واقعات تماشے نہیں ہوتے
اے آر طارق
artariq2018 @gmail. Com
03024080369
واقعات تماشے نہیں ہوتے مگر جب ریاستیں اپنی تھکن چھپا نہیں پاتیں،جب سیاست دان دلیل کی بجائے تُنک مزاجی کو اوڑھ لیتے ہیں اور جب حکمرانی طاقت کے بل پر لکھی جائے تو منظرنامہ ایسا ضرور بن جاتا ہے کہ دیکھنے والے اسے تماشہ سمجھ بیٹھیں۔پچھلے دس برس کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک مستقل گردش میں پھنسے ہوئے ملک کی طرح ہیں جہاں ہر موڑ پر ٹکر ہے ہر قدم پر اضطراب ہے اور ہر چند ماہ کے بعد "نئے آغاز”کے نام پر وہی پرانا کھیل دوبارہ سج جاتا ہے۔عمران خان کو اقتدار میں لانے والے حلقے نصف مدت کے اندر ہی اپنے خودساختہ تجربے کی بھینٹ چڑھے ناکامی سے دوچار نظر آنے لگے ۔حکمرانی کی وہ منزل جسے ایک مضبوط اور مربوط بیانیے کے ذریعے تکمیل تک پہنچانا تھا،خود بیانیے کی کمزوری اور باہمی بے اعتمادی کی نذر ہوگیا۔ریاستی طاقت کے دو دھڑوں کے درمیان وہ خاموش تصادم جس کا اظہار زبان سے کبھی نہیں ہوتا،عملی فیصلوں میں بارہا جھلکتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ حکومت اعتماد سے چل سکی،نہ اپوزیشن نرمی اختیار کر سکی اور نہ عوام کو یہ یقین دلایا جا سکا کہ یہ سیاسی جنگ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے لڑے جانے والی جدوجہد ہے۔تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کی مذاکراتی ٹیموں کا بارہا سامنے آنا بھی ایک ایسی کہانی بن گئی جس میں کردار تو موجود تھے مگر اختیار نہیں تھا۔ایک طرف اشتعال،دوسری طرف انا اور درمیان میں وہ مذاکرات جن کے پاس نہ واضح مینڈیٹ تھا،نہ جامع حکمت عملی۔یوں محسوس ہونے لگا کہ مزاج ہی مقدر بن چکا ہے اور جب مزاج ضد اور عدم برداشت میں ڈھل جائے تو سیاسی مکالمہ صلح کی طرف نہیں بلکہ انتشار کی طرف جاتا ہے۔ملک کے اندر بدلتے سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے بیرونی مثالیں بھی غلط نہیں ہوتیں،ہرچند کہ حالات کا پورا عکس کبھی نہیں ہوتایابنگلہ دیش کی سیاست میں حسینہ واجد کے خلاف جو الزامات اور مقدمات کی بازگشت اٹھتی رہی،وہ ہمارے خطے میں طاقت، انتقام،تاریخ اور سیاست کے گہرے تعلق کا یادگار حوالہ ہیں۔ وہاں کے تنقیدی حلقے جن باتوں کو سنے سنائے قصے کہتے ہیں ہمارے ہاں بھی سیاسی بیانیوں میں کچھ ایسا ہی رنگ دکھائی دیتا ہےجہاں عدالت،اقتدار اور مخالفین تینوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا نظر آتے ہیں اور ہر فریق اپنے موقف کو "حقیقت” اور دوسرے کے موقف کو "افسانہ” قرار دیتا ہے۔خطے کی سیاست میں یہ مزاج ایک المیہ بن چکا ہے کہ انصاف اور انتقام کی لکیر اکثر دھندلا جاتی ہے-پاکستان میں گزشتہ دس برسوں میں سیاسی سرکس کے جو تماشے سجے،ان میں ہر اداکار نے اپنا کردار پوری ڈھٹھائی اور بےشرمی سے نبھایا۔ کبھی کسی نے "نیا پاکستان” کا جھنڈا اٹھایا تو کبھی کسی نے "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ بلند کیا مگر دونوں نعروں کے پیچھے وہ طاقتیں ہمیشہ کارفرما رہیں جنہوں نے سیاسی بساط پر مہروں کی ترتیب اپنی مرضی سے بدلتے رہنے کو اپنا حق سمجھا۔ ریاست کے فیصلے عوامی امنگوں سے زیادہ ادارتی ترجیحات کے تابع رہے اور یوں ایک عشرہ گزر گیا مگر نظام کے بنیادی بگاڑ وہیں کے وہیں رہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عوام سیاسی بیانیوں سے زیادہ اپنے روزمرہ کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ مہنگائی کی چوٹ، بے روزگاری کی آگ، معاشی غیریقینی کا دباؤ اور سماجی عدم تحفظ یہ سب کسی واحد حکومت یا ایک دورانیے کی پیداوار نہیں ہیں. یہ اس مسلسل بے سمتی کا نتیجہ ہیں جو ہمارے طرز حکمرانی کو کھوکھلا کرتی چلی آئی ہے لیکن سیاسی قیادت نے اس گہرے زخم کا علاج تلاش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی کمزوریاں چننے کو ہی اپنی فتح سمجھ لیا ہے یوں ریاست ایک خانہ جنگی جیسے روئیے میں دھکیلی جا رہی ہے اگرچہ بندوقیں خاموش ہیں مگر زبانیں تیز،ادارے منقسم اور اعتماد بکھرتا ہوا۔آج ملک ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت سوال ہی سوال ہیں کیا یہ راستہ ہمیں کسی اصلاح کی طرف لے جائے گا یا پھر ہم مزید پیچیدگیوں میں گھر جائیں گے؟ کہیں تو اس کھیل کا انت ہونا چاہیے،کہیں تو فیصلہ ہونا چاہیے کہ ریاست تماشا بنے گی یا مستقبل کا نقشہ سنجیدگی سے تیار کیا جائے گا مگر اس انت کا تعین کون کرے گا؟ وہ طاقتیں جنہوں نے گزشتہ کئی برسوں میں اپنے فیصلوں سے سیاسی عمل کو متزلزل رکھا؟ یا وہ سیاست دان جو مخالفت کو دشمنی سمجھ بیٹھے؟ یا پھر عوام جنہوں نے ہر بار امید کا دامن تھاما مگر ہر بار مایوسی کا صدمہ برداشت کیا؟سچ یہ ہے کہ موجودہ گھمبیر صورتحال محض چہروں کی تبدیلی سے بہتر نہیں ہوگی مسئلہ نظام کا ہے سوچ کا ہے اور سب سے بڑھ کر روئیے کا ہے۔ جب تک حکمرانی کے فیصلے پارلیمان کے اندر نہیں ہوتے،جب تک سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم اور گفتگو کو سنجیدہ نہیں بناتیں،جب تک ریاست کے مختلف ستون اپنی حدود کا احترام نہیں کرتے اور جب تک عوامی رائے کو اس کے حقیقی وزن کے ساتھ جگہ نہیں ملتی تب تک کسی بھی تبدیلی کا فائدہ عارضی ہوگا اور انتشار مستقل .یہ وقت پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔اگر ہم نے اپنے ماضی سے سبق نہ سیکھا،اگر ہم نے طاقت کے کھیل کو حکمت عملی پر ترجیح دی،اگر ہم نے سیاسی اختلاف کو دشمنی کا درجہ دیا تو پھر آنے والے برس بھی انہی کھیل تماشوں کی نذر ہوتے رہیں گے لیکن اگر ہم نے مکالمے، برداشت،آئینی عمل اور شفافیت کو دوبارہ اختیار کرلیا تو شاید وہ منزل اتنی دور نہیں جتنی آج دکھائی دیتی ہے۔
ریاستوں کی تقدیریں شہ سرخیوں سے نہیں بدلیں،کردار سے بدلتی ہیں اور کردار تب جنم لیتا ہے جب کوئی فریق ہار ماننے کے بجائے سچ کا راستہ چنے- وہ سچ جو طاقت سے نہیں،اصول سے نکلتا ہے۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کہیں تو انت ہونا چاہیے اور وہ انت جذبات کا نہیں بلکہ خود اس روئیے کا ہے جس نے سیاست کو تماشہ بنا رکھا ہے۔یہی وہ پہلا قدم ہے جو ہمیں انتشار سے مکالمے اور ٹکراؤ سے تعمیر کی طرف لے جا سکتا ہے۔






