#کالم

پاکستان میں نئے صوبوں کی بازگشت اور بحالی صوبہ بہاولپور

new desing FG4RES

تحریر :۔ آسیہ کامل

پاکستان کی سیاسی فضا میں صوبوں کی بازگشت کوئی نئی بات نہیں ہے ۔کبھی جنوبی پنجاب کی گونج بلند ہوتی ہے تو کبھی ہزارہ کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی کراچی کو الگ انتظامی یونٹ بنانے کی بحث زور پکڑ لیتی ہے ۔لیکن ان تمام بحثوں کے بیچ ایک آواز مسلسل ،مضبوط اور تاریخی جواز کے ساتھ موجود ہے ۔وہ بہاولپور صوبے کی بحالی کی آواز ہے ۔یہ مطالبہ سیاست کی آتی جاتی لہر نہیں بلکہ ایک تاریخی حقاور آئینی وعدےکی یاد دہانی ہے جسے پورے بہاولپورکے عوام کی حمایت بڑے عرصہ سے حاصل ہے ۔اگر اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو قیام پاکستان کے وقت ریاست نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ۔اس ریاست کا نظام حکومت ،عدالتی ڈھانچہ ،بجٹ اور انتظامی حیثیت باقی خطوں سے کہیں بہتر اور منظم تھی ۔۱۹۵۵ء کے ون یونٹ میں بہاولپور کو صوبائی حیثیت سے محروم کیا گیا اور یہ محرومی آج تک بحال نہ ہو سکی ۔یہ مطالبہ دراصل کسی نئے صوبے کا مطالبہ نہیں بلکہ پرانے صوبے کی بحالی کا ہے ۔اور یہی ایک بنیادی فرق ہے جو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ آبادی کے دباؤ میں اضافہ کی باعث پرانے انتظامی یونٹ ناکافی دکھائی دیتے ہیں ۔پاکستان کی آبادی سات دہائیوں مین چار گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے ۔۔ایسے میں پرانے صوبائی بندوبست کا برقرار رہنا انتظامی بوجھ کو بڑھاتا ہے ۔جبکہ پنجاب جیسے بڑےصوبے میں عوامی نمائندگی کمزور پڑتی ہے ۔وسائل کی منصافانہ تقسیم دشوار ہو جاتی ہے ۔ اور دوردراز علاقوں میں حکومتی رسائی محدود اور مشکل ہوتی ہے ۔بہاولپور صوبہ کی بحالی جنوبی پنجاب کے انتظامی خلا کو پر کرنے کا موثر حل ثابت ہو سکتی ہے ۔کیونکہ یہاں کے وسائل اور شناخت بہاولپور کی اپنی الگ پہچان ہیں ۔یہ خطہ صرف تاریخی حیثیت ہی نہیں بلکہ معاشی اعتبار سے بھی اہم ہے ۔چولستان کی زمینیں دریاۓ ستلج کے کنارے آباد زرخیز علاقے ،کپاس اورگندم کی پیداوار ،یونیورسٹیاں ،موٹر ویز اور صنعتی زون یہ سب اس خطے کو ایک مکمل اور قابل خود کفالت صوبہ بنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔دوسری جانب بہاولپور کی اپنی تہذیب تھی ،زبان تھی ،ثقافت تھی،عدالتیں تھیں ، فوج تھی اور مالیاتی ڈھانچہ الگ تھا ۔ایسی شناخت کو ایک بڑے صوبے کی انتظامی گم نامی میں رکھنا انصاف نہیں ۔بہاولپور کی بحالی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔یہ مطالبہ محض سیاسی نہج پر نہیں بلکہ تاریخی حق ،آئینی تسلسل ،انتظامی ضروت ،معاشی خود کفالت ،عوامی خواہشات ،اور احساس محرومی کے خاتمے جیسی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے ۔

بہاول پور صوبہ پاکستان کی انتظامی آئینی وسیاسی وہ مسلم حقیقت ہے جس سے ارباب اختیار 1970 سے آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہوۓ تھے ۔بہاول پور کی عوام کے مسلسل دباؤ اور بحالی صوبہ کی تحریک کے زندہ رہنے کی وجہ سے 9مئ 2012 میں پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر بحالی صوبہ بہاول پور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی قرارداد پاس کر کے نہ صرف بحالی صوبہ بہاول پور کی تاریخی اور آئینی حیثت پر مہر لگادی ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بہاول پور کی الگ صوبائی حیثت ہے اور جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ الگ مطالبہ یا انتظامی ضرورت ہے۔پاکستان ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی جو کہ بہاول پور صوبے پر پہلے کبھی واضح حمایت نہیں کرتی تھی آج پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول زرداری بھٹو نے بھی بہاول پور صوبہ کی حمایت کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوامی مطالبہ مان لینا ہی جمہوریت ہے۔اگر پاکستان کو مستحکم ،متوازن اورعوامی خدمت کے اصولوں پر استوار وفاق بنانا ہے تو بہاولپور صوبہ کی بحالی ایک ناگزیر قدم ہے ۔کیونکہ چھوٹے انتظامی یونٹ زیادہ موثر ،شفاف اور عوام دوست ہوتے ہیں ۔پاکستان میں جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے ضرور بناۓ جائیں لیکن بہاولپور کوئی نیا صوبہ نہیں بلکہ یہ تو پرانے صوبے کی بحالی کا وہ عمل ہے جو ون یونٹ کی نذر ہو گیا تھا ۔اور جس کی وقرار داد پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ہے ۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی بازگشت اور بحالی صوبہ بہاولپور

خاموش انقلاب کی معمار 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے