#کالم

مال کی دوڑ اور معصوم ذہنوں کی بربادی

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

دنیا اس وقت ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جسے صرف معاشی یا سماجی مسئلہ کہنا کم ہوگا۔ یہ انسانیت کا وہ دوراہا ہے جہاں دولت کی اندھی دوڑ نے نہ صرف معاشروں کی اخلاقی بنیادیں ہلا دی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو بھی ایک ایسے مصنوعی جنون کا شکار بنا دیا ہے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ پیسے کی حرص نے اپنی حدیں اس قدر پار کر لی ہیں کہ اب یہ ان معصوم ذہنوں تک بھی پہنچ چکی ہے جو ابھی زندگی اور انسانیت کو سمجھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام نے ہمیشہ مقابلے کی فضا پیدا کی لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں اس مقابلے نے خوفناک روپ اختیار کر لیا ہے۔ بچے جو کبھی تتلیوں کے پیچھے بھاگتے تھے مٹی سے گھروندا بناتے تھے یا تتلی کے پروں کی رنگت پر حیران رہ جاتے تھے، آج عجب دوڑ میں شامل ہیں آن لائن گیمز، مصنوعی کامیابیوں، جعلی شہرت، اور چند سیکنڈز کی ویڈیوز میں قید وہ خوشیاں جن کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں۔ ذہن سازی اب والدین، اساتذہ یا معاشرہ نہیں کرتا۔ اب الگورتھم ذہن بناتے ہیں اشتہارات سوچ بدلتے ہیں اور کمپنیوں کے مفاد کردار تشکیل دیتے ہیں۔

نئی نسل کا معیارِ زندگی اس بات سے نہیں جانچا جاتا کہ وہ علم میں کتنا آگے ہے اخلاق میں کتنی پختگی رکھتی ہے یا معاشرے میں کس درجہ حرکی قوت ہے۔ ان کا مقام اب لائکس، فالوورز اور مصنوعی شہرت سے ناپا جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس دوڑ میں وہ بڑے بھی شامل ہیں جو خود کو باشعور کہتے ہیں۔ جب بڑوں کی ترجیحات بگڑ جائیں تو نسلیں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں.

سرمایہ دار دنیا کے کھیل کو اگر سمجھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ نظام شعوری طور پر نسلوں کی معصومیت کو نشانہ بناتا ہے۔ چند عالمی کمپنیوں کی اجارہ داری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ انسانوں کی نفسیات سے لے کر ان کے خوابوں تک کو ایک پروڈکٹ بنا چکی ہیں۔ یہ کمپنیاں صرف سامان نہیں بیچتیں، یہ سوچ بیچتی ہیں خواہشات پیدا کرتی ہیں خوف تخلیق کرتی ہیں اور پھر انہی خوفوں کی دوائیں بھی خود بناتی ہیں۔

یہ خطرناک رجحانات صرف معاشی پہلو تک محدود نہیں رہے بلکہ ذہنی اور اخلاقی سطح پر دنیا کو تبدیل کر رہے ہیں۔ مادی خواہشات کی شدت نے انسان کے اندر سے اطمینان اور قناعت چھین لی ہے۔ سوشل میڈیا نے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جس میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں اپنی انسانیت، اپنی حقیقت، اور اپنی شناخت کھو رہا ہے۔ خواہشات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب انسان اپنے بچوں کے مستقبل سے پہلے ان کے برانڈز، گیجٹس اور دکھاوے کو اہمیت دیتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان کی قیمت کم اور اس کے استعمال ہونے والے آلات کی قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔ انسانیت کی حدود سکڑ رہی ہیں جبکہ منافع کی حدیں پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔

ایسے میں عالمی سطح پر ایسے مضبوط قوانین کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے جو انسانی ذہن کو سرمایہ دارانہ استحصال سے بچا سکیں۔ بچوں کی ذہنی صحت ان کی اخلاقی تربیت اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دنیا کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں ایسا کریں گی .کیا وہ کمپنیاں جو اربوں کھربوں میں کھیل رہی ہیں اپنی ہی کمائی محدود کرنے پر تیار ہوں گی شاید نہیں۔ کیونکہ دنیا کا اصل کھیل وہی لوگ چلاتے ہیں جن کے مفادات عوام سے کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔

یہاں یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم واقعی بہت دیر نہ کر چکے ہوں۔ عالمی سطح پر طاقت اور سرمایہ رکھنے والے گروہ کون ہیں، ان کی پالیسیاں کہاں بنتی ہیں اور وہ انسانیت کو کس سمت دھکیل رہے ہیں یہ سب کچھ کسی سے چھپا نہیں رہا۔ آج کے دور میں ارب پتی افراد کا اثر صرف کاروبار تک محدود نہیں، وہ حکومتوں، پالیسیوں، اور عالمی رجحانات تک کو سمت دیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بادشاہوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب دنیا چند افراد کے ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے۔

حیرت کی بات نہیں کہ عوام میں اس بات کا خوف موجود ہے کہ کہیں اس دنیا کو چلانے والے وہی پوشیدہ طاقتیں نہ ہوں جنہیں کبھی ’’ایلومیناٹی‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ اور یہ خوف بے بنیاد بھی نہیں کہ جب انسان کو خدائی طاقت جیسی سہولتیں مل جائیں جب مصنوعی ذہانت اور دماغی کنٹرول جیسی ٹیکنالوجیاں چند ہاتھوں میں ہوں جب معاشرے چند افراد کے ایک اشارے پر بدل جائیں تو پھر خدشے جنم لیتے ہیں۔

آج بڑی شخصیات کے بارے میں نت نئی تھیوریز گردش کرتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بادشاہ دنیا کا مستقبل کنٹرول کرتے ہیں، کوئی انہیں خفیہ قوتوں کا مستقل رکن قرار دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ باتیں عام ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑے نام انسانیت کو بہتر بنانے کے بجائے کنٹرول کرنے کے مشن پر ہیں۔ یہ نظریات درست ہوں یا غلط اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کا عام انسان خود کو غیر محفوظ اور غیر بااختیار محسوس کر رہا ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم اپنی نسلوں کو کس سمت لے جا رہے ہیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ بچے مصنوعی ذہانت کے غلام بن جائیں کیا ہم چاہتے ہیں کہ ان کے دلوں سے سادگی، معصومیت اور انسانیت مٹ جائےکیا ہم چاہتے ہیں کہ عالمی کمپنیاں ہمارے بچوں کو بطور پروڈکٹ استعمال کریں.

یہ وقت ہے کہ دنیا اجتماعی طور پر بیدار ہو۔ حکومتیں، تعلیمی ادارے، والدین اور دانشورسب کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انسانیت کی قیمت منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر آج ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو شاید آنے والی نسلوں کو انسانیت کا وہ چہرہ کبھی دیکھنے کو نہ ملے جس کی روشنی میں آج تک دنیا چل رہی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے