#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط نمبر:8 (شاہد بخاری)

ڈاکٹر شیخ اقبال کے بیٹے تابش اقبال کی اہلیہ
سرگو دھا میڈیکل کالج میں ڈاکٹر ہیں۔
تابش اقبال کے تین بیٹے ہیں بڑا بیٹا شایان تابش ہے جس نے اپنے 9thکلاس کے امتحان میں سرگودہا بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور میٹرک میں1100 میں سے 1075 نمبر حاصل کر کے دوسری پوزیشن لی۔اور اب سیکنڈ ایئر کے امتحان کا منتظر ہے، دوسرا بیٹا عمار تابش بھی ذہین و فطین ہے اور اپنی کلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتا ہے اور وہ 9thکے امتحان کا منتظر ہے ۔ تیسرا بیٹا سبحان تابش اپنے دونوں بھائیوں سے بھی زیادہ ذہین نظر آتا ہے اور وہ کلاس پنجم کا طالب علم ہے۔یوں وہ بڑی خوشی اور تشکر کے اعتبار سے اکثر کہتے ہیں کہ ان کی اولاد کے حوالے سے الللہ نے ان پر بہت کرم کیا ہے۔ تینوں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کی بڑی بیٹی کشور اقبال کی بیٹی جویریہ اختر ایم بی بی ایس کا امتحان دے چکی ہیں اور ڈی ایچ کیو سرگودہا میں ہاؤس جاب کر رہی ہیں اور ان کے بیٹے ابتہاج اختر نے PIASیونیورسٹی اسلام آباد سے ابھی ابھی مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کا چھوٹا بیٹا شجان اختر ہشتم میں ہے اور وہ بھی اپنے بڑے بہن بھائی کی طرح بڑا محنتی ہے اور کلاس میں اول رہتا ہے۔ کوکب اقبال کی تین بیٹیاں ہیں بڑی بیٹی عائشہ UMTلاھور، میں BS انگریزی کے پانچویں سمسٹر میں ہے اور اس کی دو چھوٹی بیٹیاں زینب اور لائبہ میٹرک کا امتحان دے چکی ہیں۔
ڈاکٹر اقبال کو اپنے بچوں اور اپنے بچوں کے بچوں سے بے پناہ محبت ہے اور وہ بھی ان پر جان چھڑکتے ہیں ڈاکٹر اقبال انہیں اپنا مستقبل گردانتے ہیں اگرچہ ڈاکٹر اقبال کا مستقبل ان کی تخلیقات اور تصنیفات ہیں۔ تاہم ان کی خاندانی زندگی بہت کامیابی سے گزر رہی ہے۔
ان کے بارے میں ان کی بڑی بیٹی کشور اقبال اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں۔
”ان کے بارے میں جتنا بتاؤں کم ہے اگر دیکھا جائے تو وہ اپنے اندر ایک دنیا آباد کئے ہوئے ہیں جس سے ہر کوئی استفادہ کرنے میں اپنی خوشی محسوس کرتا ہے۔۔۔ ہمارے والد صاحب جنہیں ہم پاپا کہتے ہیں ہمارے باپ بھی ہیں ہماری ماں بھی، انہوں نے ہمیں اتنا پیار دیا ہے جو کسی خوش قسمت انسان کو ملتا ہے۔ ہم دونوں بہنوں کو انہوں نے بی۔ اے تک اس طرح پڑھایا ہے جیسے کوئی کے۔ جی کے بچوں کو پڑھاتا ہے پیار سے اور کبھی کبھی مار سے بھی۔ ہم نے ان سے بچپن میں بڑی مار بھی کھائی ہے اور اب بھی ان کی مار کھانے کو جی چاہتا ہے۔ انہوں نے ہمیں دوسری کلاس میں مضمون لکھنا سکھا دیا تھا۔وہ ہمیں پیسوں کا لالچ دیتے تھے کہ اگر ایک مضمون لکھو گے تو میں تمہیں اس کے پانچ پیسے دوں گا اور ہم ان پیسوں کے لالچ میں مضمون پر مضمون لکھتے جاتے تھے اور یوں ہماری پڑھائی کا آغاز ہوا۔ ہمیں گھر والے کسی کام سے باہر بھیجتے تھے تو ہم جھولے لینے لگ جاتے تھے اور ہماری دادی اماں ہمیں ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ جاتیں اور پھر ہماری خیر نہ ہوتی۔میں معافی مانگنے میں آگے آگے ہوتی اور میری چھوٹی بہن کہتی ”پاپا! باجی نے کہا تھا ہم جھولا جھولیں“ وہ ہمیشہ یہی کہتی۔ پاپا کہتے،باجی اگر تجھے کہے کہ کنویں میں چھلانگ لگا دے تو تم لگا دیتیں۔یہ ان کا مشہور فقرہ ہوتا۔۔۔۔۔ انہوں نے ہمیں ہر طرح پڑھانے کی کوشش کی،رات کو ہم جلد سونے کے عادی تھے ”کہتے تھے کہ9 بجے تک پڑھو۔ آج ڈرامہ نہیں دیکھنا،ہم مضامین والی کتاب مرقع اردو پڑھنا شروع کر دیتے اور ساری پڑھ ڈالتے۔۔۔۔ وہ ہمیں اچھے اچھے انگلش کے مضمون اور کہانیاں لکھواتے جو ہماری بڑی کلاسز میں کام آ تے رھے۔۔۔۔ وہ ہمارے بے حد اچھے دوست ہیں وہ ہمیں گود میں اٹھاتے ہمیں کھلاتے تھے ہم آگے بھاگتے تو۔۔ وہ قدموں کی آواز پر آگے بڑھتے تھے اور ہمیں پکڑ لیتے تھے۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہیں جن سے ہمارے پاپا کی محبت اور شفقت ظاہر ہوتی ہے۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں ان سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب بھی ان کی توجہ نعمت سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت مند رکھے اور ان کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے“
ڈاکٹر اقبال کی دوسری بیٹی کوکب اقبال اپنی یادوں کوتازہ کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:
”کچھ یادیں کچھ باتیں ہمارے جسم و جاں کے ریشوں سے اس طرح الجھ کر امر ہو جاتی ہیں کہ جن کا بھولنا اپنے آپ کو بھول جانے کے مترادف ہے کہنا یہ چاہتی ہوں کہ میں ایک عام سی سٹو ڈینٹ بہت سی یادوں کے خزانوں سے بھر پور لطف اٹھاتی ہوں۔
وقت تو اڑ گیا، کبھی کسی کا نہ ہوا، مگر وہ گھڑیاں جن میں زندگی تھی، طراوت تھی وہ لوٹ کر نہیں آتیں، مگر وہ باتیں ذہن کے کینوس سے Removeنہیں ہو سکتیں۔ مثلاً مجھے ذکر کرنا ہے اپنے والد صاحب ڈاکٹر پروفیسر شیخ اقبال کا کہ جن کے زیرِ اثر میں اور میرے دو بہن بھائی پروان چڑھے اور آج اس مقام پر ہیں کہ زندگی شکر الحمد للہ سکون سے گزار رہے ہیں۔
کن کن باتوں کا ذکر کروں؟ کیونکہ ہماری زندگی کی اکثر باتیں اپنے ”پاپا“ سے متعلق ہیں کہ کس طرح وہ نابینائی کے باوجود محنت کرتے رہے اور کبھی خیال تک نہ آیا کہ ہمارے پاپا نابینا ہیں۔ زندگی کی ساری سہولتیں ہمیں میسر تھیں۔ ہمارا پڑھنا، اٹھنا بیٹھنا،آنا جانا، سونا جاگنا،کھانا پینا سب ان کو معلوم تھا، ہائے کبھی کوئی بات ان سے نہ چھپا سکے، سب جان جاتے تھے۔ ہمیں لالچ دے دے کر پڑھاتے تھے۔ڈراتے زیادہ اور ایکشن نہ لیتے۔ اور جس بات پر خیال کرتے کہ شامت آئے گی پیار کرتے۔۔۔۔۔۔۔ مگر گھر کے افراد اور ان کی ضرورتوں سے کبھی غافل نہ رہے۔ نابینائی ایک بہت بڑی کمزوری ہے مگر ہم نے اپنے پاپا کو کبھی کمزور نہ دیکھا ہمت حوصلہ اور جوانمردی انکے اوصاف ہیں۔ اور لوگ ان سے حوصلہ لیتے وہ لوگوں کو ڈپریشن سے نکالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
مجھے تو بچپن سے ہی ان کی شاعری کی کتابیں کافی حد تک از بر تھیں۔ میں نے ان سے حوصلہ، مثبت رویہ اور ہمدرد دل ادھار لیا ہے۔ اتنا آسان نہیں ہے زندگی کے سمندر سے زندہ بچ نکلنا لیکن یہ صرف خدا کا کرم اور میرے والد صاحب کی نصیحت و کردار ہے جس نے مجھے خوشی کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا ہے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ تندرست، فعال اور جواں ہمت پایا ہے لوگوں کو معاف کر دینا، لوگوں کا ساتھ دینا ان کی شخصیت کا واضح حصہ ہے۔“
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت AOL بتاریخ27مئی 2025ءقسط وارشائع کر رھے ہیں)

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

شادیوں کا موسم 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے