#کالم

پنجاب حکومت کا ظالمانہ ہیلمنٹ قانون اور بیچاری عوام

Untitled 12345

اورنگ زیب اعوان

عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے حکومت کو منتخب کرتی ہے . تاکہ وہ ان کو درپیش مسائل کا ازالہ کر سکیں. مگر بسا اوقات

بدقسمتی سے حکومت عوامی مسائل کو ختم کرنے کی بجائے. عوام کو ہی ختم کرنے میں اپنی افادیت سمجھتی ہے. اس کی ناقص رائے میں جب عوام ہی نہیں ہوگی. تو مسائل کہاں سے پیدا ہو گے. مطلب وہ مسائل کو عوام کی طرف سے پیدا شدہ تصور کرتی ہے. اس لیے وہ ان مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پیھکنے کے لیے عوام کو ہی زندہ درگو کرنا چاہتی ہے. ہماری موجودہ پنجاب حکومت بھی اسی پالیسی پر کاربند نظر آتی ہے. یہ مسائل کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں. مگر بیچاری عوام کو ختم کرنے میں بالکل سنجیدہ ہے. اس کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پنجاب کی عوام کو مار رہے ہیں. معاشی، معاشرتی ،سیاسی ہر لحاظ سے عوام کو مارا جا رہا ہے. بین الاقوامی تناظر میں دیکھے تو پوری دنیا معاشی بدحالی کا شکار ہے. جس کے نتائج پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں. عوام کے پاس روزگار اور کاروبار نہیں. ایسے میں حکومت پنجاب نے پیرا فورس کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے. جس کے وجود کا مقصد جو اب تک سامنے آیا ہے. وہ عوام کی ذاتی جائیداد اور کاروبار کی بندش کے سوا کچھ نہیں. یہ پیرا فورس تاجروں اور محدود وسائل میں رہتے ہوئے کاروبار کرنے والوں کے لیے وبال جان بن چکی ہے. اس کی ظالمانہ کاروائیاں لوگوں کو اپنا کاروبار ختم کرنے پر مجبور کر رہی ہیں. کسی ریڑی فروش اور غریب کو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر روزی کمانے کی اجازت نہیں. کیونکہ وزیراعلٰی پنجاب صوبہ پنجاب کو پیرس بنانا چاہتی ہیں. اسی طرح سے آجکل پنجاب میں ٹریفک قوانین کی ترمیم نو کی آڑ میں عوام کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے. کمسن طالب علموں پر ایف آئی آر کا اندراج کیا جا رہا ہے. کسی حکومتی وزیر، مشیر یا اہم شخصیت نے ہیلمنٹ کمپنی سے ٹھیکہ کر لیا ہے. اپنے ذاتی مفاد کی آڑ میں پنجاب کی عوام پر ہیلمنٹ آرڈیننس نافذ کردیا گیا ہے.جس کی رو سے کوئی بھی موٹر سائیکل سوار جو ہیلمنٹ نہیں پہنے گا. اس کو دو ہزار روپے جرمانہ ہوگا. اس کے علاوہ موقع پر ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں اس پر پرچہ بھی درج کیا جا سکتا ہے. موٹر سائیکل غریب عوام کی سواری ہے. جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے صبح سویرے اس پر گھر سے نکلتے ہیں. کچھ لوگ سیل مین کی نوکری کرتے ہیں. وہ موٹر سائیکل پر شہر بھر کی دوکانوں سے آرڈر لیتے ہیں. اور مال کی سپلائی بھی دیتے ہیں. کچھ لوگ موٹر سائیکل کو بطور ڈرائیو کے چلا کر اپنا روزگار کماتے ہیں. طالب علم سکول و کالج جانے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں. ہر کسی کی اپنی مجبوریاں ہیں. پتہ نہیں وہ پیٹرول کا خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں. اوپر سے ہیلمنٹ کے نام پر مجبور اور غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے. عوام کو کسی حال میں جینے نہیں دیا جا رہا. حکومت پنجاب عوام مکاؤ مہم پر کاربند ہے. لگتا ہے وزیر اعلی پنجاب انڈین فلموں کی دلدادہ ہیں. بھارتی فلموں میں یہ سب کچھ اچھا لگتا ہے. مگر عملی زبدگی یہ سب ممکن نہیں. ہیلمنٹ ٹریفک کے ہر مسئلہ کا حل نہیں. کیا ہیلمنٹ پہننے سے ٹریفک حادثات رک جائے گے. ہرگز نہیں بلکہ ٹریفک حادثات کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا. ہماری عوام تو پہلے ہی نفسیاتی اور معاشی الجھنوں کا شکار ہے. وہ راستہ پر چلتے خود کلامی کرتے دیکھائی دے گی . انہیں پیچھے آنے والی ٹریفک کی آواز اور شور سنائی نہیں دیتا. ہیلمنٹ پہن کر تو یہ بالکل بہرے ہو جائے گے. ٹریفک حادثات کے سدباب کے لیے ہیلمنٹ نہیں. بلکہ موٹر سائیکل کی سپیڈ کنڑول کرنے کی ضرورت ہے. ٹریفک پولیس اوور سپیڈ کرنے والوں کے چالان کرے. ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے. وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف بلاشبہ ایک محنتی وزیر اعلی ہیں . انہیں عوام کی مجبوریوں کا بھی احساس کرنا چاہیے. کسی کو خوش کرنے کے چکر میں عوام میں بد اعتمادی پیدا نہ کرے. حالیہ ضمنی الیکشن کے ٹرن آؤٹ کو دیکھ کر اندازہ لگا لینا چاہیے. کہ عوام کا اعتماد حکومت وقت پر کس قدر ہے. تمام غیر جانبدار تجزیوں کے مطابق ٹرن آؤٹ پانچ سے چھ فیصد کے درمیان رہا ہے. سیٹیں جیت جانا معنی نہیں رکھتا. عوام کا اعتماد زیادہ اہمیت کا حامل ہے. جس میں حکومت وقت ناکام دیکھائی دیتی ہے. عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے. اور عوام دوست پالیسیاں تشکیل دیں. تاکہ عوام کے دلوں میں حکومت وقت کی قدر و اہمیت میں اضافہ ہوسکے. اپنے ارد گرد موجود خوش آمد پرستوں سے جان چھڑائے. جو سب اچھا کی رپورٹ آپ کو دیتے ہیں عوام میں پائے جانے والی بے اعتمادی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے. حکومت کا بنیادی مقصد اور عزم عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے. ناکہ اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا. آپ کو فی الفور اپنی ہیلمٹ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے. ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے دیگر احتیاطی تدابیر کو اپنانے پر زور دینا چاہیے. سیف سٹی کے مقاصد کے تحت شہروں میں جو کیمرہ جات نصب کیے گئے ہیں. ان کی مدد سے گاڑیوں کی سپیڈ اور ون وے کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اختیار کیے جائے .ہیلمنٹ مہم کے دوران عوام کی تذلیل بھی کی جا رہی ہے. آپ کو خوش کرنے کے چکر میں ٹریفک پولیس کے اعلی افسران موقع پر عوام کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہے ہیں. جس میں کوئی بیچارہ معافی مانگ رہا ہے. تو کوئی جیب میں پیسے نہ ہونے کا عذر پیش کر رہا ہے. کیا عام شہریوں کی ان کی اجازت کے بغیر وڈیو بنانا پیکا قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں. جس کا بنیادی مقصد ہی عوام کی تذلیل کرنا ہے. خدارا عوام

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے