تعریف مشکل، تنقید آسان : ہماری سوچ کا اندھیرا
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ فطری طور پر بہت زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہر میدان میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں، نئی چیزیں سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ہر کام میں بہترین بننے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے خصوصی صلاحیت دی ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر جگہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر شخص اس صلاحیت کا مالک نہیں ہوتا، اور یہ کوئی خامی بھی نہیں۔ اصل خامی تو یہ ہے کہ جب کوئی شخص خود میں کوئی خاص قابلیت نہ پائے تو اس کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ جو لوگ محنت اور ہنر کے بل پر آگے بڑھ رہے ہوں، ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ الٹا ان پر تنقید، مذاق، بدگمانی اور حسد کے تیر برسانا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ رویہ ہمارے معاشرے کی گہری نفسیاتی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم پاکستانی اکثر کسی بھی معاملے میں جُگاڑ تلاش کرنا اپنا پہلا حق سمجھتے ہیں۔ کام ہو جائے تو واہ واہ، اور اگر کام خراب ہو جائے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ “بس یہ تو جُگاڑ تھا، نہیں چل سکا۔” اس ذہنیت نے ہمیں محنت اور مہارت سے دور کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حسد نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ حسد ایسا جذبہ ہے جو نہ صرف انسان کے اندر کی روشنی بجھا دیتا ہے بلکہ معاشرے کے مجموعی ماحول کو بھی زہر آلود کر دیتا ہے۔ یہی حسد ہمیں دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں کرنے دیتا، چاہے وہ ہمارے اپنے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
تھری ایڈیٹس کے اُس مشہور مکالمے میں بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ جب دوست فیل ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے، مگر جب پتا چلے کہ وہ فیل نہیں ہوا بلکہ ٹاپ کر گیا ہے تو دل کے کسی کونے میں ہلکی سی چبھن محسوس ہوتی ہے۔ یہی چبھن حسد کی بنیاد ہے۔
یہی کیفیت اکثر پاکستانیوں میں بہت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ہم اس بات کو قبول ہی نہیں کرنا چاہتے کہ کوئی دوسرا ہم سے زیادہ کامیاب کیوں ہے۔ ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس نے کتنی محنت کی ہوگی، کتنی جدوجہد کی ہوگی، اور اسے کون کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
حسد کی یہ آگ بعض اوقات انسان کو بدترین راستوں پر بھی لگا دیتی ہے۔ کچھ وقت پہلے ایک افسوسناک ویڈیو گردش میں آئی جس میں ایک نوجوان کو اس کے اپنے ہی کزن نے صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ وہ نوجوان اپنا چھوٹا سا کاروبار چلا رہا تھا اور اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ ہم بطور قوم کہاں کھڑے ہیں۔
انسان کو خاص بنانے والی چیز صرف اس کا ہنر نہیں بلکہ اس کے اندر کا دل بھی ہے۔ ایک اچھا دل دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، اس کی تعریف کرتا ہے، اور اس کی ترقی کو اپنا نقصان نہیں سمجھتا۔ مگر جب دل تنگ ہو جائے، تو انسان کا اپنا نقصان بھی اسے نظر نہیں آتا۔
اگر ہم اپنی سوچ کا زاویہ بدل لیں تو یہ معاشرہ مثبتیت سے بھر سکتا ہے۔ ہر کامیاب شخص ہمارے لیے ایک مثال ہے، نہ کہ خطرہ۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ ان سے سیکھنا ضروری ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں ہر شخص مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ کسی کے پاس ذہانت زیادہ ہوتی ہے، کسی کے پاس ہنر، کسی کے پاس انتظامی قابلیت، اور کسی کے پاس تخلیقی سوچ۔ یہ فرق اللہ کی تقسیم ہے، اور ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے۔
ایک بالغ معاشرہ وہ ہوتا ہے جو اپنے ہنرمند افراد کو آگے بڑھائے، ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھے۔ مگر بدقسمتی سے ہم اس کے برعکس راستے پر چل نکلے ہیں۔ ہمیں اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی معاشرے میں حسد کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی دیکھتے ہیں مگر اس تک پہنچنے کا سفر نہیں دیکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم فوراً شک، سازش اور مخالفت کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ جو آج آگے بڑھ رہا ہے، وہ کسی کے حق پر نہیں بلکہ اپنی مسلسل کوششوں کے بل پر آگے ہے۔ اگر ہم بھی محنت کریں تو اللہ ہمارے لیے بھی دروازے کھول دیتا ہے۔
اسلام نے حسد کو گناہ اور بربادی کا راستہ قرار دیا ہے۔ حسد انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ اس کا نقصان صرف دوسروں کو نہیں بلکہ سب سے زیادہ خود حسد کرنے والے کو ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگو جب وہ حسد کرے۔” (سورۃ الفلق)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“مومن کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔”
یہ دونوں تعلیمات ہمیں واضح راستہ دکھاتی ہیں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دلوں میں سکون رہے، گھروں میں محبت ہو اور معاشرہ ترقی کرے، تو حسد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
دل بڑا ہوگا تو دنیا بڑی لگے گی۔ دل تنگ ہوگا تو ہر طرف دشمن ہی نظر آئے گا۔ یہ سب ہمارے سوچنے سمجھنے پر منحصر ہے کہ ہم کس راہ پر چلنا چاہتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھیں۔ ان کی تعریف کرنے میں بخل نہ کریں۔ اچھے کردار والے لوگ وہ نہیں ہوتے جو خود آگے بڑھتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کو بھی آگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
معاشرے میں مثبت تبدیلی تب ہی آئے گی جب ہر شخص اپنی ذمے داری سمجھ کر خود کو بہتر بنائے۔ حسد کی آگ کو بجھا کر تعاون، محبت اور حوصلہ افزائی کے چراغ روشن کرے۔
اگر






