#کالم

بارہ سال کی شناختی جدوجہد، نادرا کی غفلت اور عدالت کی روشنی

new desingffggrr

تحریر( محمد قیصر طور نمائندہ سرزمین نیوز شاہکوٹ )

شاہکوٹ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جو نہ صرف ایک شہری کی تکلیف کی داستان ہے بلکہ پورے نظام کی خامیوں کا بھی عکاس ہے ایک ن نامی مقامی خاتون، جو گزشتہ بارہ سال سے نادرا کے چکر کاٹ رہی تھیں، بالآخر انصاف کی تلاش میں عدالت کی دہلیز تک پہنچی یہ عرصہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ اس کی زندگی کے کئی اہم پہلوؤں پر اثر انداز ہوا تعلیمی، پیشہ ورانہ اور سماجی مواقع سب متاثر ہوئے بارہ سال تک کی مسلسل جدوجہد کے دوران خاتون کو دفاتر میں مسلسل دھکے، غیر واضح ریکارڈ، اور مختلف بہانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر بار امید ٹوٹتی اور نئی امید جگائی جاتی، لیکن مسئلہ آج تک حل نہ ہوا۔ یہ صرف ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ نظام کی سست روی اور شہری حقوق کے تحفظ میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے عدالت میں سماعت کے دوران صورتحال یکسر بدل گئی نادرا کے نمائندے کی حاضری اور مسئلے کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی نے خاتون کی زندگی میں ایک روشن لمحہ پیدا کیا اگلے ہی روز خاتون دوبارہ نادرا دفتر پہنچی اور برسوں کی محنت کے بعد مسئلہ حل ہوگیا نادرا اہلکاروں نے بتایا کہ خاتون کا ڈبل شناختی کارڈ بن جانے کے باعث ریکارڈ معطل تھا، ایک کارڈ کینسل کر دیا گیا اور دوسرا اصل کارڈ جاری کرنے کی یقین دہانی دی گئی متاثرہ خاتون نے اس موقع پر عدالت کے لیے خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا: میں بارہ سال تک دربدر بھٹکتی رہی، ہزاروں دھکے کھائے اور میری زندگی کے کئی اہم مواقع ضائع ہوئے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی اگر عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹایا ہوتا تو شاید آج بھی میری شناخت محض کاغذوں میں بند ہوتی میں عدالت کی ٹیم کی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا کیس سنا اور اس کو فوری حل کرنے میں مدد دی۔ یہ میرے لیے ایک نجات کی طرح ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ نادرا جیسے ادارے مستقبل میں شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپنائیں شہری حلقوں نے بھی اس واقعے کو نادرا کے نظام میں موجود شدید بدانتظامی، سست روی اور شہریوں کے حقوق کے ساتھ ناانصافی کا واضح ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عدالت میں نہ جایا جاتا، تو شاید یہ کیس مزید طویل ہو جاتا اور شہری اپنی شناخت کے حصول کے لیے مزید برسوں تک در در بھٹکتے رہتے یہ واقعہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ عدالت شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں کس قدر اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کے بغیر شہری اپنی شناخت کے حصول کے لیے طویل اور تکلیف دہ سفر طے کرتے رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ نادرا جیسے قومی اداروں کے لیے بھی انتباہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کی قدر کریں اور غفلت اور تاخیر کو ہمیشہ کے لیے ختم کریں نادرا کی اس طویل التوا اور بارہ سال تک شہری کو دربدر کرنے والی صورتحال اس ادارے کی شدید نااہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ایسا قومی ادارہ جو شہریوں کی شناخت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس نے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں میں سستی دکھائی بلکہ شہریوں کی مشکلات کو بڑھانے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ مسلسل غلط ریکارڈ، ڈبل کارڈ کے معاملات، اور غیر مؤثر انتظامات نے ایک عام شہری کے لیے برسوں کی تکلیف اور ذہنی اذیت پیدا کی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ نادرا کو اپنے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بارہ سالہ پراسیس کے دوران متاثرہ خاتون نے نہ صرف برسوں کی محنت اور صبر کا نقصان برداشت کیا بلکہ مالی لحاظ سے بھی شدید بوجھ اٹھایا۔ گزشتہ بارہ سال کے دوران شناختی کارڈ کے حصول کے لیے دفاتر کے بار بار چکر لگانے پر ہزاروں روپے کے اخراجات ہوئے، جن میں سفر، دستاویزات، اور دیگر لازمی مصارف شامل ہیں۔ عدالت میں کیس دائر کرنے کے اخراجات اور نادرا دفتر ننکانہ جانے پر ہونے والے اضافی اخراجات نے بھی ان کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈالا متاثرہ خاتون نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ نادرا کو اس غفلت، تاخیر اور مالی نقصان کے بدلے مناسب ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے، تاکہ آئندہ کسی شہری کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی سست روی اور بدانتظامی کی قیمت صرف وقت اور وسائل کا ضیاع نہیں بلکہ شہریوں پر مالی اور ذہنی بوجھ بھی ہے، جس کا ازالہ ہرجانے کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے