*مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی: ایک عظیم روحانی شخصیت
منشاقاضی حسبِ منشا
دنیا عاقل کی موت پر اور جاہل کی زندگی پر صبح قیامت تک آٹھ آٹھ آنسو بہاتی رہے گی سقراط سے جب پوچھا گیا کہ عالم اور جاہل میں کیا فرق ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عالم جاہل کو جانتا ہے جاہل عالم کو نہیں جانتا اس لیئے کہ عالم ایک زمانے میں جہالت کی کیفیت سے گزر چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ جاہل کو جانتا ہے اور جاہل جو ہے وہ عالم نہیں بن سکا وہ عالم کو نہیں جانتا ۔ ہمارے درمیان دبے پاؤں ایک ایسے عالم دین اس فانی دنیا کو چھوڑ کر عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کر گئے ہیں جن کا وجود ہمارے معاشرے میں ایک روحانی فضا قائم کیئے ہوئے تھا آپ کی موجودگی جہاں ماحول میں آسودگی پیدا کرتی تھی وہاں آپ کی روحانی کارکردگی کا حسن ماحول میں چاندنی بکھیرتا تھا۔ آپ کے پوری دنیا میں عقیدت مند موجود ہیں ۔ آج ان کی ناگہانی وفات کی خبر ان کے عقیدت مندوں پر برق تپاں بن کر گری اور وہ ابھی تک سکتے اور صدمے سے باہر نہیں نکل سکے ۔
پھول وہ شاخ سے ٹوٹا کہ چمن ویران ہے
آج منہ ڈھانپ کے پھولوں میں صبا روئے گی
کرنل اشفاق احمد جو ایک ھائڈروجن تھراپی کے معاون موجد اور مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کے چمنستانِ علم کی خوشہ چین ہیں ۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ابھی تک مولانا کی دائمی فرقت کے صدمے سے دوچار ہیں اور آپ نے بتایا کہ
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی ایک معروف صوفی شاعر، عالم دین، اور سلسلہ نقشبندیہ کے ممتاز بزرگ تھے۔ وہ یکم اپریل 1953 کو جھنگ کے ایک کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1967 میں میٹرک، 1972 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اور لمز یونیورسٹی سے ہیومن مینجمنٹ ریسورس کا کورس بھی کیا
آپ کی خدمات اور تعلیمات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا البتہ دینی تعلیم انہوں نے جامعہ معہد الفقیر اسلامی، جھنگ کی بنیاد رکھی، جہاں حفظ قرآن، درس نظامی، اور دیگر دینی کورسز پڑھائے جاتے تھے۔- تصوف اور اصلاح نفس پیر سید زوار حسین شاہ سے مکتوبات مجدد الف ثانی پڑھی اور سید غلام حبیب نقشبندی مجددی سے 1980 میں بیعت ہو کر 1983 میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔ انہیں 30 بار رسول کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی- کتابیں اور خطبات انہوں نے 200 سے زائد تصانیف چھوڑیں، جن میں "خطبات فقیر” شامل ہے۔ ان کی کتاب "ایمان و یقین کے تقاضے” بھی بہت مقبول ہوئی- ختم نبوت کی تحریک وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیئے قابل قدر خدمات انجام دیتے رہے اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی امیر ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ نے انہیں "سچا عاشق رسول قرار دیا ۔ وفات اور نماز جنازہ مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کا انتقال 14 دسمبر 2025 کو ہوا۔ ان کی نماز جنازہ 15 دسمبر کو معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ میں ادا کی گئی، جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ملتان، جنوبی پنجاب، اور دیگر علاقوں سے ہزاروں قافلے جنازے میں شریک ہوئے تعزیت و تاثرات- جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالم اسلام کے لیئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہیں- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے انہیں "عظیم علمی و روحانی شخصیت” قرار دیا ۔ کرنل اشفاق احمد نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ ہم ایک ایسے وقت میں ایک عظیم عالم دین سے محروم ہو گئے ہیں جن کی اس وقت شدید ترین ضرورت تھی وہ ملت اسلامیہ اور امت محمدیہ کے اتحاد کی علامت تھے ۔ مولانا عبدالروْف ملک خطیب آسٹریلیا مسجد نے کہا کہ مولانا کے اٹھ جانے سے ہم ایک بہت بڑی عظیم ہستی سے محروم ہو گئے ہیں ۔ ممتاز طبی سائنسدان ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آج ہم ایک ایسی ہستی سے محروم ہو گئے ہیں جو اتحاد کی علامت تھی جنہوں نے ہمیشہ اس چمن میں اخوت و رواداری کی بادِ بہاری چلائی تھی اور ہم اس عظیم انسان سے محروم ہو گئے ہیں مولائے کریم انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لاکھوں عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا کرے ۔ سوہاوہ بولانی منڈی بہاؤدین سے مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کے عقیدت مند منظور احمد نے صدمے کی کیفیت میں کہا کے آج ہم ایک ایسی ہستی سے محروم ہو گئے ہیں جو لوگوں میں محبت کا درس دیتے تھے انہیں اپنی ذات سے لے کر پوری کائنات حسین نظر آتی تھی مولائے کریم ہمارے حضرت صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے
آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ ء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
__






