آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےتبلیغی جماعت
(شاہد بخاری)
دین اسلام میں بھت سے فرقے دیکھ کر علامہ اقبال بہت کڑھتے رہتے تھے۔انھوں نے بھت دکھ سے”جواب شکوہ” میں لکھا تھا کہ:
منفعت ایک ہے،اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی،الللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی؟ ھوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ھے کہیں اور کہیں ذاتیں ھیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ھیں؟؟
الللہ تعالیٰ کی مہربانی اور فضل و کرم سے فرقہ بندی و سیاست سے پاک صاف تبلیغی جماعت کی بنیاد 1926–27ء کے دوران مولانا محمد الیاس دھلویؒ نے میوات کے علاقے، جو دہلی کے قریب واقع ہے، میں رکھی۔ اُس وقت برطانوی ہندوستان میں مسلم معاشرہ دینی کمزوری، رسوم و رواج اور جہالت کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا۔
مولانا الیاسؒ دارالعلوم دیوبند اور مظاہرالعلوم سہارنپور کے فاضل اور نظام الدین دہلی کے مدرس تھے۔ حجِ بیت اللہ کے بعد ان کے دل میں امتِ مسلمہ کی اصلاح اور ایمان و عمل کی تجدید کی تحریک پیدا ھوئی۔انہوں نے عملی دعوت و تبلیغ کا بیڑا اٹھایا تاکہ عام مسلمان کو اسلام کے بنیادی اعمال — کلمہ، نماز، علم و ذکر، اور اخلاق — کی طرف واپس لایا جا سکے۔
مولانا الیاسؒ نے تبلیغ کا آغاز نہ کسی بڑے جلسے سے کیا اور نہ کسی سیاسی نعرے سے۔ ان کا طریقہ سادہ، غیرسیاسی اور عملی تھا۔ وہ خود مسجدوں اور بستیوں میں جا کر لوگوں کو نماز، اخلاق اور دینی شعور کی دعوت دیتے۔
انہوں نے “خروج فی سبیل اللہ” کا تصور دیا — یعنی چھوٹے چھوٹے قافلے چند دن یا چالیس دنوں کے لیے مختلف علاقوں میں جا کر دین کی بات پہنچائیں۔ ان کے نزدیک عملی دعوت ہی اصلاحِ امت کا راستہ تھی، اور یہی طرزِ عمل آج بھی جماعت کے بنیادی کام کی روح ہے۔قران کی سورہ بقر
کی آیت نمبر 104 کا مفہوم یہ ہے کہ : بنا جو رضا کار تبلیغ دیں
فلا ح ابد پائے گا بالیقیں
مولانا الیاس 1944ء میں وفات پا گئے۔ ان کے بعد ان کے فرزند ارجمند مولانا محمد یوسفؒ نے تحریک کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ اسی دور میں بڑے اجتما
عات، مرکزی نظام، اور بین الاقوامی روابط کا آغاز ہوا۔
1950 کی دہائی تک تبلیغی جماعت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک تک پھیل چکی تھی۔
بنگلہ دیش پرانوں OLD کے جوڑ میں ڈویژنل اجتماعات ڈھاکہ اور راج شاہی 12 تا 14 دسمبر 2025. چٹا گانگ اور کھلنا 11 تا 13 دسمبر ۔باریسال ،سلہٹ اور میمن سنگھ 18 تا 20 دسمبر 20 25کو منعقد ھوں گے۔
آج تبلیغی جماعت کے دو بڑے مراکز دنیا بھر میں جانے پہچا نے جاتے ہیں — نظام الدین دہلی (عالمی مرکز) اور رائےونڈ لاہور (پاکستان کا مرکزی مرکز)۔ یہ دونوں مقامات عالمی سطح پر تبلیغی قافلوں، اجتماعات اور دینی تربیت کے منظم نیٹ ورک کے طور پر کام کر رھے ہیں۔
راےونڈ مرکز کی بنیاد 1940 کی دہائی میں رکھی گئی تھی۔ مختلف حوالہ جات کے مطابق پہلا بڑا رائےونڈ اجتماع 1954ء میں منعقد ہوا، جبکہ بعض روایات کے مطابق اس کی ابتدا 1948 یا 1949ء کے آس پاس ہوئی۔
رفتہ رفتہ یہ اجتماع ایک عالمی دینی اجتماع میں تبدیل ہو گیا۔ آج اسے دنیا کا سب سے بڑا غیرسیاسی مذہبی اجتماع کہا جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد یہاں شریک ہوتے ہیں، چند دن قیام کرتے ہیں، دعوتی بیانات سنتے ہیں اور اختتامی دن کی اجتماعی دعا میں شریک ہوتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کے بنیادی اصول بہت سادہ اور عام فہم ھیں۔جب تک عربی نھیں سیکھ لیتے قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ باقاعدگی سے سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔مو لانا الیاس نے تحریک کے لیے چھ نکات مقرر کیے جو آج بھی اس کے کام کی بنیاد ہیں۔ ان میں ایمان و توحید کی پختگی، نماز کی پابندی، دینی علم و ذکر کا اہتمام، مسلمان بھائیوں کا احترام، نیت میں اخلاص، اور دین کی دعوت شامل ہیں۔ یہی اصول جماعت کی بنیاد اور اس کی روحانی سمت کے تعین کا ذریعہ ہیں۔
رائےونڈ اجتماع پر اعتراضات، تنقیدات و سوالات اور جوابات — کی نشستیں بھی ھوتی ھیں۔
رائےونڈ اجتماع تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع ہے۔ اس کی نوعیت صرف مذہبی نہیں بلکہ روحانی، دعوتی اور سماجی بھی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ مختلف ادوار میں بعض اعتراضات اور سوالات بھی منسلک رہے ہیں۔
تاریخی طور پر اس اجتماع کا بنیادی مقصد امتِ مسلمہ میں ایمان کی تجدید، عمل کی پختگی، اور دینی تربیت ہے۔ شرکاء چند دنوں کے لیے دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر فل ٹائم عبادت، ذکر، تعلیم اور مشورے کے ماحول میں رہتے ہیں۔ اختتامی دعا کو روحانی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
بعض ناقدین کے نزدیک اتنے بڑے اجتماع سے انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لاکھوں افراد کے اکٹھ سے ٹریفک، صفائی، رہائش، صحت اور سیکیورٹی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قریبی آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور حکومتی وسائل کا بڑا حصہ انتظامات میں صرف ہو جاتا ہے۔ کچھ اہلِ فکر کا کہنا ہے کہ ان اجتماعات میں وقتی جوش تو پیدا ہوتا ہے لیکن سماجی سطح پر کوئی مستقل تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بعض کے نزدیک جماعت کا غیرسیاسی رہنا اگرچہ امن و استحکام کے لیے مفید ہے، لیکن اس سے معاشرتی اصلاح کے دیگر پہلو، مثلاً تعلیم، فکری تربیت اور غربت کے مسائل پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔
کچھ لوگ اسے مخصوص فقہی مکتب سے وابستہ سمجھتے ہیں، حالانکہ جماعت خود کو امتِ مسلمہ کا مشترکہ پلیٹ فارم قرار دیتی ہے۔ خواتین کی محدود شرکت بھی بعض حلقوں میں بحث کا مو ضوع بنتی ہے، اور وبائی ادوار میں اتنے بڑے اجتماعات پر صحت و سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ھیں۔مرزا غالب نے کیا خوب فرمایا تھا کہ ۔۔۔ع۔۔۔۔۔
ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
اس کے برعکس، جماعت کے کارکنان اور حامی طبقہ ان اعتراضات کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔ ان کے نز دیک رائےونڈ اجتماع ایک روحانی تجدید گاہ ہے جہاں لاکھوں افراد ایمان تازہ کرتے ہیں، عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور دینی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اجتماع کے بعد ہزاروں






