#اداریہ

سانحہ سڈنی ‘ مارنے والا مسلمان ‘ بچانے والا بھی مسلمان

Fahad 01

أج کا اداریہ

مسلم امہ کیلیے بالخصوص اور اقوام عالم کیلیےبالعموم سڈنی میں ھونے والی فائرنگ کا واقعہ پریشان کن ہے اورحیران کن بھی !
بلاشبہ دھشت گردی کے بڑے واقعات میں سے ایک ھے۔ جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ھے۔ تاھم اس واقعے کو لیکر دو مذاھب کے درمیان نفرت پھیلانا اور ایک دوسرے کیخلاف برسرپیکار ہوجانا دانشندی نہیں ۔اس عمل سے دھشت گرد قوتوں کو مزید تقویت ملے گی۔ أسٹریلیا کے مسلمانوں نے اقوام عالم سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کو مذاہب کے درمیان نفرت کی وجہ نہیں بننا چاہیے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے یورپی ممالک سے یہود مخالف قوتوں سے نمٹنے پر زور دیا ہے۔
آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز (اے ایف آئی سی) کے صدر راعتب جنید نے بونڈائی بیچ پر حملے کو ’تمام آسٹریلوی شہریوں کے لیے ایک سانحہ‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے میڈیاکو بتایا کہ پوری مسلم کمیونٹی ’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس تشدد کی مذمت‘ کرتی ہے اور وہ درخواست کرتے ہیں کہ ’یہ سانحہ نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی مسلمان ایسے کسی واقعے کا ذمہ دار ہوتا ہے تو کمیونٹی کی طرف سے ایسے عمل کے خلاف آواز اٹھائے جانے کے باوجود بھی اکثر فیصلہ سنانے میں جلدی کی جاتی ہے اور پورے مسلم معاشرےکو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔
راعتب جنید نے مزید کہا کہ کچھ لوگ چند افراد کی سرگرمیوں کا ’الزام اب بھی مسلمانوں پر لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی مسلمان ایسے کسی واقعے کا ذمہ دار ہوتا ہے تو کمیونٹی کی طرف سے ایسے عمل کے خلاف آواز اٹھائے جانے کے باوجود بھی اکثر فیصلہ سنانے میں جلدی کی جاتی ہے اور پورے مسلم معاشرےکو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔‘
راعتب جنید نے مزید کہا کہ کچھ لوگ چند افراد کی سرگرمیوں کا ’الزام اب بھی مسلمانوں پر لگا رہے ہیں۔‘
’اس سے نہ صرف کمیونٹیز کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمیں متحد ہونا چاہیے۔‘
’ہم پوری قوم کے ساتھ دکھ منا رہے ہیں۔ یہ ایک نا سمجھ آنے والا پُرتشدد عمل تھا، جس سے پوری کمیونٹی کو دھچکہ پہنچا ہے
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے مغربی حکومتوں سے مطالبہ کیے ہے کہ وہ ’یہود مخالفت‘ سے نمٹنے کے لیے ’جو ضروری ہے وہ کریں۔‘
انھوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بونڈائی حملے کا ذکر تو نہیں کیا، تاہم انھوں نے مغربی ممالک سے گزارش کی کہ وہ ’یہودی کمیونٹی کو سکیورٹی اور حفاظت فراہم کریں جس کی انھیں ضرورت ہے۔‘
’ان کے لیے ہماری وارننگز پر توجہ دینے بہتر رہے گا۔ میں فوری ایکشن کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘
بونڈائی بیچ پر حملے کے بعد نتن یاہو نے یہود مخالفت کو ’کینسر‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’رہنماؤں کی خاموشی کے سبب پھیلتاھے۔
دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ آسٹریلیا کے مقام بونڈائی پر حملہ آور ہونے والے شخص ساجد اکرم کا تعلق بھارت کے شور حیدر آباد ( دکن)سے تھا اور وہ 27 برس قبل تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے نومبر 1998 کے دوران آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے۔
تین روز قبل سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر منعقد ہونے والی یہودیوں کی تقریب پر ’دہشت گردانہ‘ حملے کے بعد حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے نام سے ہوئی تھی۔
گزشتہ روزحکام نےتصدیق کردی ہے کہ 50 سالہ ساجد اکرم نے حال ہی میں بھارت جبکہ اس کے بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔
بھارتی پولیس نےبھی تصدیق کی ہے کہ ساجد کے پاس بھارتی پاسپورٹ تھا جبکہ اسکا بیٹاآسٹریلوی شہری تھا
ایک پریس کانفرنس میں نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر میل لیون نے ان دونوں افراد کے فلپائن کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس دورے کا مقصد کیاتھا۔
آسٹریلوی ٹی وی اے بی سی نیوز نے اس پریس کانفرنس سے قبل سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ساجد اور نوید اکرم ’عسکری انداز کی تربیت‘ لینے کے لیے فلپائن گئے تھے تاہم فلپائن کی فوج نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ دونوں حملہ آوروں نے عسکری تربیت حاصل کی تھی۔
ورما سمونٹے کے مطابق فلپائن امیگریشن کی ترجمان ڈانا سنڈووال نے انھیں بتایا کہ فلپائن جانے کے لیے 50 سالہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ استعمال کیا تھا جبکہ اس کے 24 سالہ بیٹے نوید نے آسٹریلیا کے پاسپورٹ پر سفر کیا تھا
سنڈووال کے مطابق دونوں نے فلپائن کے جنوبی شہر ڈاواو کو اپنی حتمی منزل بتایا تھا۔ یاد رہے کہ ڈاواو فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈانو پر واقع ہے۔ اس جزیرے کے وسطی اور جنوب مغربی حصوں میں اسلامی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات رہی ہیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم سے ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اس ابہام کو دور کر سکتے ہیں کہ حملہ آور کا تعلق کس ملک سے تھا۔ تاہم آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ معاملات تفتیش کا حصہ ہیں ۔تاہم اب حکام نے بتایا ہے کہ فائرنگ کے مرکزی ملزم ساجد اکرم کا تعلق بھارت کے شہر حیدرابادسےتھا۔

سانحہ سڈنی ‘ مارنے والا مسلمان ‘ بچانے والا بھی مسلمان

سچ خطرے میں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے