#کالم

میاں نواز شریف، جمہوریت اور 78 سالہ کہانیایک تجزیاتی

new desing27

تحریر امجد اقبال امجد

پاکستان کی 78 سالہ سیاست ایک ایسے اسٹیج کی مانند ہے جہاں کردار بدلتے رہے، مگر اسٹیج کے پیچھے سے تاریں ہلانے والے ہاتھ کبھی سامنے نہیں آئے۔ اسی اسٹیج پر ایک کردار میاں محمد نواز شریف بھی ہے—وہی نواز شریف جو جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کے سیاسی سایوں میں پیدا ہوا، مگر وقت کے ساتھ جمہوریت کے چراغ کا پروانہ بنتا رہا۔

نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب تھا، لیکن تین بار اسے اسی طاقت نے راستے سے ہٹا دیا۔ وہ بھی جانتا تھا کہ جس ہاتھ نے اسے اوپر اٹھایا ہے، وہی ہاتھ اسے نیچے پھینک سکتا ہے۔ پھر بھی اس نے مزاحمت کی—جتنی ہمت تھی، جتنی سکت تھی، جتنی اجازت تھی۔ بھٹو کی پھانسی اس کی آنکھوں میں ایک مستقل خوف بن کر بس گئی۔ یہی وجہ ہے کہ میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے والا نواز شریف جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت دیکھتا ہے تو اس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ جمہوریت کا سفر اُس کے لیے ایک لمبا مگر خوف زدہ راستہ بن جاتا ہے۔

آصف علی زرداری نے بھی ایک وقت اسٹیبلشمنٹ کو للکارا۔ “پاکستان کھپے” سے “ایوانِ صدر” تک وہ ایسی راہیں بنا گئے جنہیں پارلیمان نے مضبوط کیا۔ اٹھارویں ترمیم ہو یا این ایف سی ایوارڈ—یہ وہ کام تھے جنہوں نے جمہوری ڈھانچے کو سہارا دیا۔ مگر زرداری بھی آخرکار اسی خوف میں آ گیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل تصادم سیاسی بقا کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

پھر اس کہانی میں عمران خان آتا ہے—ایک ایسا کردار جو ابتدا میں اسٹیبلشمنٹ کا سب سے پسندیدہ منصوبہ تھا، پھر سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔ اقتدار چھننے کے بعد اس کی مزاحمت اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک نئے باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ عمران خان اب بھی ڈٹا ہوا ہے—جیل میں ہو یا عدالتی مقدمات میں، وہ مزاحمت کا پرچم تھامے کھڑا ہے۔ باقی سیاسی قوتیں یا تو سمجھوتے میں گم ہو گئیں یا تھکن کا شکار ہو کر پیچھے ہٹ گئیں۔

پاکستان کی 78 سالہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ یہاں عوام کا ووٹ نہیں، اسٹیبلشمنٹ کا نظریہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون آگے آئے گا اور کون گھر جائے گا۔ یہاں سیاسی رہنما جمہوریت کے خواب دیکھتے ہیں، مگر جاگتی آنکھوں میں خوف کے سائے بسیرا کیے رکھتے ہیں۔ یہاں نظام ہے، مگر نظام کی اپنی آواز نہیں—وہ آواز ہمیشہ کہیں اور سے آتی ہے۔

آج پاکستان ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف نرم مگر تابع جمہوریت ہے، دوسری طرف سخت مگر بے لچک مزاحمت۔ نواز شریف کی سیاست سمجھوتے کی علامت بن گئی ہے، زرداری کی سیاست توازن کی، اور عمران خان اس وقت تصادم کی نشانی ہے۔ تینوں راستے مختلف ہیں مگر منزل ایک ہی—پاکستان کا وہ جمہوری مستقبل جس میں حکومت عوام کے ووٹ سے آئے اور عوام ہی سے رجوع کرے۔

78 سال بعد بھی سوال وہی ہے:
کیا ہم جمہوریت چاہتے ہیں؟
یا وہ “کنٹرولڈ ڈیموکریسی” جسے اسٹیبلشمنٹ نظام کہتی ہے؟

پاکستان آگے چلنے کا خواہش مند ہے، مگر ہر بار تاریخ اسے پیچھے کھینچ لاتی ہے۔ شاید وہ دن آئے جب کوئی بھی سیاسی رہنما اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار نہ کہلائے، جب پارلیمان طاقت کا مرکز ہو، جب حکومت کے لیے جی ایچ کیو نہیں، صرف عوام فیصلہ کریں۔

اس دن پاکستان واقعی 78 سالہ بچہ نہیں، ایک بالغ جمہوری ریاست بن کر ابھرے گا۔
وہ دن کب آئے گا؟
یہ فیصلہ اب تاریخ کو نہیں—ہمیں کرنا ہے۔

میاں نواز شریف، جمہوریت اور 78 سالہ کہانیایک تجزیاتی

10/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے