#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط نمبر:10 (شاہد بخاری)

سفرِ حیات کے پڑاؤ اور مستقر
ڈاکٹر اقبال کی پیدائش انڈیا کے ضلع کرنال میں ہوئی جس کی یادیں انکے لاشعور میں ہوں تو ہوں شعوری طور پر ان کے مطابق انہیں کچھ یاد نہیں۔کرنال میں ان کے والد شیخ اللہ دیا ملکاں والے محلے میں قیام پذیر تھے جوخان لیاقت علی خان کے اعزاو اقربا سے منسلک تھے۔قیامِ پاکستان کے بعد ان کے والد اپنے ایک دوست جو پہلے سے سرگودہا میں موجود تھے،کو تلاش کرتے کرتے ایک چھوٹے سے گاؤں جوئیہ میں پہنچ گئے جو خوشاب شہر سے کوئی آٹھ نومیل کے فاصلے پر ہے،وہاں انہوں نے تدریس شروع کر دی۔ ڈاکٹر اقبال کی عمر اس وقت کوئی چار،پانچ سال کی تھی وہ کہتے ہیں کہ انہیں جوئیہ کے گلی کوچے یاد ہیں۔انہیں بڑی حد تک ٹھیک ٹھاک نظر آتا تھا اور وہ ادھر ادھر آزادی سے گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ اس گاؤں کی یادیں ان کے ذہن میں محفوظ ہیں پھر جوئیہ سے ان کے والد گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب میں بطور ٹیچر متعین ہو گئے۔خوشاب کو ڈاکٹر اقبال نے اچھی طرح سے دیکھا ۔اس وقت کے خوشاب کا سارا نقشہ ان کے ذہن میں محفوظ ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ واحد شہر ہے جس کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے گھوم پھر کر دیکھا،یہیں سے انہوں نے میٹرک کیا۔اس سےملحق جوھر آباد کے گورنمنٹ کالج سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔بعد ازاں وہ حصولِ تعلیم کے سلسلے میں سرگودہا منتقل ہو گئے، اور پھر دوسال کے بعد لائل پور(فیصل آباد) اور پھر سرگودہا میں بزم سجا دی جہاں وہ اب تک موجود ہیں۔ اگرچہ 2003 سے 2005 تک وہ پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں رھے اور پھر تادمِ تحریر سرگودہا ہی میں قیام پذیر ہیں۔ اپنی رہائش گاہوں کے بارے میں انہوں نے ماہنامہ سفید چھڑی میں بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔اپنے بچپن میں حصولِ تعلیم کے لئے وہ 1956میں نابیناؤں کے لئے ایک سکول ایمرسن انسٹی ٹیوٹ فار بلائنڈ،اندرون شیرانوالہ گیٹ لاہور میں داخل ہوئے. اس تجربے کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں:”جب میں لاہور میں نابینا افراد کے ادارے میں زیرِ تعلیم تھا.شروع شروع میں اس ادارے میں ایک پل ٹھہرنے کو جی نہیں چاہتا تھا پھر ایک وقت آیا جب یہ ادارہ زندگی لگنے لگا ایسا محسوس ہونے لگا کہ اس کے سوا کہیں کوئی جہان آباد ہی نہیں۔ ساتوں آسمان یہیں موجود ہیں ساری دھرتی اس میں سکڑ گئی ہے۔ میری عمر تب کوئی12 تیرہ سال کی تھی لیکن سچ پوچھیئے تو مجھے اس احساس نے بڑا تڑپایا تھا کہ مجھے اس ادارے سے چلے جانا ہو گا،کتنے اچھے دوست تھے وہاں، کتنے شفیق استاد، کتنی عمدہ فضائیں اور کتنے شیریں مناظر لیکن پھر سب کچھ چھٹ گیا“
اسی داریے میں اپنے خوشاب کے قیام کے بارے میں لکھتے ہیں:”میں خوشاب لوٹ آیا جہاں سے میں لاھور،جب گیا تھا تو خوشاب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا لیکن آنکھیں کم سنی کی آنکھیں تھیں بھولنہار، بے پرواہ آنکھیں، کوئی جلوہ بھی تو نہیں سمیٹا تھا،ہاں کچھ گلیاں کچھ بازار کچھ گھر ذہن میں محفوظ ہو گئے تھے جو ابھی تک محفوظ ہیں اور خوابوں کی دنیا آباد کرتے ہیں لیکن جب لاہور سے واپس لوٹا تو آنکھیں ساتھ چھوڑ چکی تھیں،آنکھوں کی جگہ احساس نے لے لی تھی اور احساس بھی حصولِ منزل کا احساس تھا یہ احساس کہ کچھ پڑھنا لکھنا ہے، تبھی زندگی کا کارواں آگے بڑھے گا۔ اس عمر میں یہ احساس کم ہی پیدا ہوتا ہے لیکن میرے حصے میں یہ احساس کچھ زیادہ ہی آ گیا تھا بس اسی احساس نے وہ دو اڑھائی سال ہضم کرائے جو خوشاب میں گزرے، خوشاب دل میں اپنی جگہ بنا چکا تھا لیکن دل ہی کے ہاتھوں دماغ کی معیت میں وہاں سے کوچ کیا اور سرگودہا کو اپنے جذبہء فکر کا محور بنا لیا۔
یہ کوئی ستمبر 1963 کی بات ہے جب میں،اپنے گھر والوں کے ساتھ سر گودھا منتقل ہوا۔سیٹلائٹ ٹاؤن میں،جسے اب اولڈ سیٹلائٹ ٹاؤن کہتے ہیں،تب وہ سیٹلائٹ ٹاؤن،میرے لئیے ایک دنیا تھی جس میں رہ کر مجھ پر زندگی کے نت نئے رنگ و روپ ظاہر ہوئے، میں نے حصولِ علم کے ساتھ ساتھ نابینا حضرات کی فوز و فلاح کے تصور کو بھی عملی شکل دینا شروع کر دی تھی، سرگودہا سے میں نے بی۔اے کیا اس دورمیں گورنمنٹ کالج سرگودہا بھی عجیب و غریب کالج تھا کیونکہ اس میں میری زندگی کے دن کچھ اس طرح گزر رہے تھے کہ ہر دن کوئی نہ کوئی خواہش لے کر طلوع ہوتا تھا،کوئی کتاب پڑھنے کی خواہش، اچھے نمبر لینے کی خواہش، کسی تقریب میں حصہ لینے کی خواہش، میرا شعور اپنا اصلی رنگ و آہنگ حاصل کرنے کی کوشش میں محو تھا۔ پھر دو سال کے لئے لائل پور(فیصل آباد)جانا پڑا۔ایم اے انگریزی کرنے کے اس تجربے نے جو کچھ دیا اسے سرگودہا کے قدموں میں نچھاور کرنے کیلئے ہم سب پھر سرگودہا آ گئے۔
اس زمانے کا سرگودہا، دیہاتی سا شہرتھا۔ ویسے اب بھی اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی لیکن اس دور کا سرگودہا لگتا بڑا سیدھا سادہ تھا، جانے مجھے کیوں ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تب خواہش نہیں ہوئی تھی اس لئے بہت دیر تک میں ادبی تحریکوں سے الگ تھلگ صرف پڑھنے ھی میں منہمک رہا……میں جو کچھ ہوں میرے افکار جیسے ہیں جذبات کی جو شکل ہے یہ بڑی حد تک اسی شہر کی دین ہے۔ یہ الگ بات کہ خیالوں میں جذبوں کا کوئی خاص شہر نہیں ہوتا،وہ ایک شہر میں رہ کر دوسرے شہروں کی سیرو سیاحت بھی کرتے رہتے ہیں“۔
ڈاکٹر موصوف آگے جا کر لکھتے ہیں کہ انکا یہ فیصلہ کہ وہ سرگودہا سے لاہور منتقل ہو جائیں کسی مادی ضرورت کے پیشِ نظر نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہ لاہور سے علم و ادب کی بہتر خدمت کر سکیں گے اور فلاحی کاموں میں بھی بھر پور حصہ لے سکیں گے اور ان ایوانوں تک ان کی آواز پہنچ سکے گی جن تک سرگودہا سے نہیں پہنچ پائی۔ ڈاکٹر اقبال کوئی 3سال لاہور رہے پہلے ان

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

08/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے