں جنہیں اتفاقات نے جہاں ڈال دیا وہ ساری زندگی وہیں پڑے رہتے ہیں ۔حالانکہ ترقی اور کامیابی کا سمندر ان کے صرف ایک قدم اٹھانے کا منتظر ہوتا ہے”۔
یہ خیال حقیقت میں ہماری اجتماعی نفسیات کی ایک گہری گرہ کو ظاہر کرتا ہے ۔بہت سے لوگ زندگی بدلنے کے لیے جدوجہد کی بجاۓ معجزوں کے منتظر رہتے ہیں ۔جیسے کوئی بےنام سی امید اچانک ان کے دروازۓ پر خود آکر دستک دے گی ۔حالانکہ زندگی کی بنیاد کوشش پر ہی ہوتی ہے ۔اور انہی چند قدموں میں وہ طاقت چھپی ہوتی ہےجو انسان کو مٹی سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتی ہے ۔زندگی کے سفر میں نشیب وفراز کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے ۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اپنی زندگی کا آغاز بطور ایک مزدور کیا تو بہت سی انگلیاں اٹھیں مگر پھر استاد بن کر وہاں سے رخصت ہوا اور میرا شمار بہترین اساتذہ میں ہونے لگا میرےساتھ کے استاد آج تمام ہی بطور استاد ریٹائرڈ ہوچکے ہیں مگر جدوجہد کے تسلسل میں حبیب بنک جائن کر لیا اور دوسال بعد ہی بہتری کی تلاش میں ایم سی بی بینک پہنچا تو حبیب بینک کے ساتھی میرا مذاق اڑاتے تھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا بینک چھوڑ کر سب سے چھوٹے بینک میں کیوں چلا گیا ہوں ؟ مگر آج ان میں سے کوئی بھی بینک میں نہیں رہا ۔ایم سی بی کے طویل تیس سال بھی مجھے اپنی جدوجہد سے پیچھے نہ ہٹا سکے اور وائس پریذیڈنٹ اور ریجنل ہیڈ بننے کے باوجود بینک الفلاح کا حصہ بنا اور پھر بینک کی طویل پینتالیس سالہ زندگی کا اختتام ہوا تو اپنی سوچ کا رخ بدل لیا اور کالم نویسی اور مضمون نویسی کے میدان میں کود پڑا جہاں اللہ کے فضل سے اپنی الگ پہچان بنائی ۔آج بہت کم لوگ مجھے کامیاب بینکار کے طور پر جانتے ہیں بلکہ اکثر مجھے صحافی یا کالم نگار ہی گردانتے ہیں ۔اس سفر کی کامیابی لگاتار محنت اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ وقت اور ضرورت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ چلنا بھی ہوتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ اپنے کام کا ااغاز فوری شروع کردیں اور جو سامنے آۓ کر گزریں ۔
ہماری زندگی کے راستوں میں کئی عجیب موڑ آتے اور حادثے ہوتے رہتے ہیں جہاں انسان رک کر سوچتا ہے کہ شاید اب کوئی معجزہ ہی ہمیں بچا سکتا ہے یا پھر کوئی غیر معمولی واقعہ یا غیبی مدد ہی اس بحران سے نکال سکتی ہے ۔ دل میں امید کی کونپلیں پھوٹتی ضرور ہیں مگر قدم ساتھ نہیں دیتے خواہشیں تو بڑھتی ہیں لیکن کوشش کرنے کا حوصلہ نہیں بڑھتا ۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی معجزوں سے نہیں انسان کی چھوٹی سی جدوجہد سے بدلتی ہے ۔ہم میں سے اکثر لوگ گھنٹوں ،دنوں ،سالوں تک ایسا سوچتے رہتے ہیں کہ کسی دن قسمت کا دروازہ خود بخود کھل جاۓ گا لیکن قسمت کے دروازۓ کبھی خود نہیں کھلتے انہیں انسان کو خود دستک دے کر کھولنا پڑتا ہے ۔جی ہاں ! دستک بھی لگاتار کبھی دھیرے سے اور کبھی زور سے دینی پڑتی ہے۔
کہتے ہیں کہ کامیابی کے سفر میں اصل معجزہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان چلنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔پہلا قدم جادوئی نہیں ہوتا بس معمولی سا ہوتا ہے لیکن اسی معمولی قدم میں وہ طاقت چھپی ہوتی ہے جو ایک عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ جنہوں نے زندگی بدلی انہوں نے آسمان سے اترنے والے معجزوں کا انتظار نہیں کیا ۔انہوں نے اپنی ہمت ،اپنے ہاتھ اور اپنے وقت کو خود استعمال کیا ۔یہی چھوٹی چھوٹی کوششیں ایک دن لمبے اور طویل راستوں کو مختصر کر دیتی ہیں ۔مشکلوں کو آسان اور راستوں کو نرم کرکے تقدیر کے رنگ بدل دیتی ہیں۔جو لوگ بیٹھے رہتے ہیں ان کی کہانیوں اور تنہائیوں میں سناٹے چھاۓ رہتے ہیں اور جو لوگ چل پڑتے ہیں ان کی زندگی میں راستے خود بخود پیدا ہونے لگتے ہیں ۔دنیا ہمیشہ چلنے والوں انسانوں کے لیے اپنے دامن دراز کرتی ہے ۔ اور قسمت ہمیشہ ان پر ہی مہربان ہوتی ہے اور ان کے ہی قدم چومتی ہے جو اپنا نصیب خود لکھنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔کچھ لوگ ساری عمر ایک دائرۓ میں بند رہتے ہیں اورکبھی ترقی نہیں کرتے کیونکہ انکو آسانی کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے وہ اسی پر خوش رہتے ہیں اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے ۔اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ آسان زندگی کی دعا مت کرو بلکہ مشکل زندگی کا سامنا کرنے کی طاقت اپنے رب سے مانگو ۔
گذشتہ روز ایک شادی کی تقریب میں بہت سے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا تو ان کی گفتگو سے یہ محسوس ہوا کہ آج کا نوجوان مایوسی اور بےیقینی کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جارہا ہے۔ چاہے وہ پڑھ رہا ہے یا پھر پڑھ چکا ہے مگر ہر ایک پریشان ہے اپنے مستقبل اور اپنے روزگار کے حصول میں راستہ روکے کھڑی مشکلات سے خوفزدہ ہے اور وہ اپنی زندگی کا آغاز کرنا تو چاہتا ہے مگر راستہ دکھائی نہیں دیتا ۔یہی وجہ ہے کہ جب میں ان سےان کی کسی کوشش یا جدوجہد کا سوال کرتا ہوں تو خاموشی دکھائی دیتا ہے ۔ہر نوجوان اپنی تعلیم کے لحاظ سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنا تو چاہتا ہے مگر اس کے لیے جدوجہد کا آغاز کرنا نہیں چاہتا ۔یا پھر اپنی زندگی کا آغاز ہی شاید اپنی قابلیت اور صلاحیت سے بھی بہتر چاہتا ہے ۔اس کی ڈگری نے اس کے سوچنے کا معیار بلند کردیا ہے مگر مارکیٹ میں بے پناہ مقابلے کا رجحان اس کے لیے روکاوٹ بن رہا ہے ۔ان روکاوٹوں اور مشکلات کے چند نکات یہ ہیں ۔جیسے غیر یقینی مستقبل اور معاشی دباؤ ،سوشل میڈیا کا مصنوعی مقابلہ ،ناکامی کا خوف یعنی شروع کرنے سے پہلے ہی شکست ، مہارت کا فقدان ،نظام تعلیم نے محنت کا ذائقہ چھیں لیا ہے ،رول ماڈل کے نہ ہونے کا بحران ، راتوں رات ترقی کی سوچ اور شارٹ کٹ اور چور دروازہ ڈھونڈھنے کا رجحان ،آرام دہ زندگی کے خواب ، وغیرہ ۔میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں کام کا آغاز کرو یہ مت دیکھو اور سوچو کہ کیا کام ہے ۔آج یہ اجتماعی مایوسی صرف نوجوانوں میں نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کیفیت سے گزر رہا ہے ۔مجموعی سماج ایک گہری بےیقینی اور فرسودگی کا شکار ہے ۔جب بڑی نسلیں بزرگ ،اساتذہ ،سیاسی لیڈر اور ادارے ہی مایوس ہوں تو نئی نسل کا نوجوان کیسے امید کا چراغ روشن کرسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ اس کیفیت سے نکلنے کا آخر راستہ کیا ہے ؟ جی ہاں میرے مطابق نوجوان کو چھوٹے قدموں کی اہمیت سمجھانا ،ناکامی کوقبول کرنے اور ہمت نہ ہارنے کا ماحول بنانا ،عملی مہارتوں پر مبنی تعلیم،فنی مہارت کا حصول ،مثبت جہد مسلسل کی تلقین اور حقیقی رول ماڈل کی پہچان ،خاندان اور معاشرۓ کی سطح پر حوصلہ افزائی اور سب سے بڑھ کر یہ یقین دلانا کی تبدیلی انسان کے اپنے ہاتھ سے شروع ہوتی ہے ۔اور معجزۓ ہمیشہ انسانی قدموں کے بعد آتے ہیں قدم اٹھانے سے پہلے نہیں آتے ۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے دروازۓ انداز انتظار سے نہیں بلکہ انداز کوشش اور آغاز سے کھلتے ہیں ۔انسان کی چھوٹی سی ہمت ،ایک معمولی سی حرکت ،ایک مثبت فیصلہ ،اور اس کا ایک قدم وہ کام کرسکتا ہے جس کے لیے لوگ برسوں معجزوں کے منتظر رہتے ہیں ۔ آئیں آغاز کریں اور جو سامنے موجود ہے وہ کر گزریں ۔اپنے اجدا د کے تجربات اور مہارتوں کو جدت سے ہمکنار کرکے ان پر فخر کریں ۔یہ جان لیں کہ تعلیم شعور کے لیے ہوتی ہے رزق کے لیے نہیں ہوتی ۔فیصلہ آپ کا ہے کہ کیکڑے کی طرح سمندر کے پانی کا انتظار کرنا ہے یا پھر خود آگے بڑھ کر اور پانی میں اتر کر زندہ رہنا ہے ۔






