سو لفظوں کی کہانی
نیکی کا بل
بیچارہ ضرورت مند ہے،
سخت سردی میں بناء کسی لحاف کے پڑا ہے۔۔۔
فٹ پاتھ پہ لیٹے انسان پہ دل سے افسوس ہوا،
رحمدلانہ سوچ حاوی ہوئی،
اس لاچار انسان کو لحاف کی دوکان میں لے آیا۔۔۔
سردی سے بچنے کے لیے ایک رضائی اسے دے دو، میں نے دوکاندار سے کہا،،،
اور خود ایک کال پر مصروف ہو گیا۔
وہ شخص لحاف لے کر چلا گیا۔۔۔
کال سے فری ہوا تو دوکاندار سے بل کا پوچھا تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔۔۔
جسے ضرورت مند سمجھا تھا،
وہ شاطر نکلا،
عام لحاف کے بجائے دس ہزار کا برانڈڈ لحاف لے گیا تھا۔






