#کالم

بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان کا کرارا جواب

Fahad 01

أج کا اداریہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے چیف أف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتے کے روز ایک کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق سوال پر کہا کہ جو کچھ ابھی ہو رہا ہے وہ پاکستان کی 80 برس کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے ستون ہیں جو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں
ترجمان نے کہا کہ ’مئی 2025 کے تنازع نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کو واضح طور پر ثابت کیا۔ کسی بھی قسم کی پروپیگنڈا مہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے اداروں اور قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں انڈیا کے غیر مستحکم اقدامات اور پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا ہے۔
ان کے مطابق ’اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی بھارت کی امن اور استحکام کے لیے عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی افواج پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے انڈیا کو ہندوتوا نظریے کی تحقیقات کرنی چاہییں، جس نے ماورائے عدالت انصاف، ہجوم کے ہاتھوں قتل، بلاجواز گرفتاریوں اور عبادت گاہوں کی مسماری کو جنم دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈین ریاست اور قیادت مذہب کے نام پر اس انتہا پسندی کی یرغمال بن چکی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد اور پرعزم ہے
دفتر کارجہ کے بیان میں مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مختصر 4 روزہ جھڑپ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ مادرِ وطن اور پاکستانی عوام کے دفاع کے عزم کو بھرپور، مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں ثابت کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی پروپیگنڈا اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا۔
دفتر خارجہ نے بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے کی کوششوں کو ’ایک پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد خطے اور اس سے باہر بھارت کی عدم استحکام کی پالیسیوں اور پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا ہے‘
واضح ہوکہ بھارتی میڈیا ہمیشہ سے پاکستان کے داخلی معاملات کو مسخ شدہ زاویے سے پیش کرتا آیا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور علیمہ خان کے انٹرویوزجس میں انہوں پاکستان کے خلاف زہر اگلا،ان کوجس طرح بھارتی چینلز نے اپنے پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ایک منظم ایجنڈے کی جانب بھی واضح اشارہ کرتا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت میں موجود میڈیا ہاؤسز پہلے سے طے شدہ فریم میں مواد تلاش کرتے ہیں، اور جیسے ہی انہیں کوئی ایسا شخص یا بیان مل جائے جو پاکستان کے اندرونی حالات کو منفی انداز میں پیش کر سکے، اسے فوری طور پر بڑھا چڑھا کر عالمی سطح پر نشر کیا جاتا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نورین نیازی اور علیمہ خان نے حالیہ دنوں میں بھارت کے کئی نمایاں چینلز—جن میں انڈیا ٹوڈے، ری پبلک بھارت اور زی نیوز شامل ہیں —کو انٹرویوز دیے۔* ان انٹرویوز میں پاکستان کے سیاسی ماحول، عدالتی کارروائیوں اور عمران خان کی صحت کے بارے میں کئی ایسے بیانات سامنے آئے جو نہ صرف یکطرفہ تھے بلکہ بھارتی میڈیا کے تیار کردہ بیانیے سے مکمل مطابقت رکھتے تھے۔ بھارت میں بیٹھ کر، بھارتی اسکرینز پر، پاکستان کے اداروں کے خلاف گفتگو کرنا خود اپنے اندر کئی سوالات اٹھاتا ہے—خصوصاً اس وقت جب بھارت کی اپنی ساکھ انسانی حقوق، میڈیا فریڈم اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر بری طرح تنقید کا شکار ہے۔یہ امر خصوصی تنقید کا متقاضی ہے کہ بھارت نے نورین نیازی کے بیانات کو ’’حقائق‘‘ کے طور پر پیش کیا، جیسے وہ کسی غیر جانب دار مبصر کی گواہی ہوں۔* حالانکہ ہر ذمہ دار مبصر جانتا ہے کہ بھارت کبھی بھی پاکستان کے داخلی معاملات پر غیر جانبدار رپورٹنگ نہیں کرتا۔ اس کے پس منظر میں ہمیشہ پاکستان کو کمزور، غیر مستحکم اور بے بس دکھانے کا مقصود ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی میڈیا نے ان انٹرویوز کو عمران خان کے حوالے سے اپنے دیرینہ پروپیگنڈے کا حصہ بنا کر چلایا—جس میں ریاستی اداروں پر تنقید، پاکستان میں مبینہ سیاسی جبر، اور مختلف سازشی نظریات کو عالمی سطح پر پھیلانا شامل ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی میڈیا نے تو حد ہی کر دی جب چند چینلز نے عمران خان کی وفات سے متعلق جھوٹی خبریں بھی نشر کر دیں۔ ان میں ری پبلک بھارت اور زی نیوز سمیت کئی ویب پورٹلز شامل تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ افواہوں کو بغیر کسی تصدیق کے ”بریکنگ نیوز” کے طور پر پیش کیا۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کی فیک نیوز نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی مثال ہے بلکہ اس سے بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف جنون بھی آشکار ہوتا ہے۔ بعد ازاں جب پاکستان کے حکام نے ان جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کی تو بھارتی چینلز نے خاموشی اختیار کر لی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اسی تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کرتا ہے کہ نورین نیازی نے اپنی بات رکھنے کے لیے بھارت جیسے متعصب اور پاکستان دشمن میڈیا پلیٹ فارمز کا انتخاب

بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان کا کرارا جواب

شعوری احساس کیا ہے

بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان کا کرارا جواب

08/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے