#کالم

چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ، اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس فیس میں نظر ثانی کی ضرورت

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر ، محمد ندیم بھٹی

ریاست اور شہری کا رشتہ اعتماد اور ذمہ داری پر قائم ہوتا ھے۔ قانون کا احترام اسی وقت پروان چڑھتا ھے جب ریاست عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرے، اور عوام ریاستی اصولوں پر عمل کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ پاکستان میں معاشی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ھے، اور ایک عام شہری کے لئے روزمرہ کی بنیادی چیزیں بھی اب بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت جب کسی سہولت پر فیس بڑھاتی ھے تو اس کا اثر براہ راست لوگوں کی جیب پر پڑتا ھے۔ اسلحہ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں اضافہ بھی اسی طرح کا مسئلہ ھے جس پر توجہ دینا ضروری ھے۔
ڈرائیونگ لائسنس محض ایک دستاویز نہیں بلکہ شہری کی قانونی شناخت ھے کہ وہ سڑک پر گاڑی چلانے کا حق رکھتا ھے۔ ہمارے ملک میں کروڑوں افراد موٹر سائیکل اور گاڑی روزگار کیلئے چلاتے ہیں۔ آن لائن ڈلیوری بوائے سے لے کر کیریئر ڈرائیور تک، ٹیکسی ڈرائیور سے رائیڈ ہیلنگ سروس کے نوجوانوں تک، سب کے لئے لائسنس بنیادی ضرورت ھے۔ اگر لائسنس کی فیس زیادہ ھو جائے یا تجدید پر بھاری رقم ادا کرنا پڑے تو یہ طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ھے۔ کئی غریب شہری اس لئے لائسنس نہیں بنواتے کہ فیس ان کے ماہانہ بجٹ سے باہر ھے۔ نتیجہ یہ کہ قانون کی خلاف ورزی بڑھتی ھے، بغیر لائسنس ڈرائیونگ عام ہوتی ھے، اور سڑکوں پر حادثات میں اضافہ ہوتا ھے۔ سوال یہ ھے کہ کیا ریاست چاہتی ھے کہ لوگ قانون سے دور رہیں یا قریب آئیں؟ یقیناً مقصد قربت ھونا چاہئے۔
اسی طرح اسلحہ لائسنس کا تعلق بھی امن و امان سے جڑا ھوا ھے۔ قانونی اسلحہ رکھنے والوں کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ھے، ریاست کو معلوم ھوتا ھے کہ کس کے پاس کس نوعیت کا اسلحہ ھے۔ اگر فیس بہت زیادہ ھو تو لوگ قانونی لائسنس نہ بنوانے یا تجدید میں تاخیر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ھے کہ اگر تجدید وقت پر نہ ھو تو جتنی فیس ھے اتنا ہی جرمانہ واجب الادا ھو جاتا ھے۔ یہ عوام کے نزدیک سراسر سختی اور زیادتی سمجھا جاتا ھے۔ دنیا میں جرمانہ تنبیہ کیلئے ہوتا ھے، فیس کے برابر سزا دینا شہری کو قانون سے دور کرنے کے مترادف ھے۔ بہتر ھوگا کہ جرمانہ کم ھو، تاکہ شہری کو احساس ھو کہ غلطی ہوئی لیکن سزا تحمل میں ھو، اور آئندہ کی پابندی کے لیے حوصلہ بڑھے نہ کہ خوف اور بوجھ۔
اسلحہ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کے نظام کو جدید بنانے کے لیے حکومتی اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ ڈیجیٹل نظام، بائیومیٹرک ریکارڈ، آن لائن اپوائنٹمنٹ ،یہ سب مثبت تبدیلیاں ہیں۔ لیکن سوال یہ ھے کہ جب نظام ڈیجیٹل ہو رہا ھے تو فیس بھی معقول ہونی چاہیے۔ بیرونِ ملک بہت سے ممالک میں حکومتیں لائسنسنگ فیس کو کم رکھتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری قانونی دائرے میں رہیں۔ برطانیہ، ترکی اور ملائیشیا میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس پاکستانی بجٹ کے مقابلے میں انتہائی کم ھے۔ لائسنس ٹیسٹ سخت ضرور ہیں لیکن فیس عام شہری کے قابلِ برداشت۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں فیس اور جرمانہ دونوں بلند ہیں جبکہ تنخواہیں اور آمدنی محدود۔
عوام کی توقع ھے کہ حکومت آسانیاں پیدا کرے۔ اگر پنجاب حکومت لائسنس فیس میں رعایت دے دے تو یہ اقدام معاشی دباؤ کم کرے گا اور لوگوں کو حوصلہ دے گا کہ وہ قانون کی پیروی کریں۔ رعایت سے حکومت کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ھوگا کیونکہ رجسٹرڈ صارفین کی تعداد بڑھے گی، فیس وصولی میں اضافہ ھوگا، غیر قانونی اسلحہ اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ کم ھوگی۔ یہ امن و امان کو مضبوط کرے گا۔ حکومت خصوصاً چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز فلاحی منصوبوں میں واضح دلچسپی رکھتی ہیں۔ صحت کارڈ، راشن پروگرام، تعلیمی وظائف یہ عوام دوست سوچ کا ثبوت ہیں۔ اسی تسلسل میں اگر اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس فیس پر بھی نظر ثانی کی جائے تو یہ فیصلہ عوام میں پذیرائی پائے گا۔
مزید یہ کہ حکومت اگر خصوصی رعایتی پیکیج بنائے تو بہتر ہوگا۔ مثلاً:
•⁠ ⁠طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے رعایتی فیس
•⁠ ⁠تین یا پانچ سال کیلئے اسلحہ لائسنس کی مشترکہ رعایتی تجدید
•⁠ ⁠بزرگ شہریوں، خواتین اور معذور افراد کیلئے خصوصی سہولت
•⁠ ⁠کم آمدنی والے طبقے کے لیے سبسڈی یا رعایتی پاس
•⁠ ⁠قسطوں میں فیس جمع کرانے کا نظام ▪︎ مخصوص طبقہ صحافیوں کے لئے خاص رعایت ،
یہ تجاویز حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا پل بن سکتی ہیں۔ پنجاب میں ڈیجیٹل گورننس کا آغاز ھو چکا ھے، اس میں مزید بہتری لا کر پورا لائسنس سسٹم ایک موبائل ایپ سے ممکن بنایا جا سکتا ھے۔ تجدید کی بروقت اطلاع الارمنگ میسج کے ذریعے آئے تو لوگ بھاگ دوڑ کیے بغیر تجدید کر سکیں گے۔ یہی جدید طرزِ حکومت ھے جس کی عوام توقع کرتی ھے۔
عوام یہ نہیں چاہتے کہ قانون ختم ھو جائے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ قانون ان کی دسترس میں ھو۔ قانون جتنا قابلِ عمل ھوگا، اتنی ہی پابندی بڑھے گی۔ زبردستی اور بھاری جرمانوں سے نظم و ضبط نہیں آتا، بلکہ تعاون سے آتا ھے۔ ریاست اگر شہریوں کو ریلیف دے گی تو یہی شہری کل کو ٹیکس بھی دیں گے، لائسنس بھی بنوائیں گے اور قانون کے ساتھ کھڑے بھی ھوں گے۔
آخر میں ایک مؤدبانہ درخواست محترمہ مریم نواز صاحبہ سے کہ ڈرائیونگ لائسنس اور اسلحہ لائسنس فیس کو عوامی حالات کے مطابق نرم کیا جائے۔ جرمانہ فیس کے برابر نہیں بلکہ کم ھونا چاہیے۔ رعایت ھو تو قانونی رجسٹریشن بڑھے گی، اور غیر قانونی رجحان خود بخود کم ہو جائے گا۔ یہ قدم حکومت کے لیے عوامی مقبولیت لائے گا اور شہری ریاست کو اپنا محافظ محسوس کریں گے۔ امید ھے کہ پنجاب حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھے گی اور جلد ایسے فیصلے کرے گی جو عام شہری کے لئے آسانی اور قانون کیلئے مضبوطی کا باعث بنیں۔

چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ، اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس فیس میں نظر ثانی کی ضرورت

ڈی جی آئی ایس پی آر کی

چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ، اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس فیس میں نظر ثانی کی ضرورت

حساس لوگ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے