#کالم

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ویژن کے مقابل بھارتی فضائیہ کی لڑکھڑاتی ٹیکنالوجی

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

بھارتی فضائیہ کے حالیہ متعدد حادثات نے نہ صرف بھارت کے اندر دفاعی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا رھے ھیں بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارتی فضائی طاقت کی کارکردگی پر شدید طنز اور تنقیدی ردعمل سامنے آیا ھے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید ترین جی ایم انجنز، جدید جنگی جہاز، اور بین الاقوامی دفاعی معاہدے رکھنے کے باوجود یہ حادثات بھارت میں دفاعی اصلاحات کی کمی اور ناقص تربیتی نظام کی نشاندھی کرتے ھیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی مثال ایک روشن مثال ھے، جہاں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف، کی قیادت میں دفاعی ڈھانچہ مضبوط، منظم اور پیشہ ورانہ معیار پر قائم ھے۔
بھارت میں جدید جہازوں کے مسلسل کریش ھونے کا سب سے بڑا سبب تربیتی نظام کی کمزوری ھے۔ جدید جیٹ فائٹرز میں استعمال ھونے والے پیچیدہ سسٹمز کی صحیح سمجھ اور ہنگامی حالات میں بروقت ردعمل دینے کی تربیت بھارت کے پائلٹس کو اکثر دستیاب نہیں۔ نتیجتاً، معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑے حادثات کا سبب بن جاتی ھے۔ اس کے برعکس پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے ویژن کے تحت نہ صرف پائلٹس کی تربیت مسلسل اپڈیٹ ھوتی ھے بلکہ ہر افسر اور جوان کو ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی اور ٹیکنیکل کنٹرول کا مکمل علم فراہم کیا جاتا ھے۔ یہی فرق پاکستان کے دفاعی معیار کو عالمی سطح پر معتبر بناتا ھے۔
جی ایم انجن دنیا کے بہترین انجنوں میں شمار ھوتا ھے، جس کی طاقت، تھرسٹ، استحکام اور طویل پرواز میں کارکردگی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ھے۔ لیکن بھارت میں انجینئرز اور تکنیکی اسٹاف کی لاپرواہی اور غیر پیشہ ورانہ رویے نے انجن کی اصلی صلاحیت کو محدود کر دیا اور متعدد حادثات کی بنیاد رکھی۔ ٹربائن بلیڈز، کمپریسر سسٹم، اور الیکٹرانک کنٹرول یونٹ (ECU) کی بروقت دیکھ بھال نہ کرنا، سینسر فالٹ، اور سافٹ ویئر میں نقائص نے بہترین ٹیکنالوجی کے باوجود جہازوں کو ناکام بنا دیا۔
بھارتی فضائیہ میں تکنیکی ٹیموں اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کی کمی بھی واضح ھے۔ انجینئرز جدید آلات کی مکمل اپڈیٹیشن اور مرمت کو نظر انداز کرتے ھیں، جبکہ پائلٹس کو بھی جدید ایویونکس اور ہنگامی ردعمل کی تربیت میں خلا محسوس ھوتا ھے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف طیارے حادثات کا شکار ھوتے ھیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا بھی ضیاع ھوتا ھے، جو دفاعی نظام کی سب سے بڑی ناکامی ھے۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں تکنیکی نظام کو مضبوط کیا گیا اور ہر سطح پر نگرانی، تربیت اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا گیا۔ ہر جہاز، ہر انجن اور ہر سسٹم کے لیے مکمل معائنہ اور اپگریڈیشن لازمی ھے، اور پائلٹس کو بھی ہر ہنگامی صورتحال میں درست فیصلہ کرنے کی تربیت دی جاتی ھے۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں فضائیہ کی حادثاتی شرح بھارت کے مقابلے میں بہت کم ھے۔
بھارتی فضائیہ کے حادثات میں پائلٹ کے حفاظتی نظام کی کمزوری بھی واضح ھے۔ ایئر بیگ، لائف سپورٹ اور ایمرجنسی ایجوکیشن سسٹم کی ناکامی کئی مواقع پر پائلٹ کی جان کو خطرے میں ڈالتی ھے۔ اس کے برعکس پاکستان کی فضائیہ میں حفاظتی آلات، ہنگامی ایجوکیشن، اور ایمرجنسی سسٹمز کو مسلسل اپڈیٹ کیا جاتا ھے تاکہ کسی بھی حادثے میں نقصان کم سے کم ھو۔
عالمی سطح پر بھارتی فضائیہ کے حادثات پر سخت ردعمل سامنے آیا ھے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین دفاعی وزیر پر تنقید کی اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تب تک محفوظ نہیں جب تک تربیت، نگرانی اور شفاف اصلاحات پر مکمل توجہ نہ دی جائے۔ شمالی کوریا کے صدر نے بھی طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارتی میزائل اور جہاز اگر ایسے ہی تباہ ھوتے رہیں تو شاید دنیا کے لیے یہ ایک “دیکھنے کی تربیت” کا موقع بن جائیں، لیکن حقیقت میں یہ بھارتی دفاع کی کمزوری کو ظاہر کرتا ھے۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا بنیادی بیانیہ یہ ھے کہ دفاع صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ نظم و ضبط، تربیت، پیشہ ورانہ معیار اور تکنیکی اپگریڈیشن کا ھے۔ ان کے زیر قیادت پاکستان کی فضائیہ میں نہ صرف جدید تربیتی پروگرام نافذ کیے گئے بلکہ ایویونکس، نیویگیشن، ہائیڈرولک سسٹمز، اور ایمرجنسی سسٹمز کی مکمل نگرانی اور مسلسل اپڈیٹس کو یقینی بنایا گیا۔ یہی وژن پاکستان کی دفاعی برتری کی اصل بنیاد ھے۔
بھارت میں ایندھن کی سپلائی، انجن کی مرمت اور ہنگامی ایڈجسٹمنٹ میں کمی نے متعدد حادثات کو جنم دیا۔ بھارت کے جدید انجن، خواہ جی ایم ہی کیوں نہ ھوں، تربیت اور دیکھ بھال کے فقدان کی وجہ سے ناکام ثابت ھوتے ھیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہر انجن کی مکمل اپگریڈیشن، ایندھن کی درست فراہمی اور مرمت کی موثر نگرانی یقینی بنایا جاتی ھے تاکہ نہ صرف جہاز بلکہ انسانی جانیں بھی محفوظ رہیں۔
پاکستانی قیادت کے مقابل بھارتی فضائیہ میں مسلسل ناکامی اس بات کا ثبوت ھے کہ صرف دکھاوے کی بنیاد پر جدید ہتھیار خریدنا کافی نہیں۔ عملی اقدامات، تربیت، نگرانی، اور شفاف اصلاحات میں بروقت سرمایہ کاری لازمی ھے۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے یہی اصول اپنایا، جس کی بدولت نہ صرف دفاعی معیار بلند ھوا بلکہ ملکی فضائیہ کی عالمی ساکھ بھی مستحکم ہوئی۔
بھارتی فضائیہ کے حادثات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ھیں بلکہ ان کی عالمی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ھیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی قیادت اور تربیت یافتہ افسران کی محنت نے دفاعی معیار کو مستحکم رکھا ھے، اور جنرل عاصم منیر کی بصیرت نے ہر نظام میں شفاف اصلاحات، سخت نگرانی اور مکمل تربیت کو یقینی بنایا ھے۔یہ حقیقت اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ھے کہ پاکستان کی مضبوط قیادت اور پیشہ ورانہ نظام بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کے مقابلے میں نمایاں برتری رکھتے ھیں۔ یہی فرق نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ خطے میں دفاعی توازن کی بنیاد ھے، اور یہی وژن مستقبل میں پاکستان کی فضائی اور زمینی دفاعی طاقت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ویژن کے مقابل بھارتی فضائیہ کی لڑکھڑاتی ٹیکنالوجی

25/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے