سو لفظوں کی کہانی
ضرورت
دوسو کا چھوٹا سا کھوکھا تھا،
گلی کی نکڑ پر،،،
جہاں ضرورت کی کم و بیش ہر چیز دستیاب تھی،
تقریبآ چوبیس گھنٹے سروس تھی کہ اس کا گھر بھی پاس تھا،
کھوکھا بند ہو تو گھر کا دروازہ جا کھلواو۔۔۔
باٹو لیکن ہمیشہ مذاق اڑاتا،
ہم مارٹ سے ہر چیز لیتے ہیں،
وہ دوسو کو چڑاتے ہوئے کہتا،
نخوت سے ہمیشہ پیش آتا،
دوسو ہر مرتبہ مسکرا دیتا۔۔۔
رات دو بجے دوسو کا دروازہ بجا،
کھولا، تو سامنے باٹو تھا،
ہر مارٹ بند ہے،
اور اچانک مہمان آ گئے ہیں،
کچھ لازمی چیزیں چاہیے،
باٹو بناء دوسو سے آنکھیں ملائے، بولا۔






